حکمت آمیز باتیں-پندرہواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں یا اپنے لئے مشعل راہ بھی بنا سکتے ہیں۔

ہم نے محبت کو دل لگی کا کھیل سمجھ رکھا ہے آخرکب تک ہم محبت کے نام پر دوسروں کو برباد کرتے رہیں گے اور کب تک عشق کے نام پر دوسروں کی عزت خراب کرتے رہیں گے، کیا زخمی دل کی پکار اللہ تعالی تک نہیں جائے گی تو پھر ہم کیوں جان بوجھ کر کسی کے دل کو توڑتے ہیں؟؟ کب تک دکھی دلوں کی کہانیاں پڑھنے والوں کو رلائیں گی؟؟؟

گرگٹ رنگ بدلتا ہے، سانپ ڈستا ہے وہاں انسان جہاں حیوان بن کر وحشیت کا مظاہرہ کرتا ہے وہیں وہ محبت میں خود کو بھی فنا کرلیتا ہے اورفرشتہ صفت بھی بن جاتا ہے۔

یہ مت دیکھیں کہ کوئی آپ کو کیا کچھ دے سکتا ہے یا دے گا، یہ سوچیں کہ آپ کتنی خوشیاں کسی کے دامن میں ڈال سکتے ہیں۔دوسروں سے امید رکھنا ہی مایوسی کی جانب لے جاتا ہے اور پھر آپ بہت سے ذہنی امراض کا بھی شکار ہوتے ہیں لہذا جتنا جو بھی پاس ہو وہ عطا کرنا سیکھیں۔

زندگی میں سب کچھ آپ کے پاس آجائے تو پھر اس زندگی سے بہترین انداز میں لطف اندوز نہیں ہوا جا سکتا ہے، آپ بہت کچھ کھو کر بھی بہترین خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

دیکھیں ہر ضرورت پوری ہوتی رہے تو زندگی کے بہت سے رنگ ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں، جب کوئی شے نہ ملے اور یہ یقین کامل ہو جائے کہ رب العزت ہمیں اس کا نعم البدل بہترین شکل میں زندگی میں یا بعدازمرگ عطا کریں گے تو اپنے رب کے انعامات کا سوچنے سے یہ وہ ذات جو اپنے بندے سے بے پناہ پیار کرتی ہے جب ہمیں کچھ لے کر عطا کرے تو تو وہ انمول ہوگااور تب کی خوش آج کی مسرت سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اگر آپ نے کچھ دیکھ کر کچھ سمجھا لیا ہے تو پھر آپ یہ یاد رکھئے گا کہ اکثر جو ہم دیکھتے ہیں ویسا حقیقت میں نہیں بھی ہوا کرتا ہے لہذا کچھ کے کچھ کو دیکھنے کے لئے بھی تیاررہیں۔

کتنی مثالیں ہمارے سامنے روز آتی ہیں جہاں ہمیں اسلام کی صحیح تصویر دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے مگر پھر بھی ہم اسلام کی تعلیمات پر ٹھیک طرح سے عمل پیرا ہونے کو شاید اپنی سبکی محسوس کرتے ہیں یا لوگوں کی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر داڑھی رکھی لی تو لوگ کہیں گے کہ یہ تو بڑا مولوی بنا پھرتاہے یا اس طرح کی دیگر باتیں جو ہم عموما اپنی روزمرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ بھی پیش آ سکتی ہیں۔ہم اپنی عملی زندگی میں اس بات سے دور ہونے کی وجہ سے اسلام کی تعلیمات ہی ہمیں راہ حق کی طرح لے جاسکتی ہے بے شمار مسائل کا سامنا کرتے ہیں مگر اسی یہ وجہ سمجھنے کی بجائے یہ تصور کرتے ہیں کہ ہماری قسمت میں ہی ایسا لکھا ہوگا؟

جب تک بچوں کی تربیت خود والدین نہیں کریں گے، وہ ان کو کہیں بھی اچھے ادارے میں تعلیم دلوائیں یا ہوسٹل میں قید رکھ کر اچھا انسان بنانے کی کوشش کریں پھر بھی کمی رہ ہی جائے گی، ماں باپ کی تربیت کو تعلیمی ادارے اور ہوسٹل انتظامیہ کبھی پورا نہیں کر سکتی ہے۔

جس نے آپ کی زندگی میں رہنا ہے وہ آپ کے ساتھ جو بھی ہوگا تب تک ساتھ رہے گاجب تک وہ زندہ ہے،جس نے جانا ہے اس نے بہانے اور مناسب وقت کا انتظار کرنا ہے کہ کب رخصتی لی جائے،لہذا ابن الوقت افراد کی خاطر خود کو ذہنی اذیت کا شکار مت بنائیں،زندگی اتنی انمول ہے آپ اسے کسی کی بے حسی کی نظر مت کریں کہ آپ اپنی خوشیوں کو ہی ترس جائیں۔

جو اللہ سے ڈرتے ہیں وہ کبھی کسی کے ساتھ ذیادتی نہیں کرتے ہیں۔

زندگی میں کسی بھی میدان میں کامیابی کے لئے جذبہ اور محنت کے ساتھ حوصلہ قائم رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

محبت ہر بار ہو سکتی ہے، بار بار محبوب بدل بھی سکتے ہیں مگر ہم کسی کو نہ تو محبت کرنے سے روک سکتے ہیں نہ خود کو محبوب بنا لینے پر کسی سے لڑسکتے ہیں،مگر ہم محبت تقسیم ضرور کرسکتے ہیں کہ محبت سے بڑی کر کسی اور کو کیا خوشی ملے گی؟؟؟

دولت عورت کے نصیب سے مل سکتی ہے اور اولاد مرد کی بدولت ملتی ہے مگر پھر ہمارے ہاں عورت کو ہی کیوں آخر گھر سے باہر محض اولاد نہ ہونے کی بنا پر نکالا جاتا ہے؟؟؟
اولاد نہ ہونے کے اسباب تو کچھ بھی ہو سکتے ہیں، یہ تو رب کی مرضی ہے کہ کسی کو کسی بھی وجہ سے اولاد نہ دے مگر ہم اس کی ذمہ داری کیوں عورت پر ڈالتے ہیں؟؟؟

سچ بولنے کے جتنے بھی نقصانات جھیلنے پڑیں مگر آخر میں سکون ہمارا منتظر ہوتا ہے کہ وہ ہمیں ہر شے سے بے نیاز کر دے۔

اکثر ہماری کہی ہوئی باتیں ہمارے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں اور ہمیں بھاگنے بھی نہیں دیتی ہیں،ہمیں اپنےضمیر کو حساب دینا پڑتا ہے۔

جو اپنی انا کو مار دینے کا حوصلہ رکھتا ہے وہی جھکنا پسند کرتا ہے۔

حسن تو ایک دن فنا ہو جائے گا مگر حسن اخلاق بعد ازمرگ بھی زندہ و جاوید رہتا ہے۔

اللہ کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے، دعا کیجئے ہمارے حق میں جو بہتر ہو وہ سامنے آئے ،اکثر ہماری سوچ ایسی ہوتی ہے جس سے نقصان ہونا ہوتا ہے تو وہ نہ ہو تو ہی ہم محفوظ رہ پاتے ہیں۔

محبت اپنا آپ منوالیتی ہے آپ کو کچھ کہنے یا ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

دوسروں کو خوشیاں عطا کرنے والوں کو بہت کم ہی غموں میں جینا پڑتا ہے۔

ماضی میں دیکھنے سے نہیں بلکہ اپنے آج کو دیکھنے سے آپ کل کے لئے مستقبل بہتر کرنے کی کوشش کریں تو ہم کامیاب زیادہ ہو سکتے ہیں ،ماضی کو اسقدر دیکھیں کہ کیا غلط کیا تھا، کیا کمی رہ گئی تھی۔جب تک آپ اپنے آج کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی فکر نہ کریں تو آپ ماضی کو دیکھ کر سوچ کر محض کڑھ ہی سکتے ہیں ،کچھ اچھا حاصل کم ہی کر سکتے ہیں،لہذا ماضٰ کو سوچنے سے بہتر ہوگا کہ آپ اپنے آج اور کل کی فکر کریں کیونکہ آج ہاتھ میں آیا ہوا ہے اور کل آئے گا لیکن ماضی لوٹ نہیں سکتا ہے تو اسکی طرف دیکھنے کا فائدہ کم ہی حاصل ہوگا۔

انسان کے بس میں جو ہوتا ہے وہی وہ کسی کو عطا کر سکتا ہے، جس کے پاس رب کی طرف سے جتنا عطا ہوتا ہے وہی وہ تقسیم کر تا ہے۔

مثبت سوچ رکھنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے ہیں، جہاں آپ نے منفی سوچ رکھ لی وہاں آپ کی ناکامی منتظر ہو سکتی ہے کہ اکثر سوچ ہی انسان کو ناکام کر دیتی ہے۔

رشتہ نبھانا اور توڑنا میاں بیوی کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اگر وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہنا چاہیں تو کوئی بھی تیسرا محض موقع سے فائدہ اٹھالیتا ہے اور یہ موقع میاں بیوی ہی فراہم کرتے ہیں۔

برا تب ہوتا ہے جب ہم اللہ کی مقرر کردہ حد سے زیادہ آگے چلے جاتے ہیں یا پھر کسی آزمائش پر خود کو کھڑا دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں جو صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہیں انکے ساتھ کبھی غلط نہیں ہوتا ہے۔

اپنی شناخت کو چھپانے کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور اپنی ذات کو اس قابل نہیں سمجھتے ہیں کہ ہم کسی قابل ہیں۔

کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جن کی ہم دل سے بہت عزت کرتے ہیں مگر ان کا اپنا ہی عمل ایسا ہو جاتا ہے کہ ہمیں کچھ ایسا کہنا پڑ جاتا ہے کہ انکی اوقات انکو پتا چل جاتی ہے شاید یہ بھی کسی مکافات عمل کے تحت ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اپنے آپ کو خدا نہیں انسان سمجھ سکیں۔

طنز دل میں اتر جاتا ہے مگر اپنی کوتاہی اورقصور ہمیں کبھی نظر نہیں آتا ہے۔کسی کی کہی بات اکثر ہمیں تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔

جب انسان حقیقت سے کچھ زیادہ خواب بن لیتا ہےتو وہ اکثر ٹوٹتے ہیں اس پر انسان کو خواب ٹوٹنے کا غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسے خواب دیکھنے پر افسوس کرنا چاہیے کہ اس نے ایسا خواب کیوں دیکھا،امید اچھی چیز ہے مگر امید کا دامن بھی تب باندھنا چاہیے جب حقائق بھی کچھ ایسا امید کا تقاضا کریں۔

عورت کا احترام کرنا وہی جانتے ہیں جن کو کسی عورت نے تعظیم کرنا سکھلائی ہو۔

شور مچانے سے مکافات عمل رک نہیں سکتا ہے، جب انسان کے خلاف برا ہوتا جائے تو سمجھنا چاہیے کہ گناہوں کا بوجھ زیادہ ہو چکا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 303 Articles with 263325 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
07 Apr, 2018 Views: 625

Comments

آپ کی رائے
عمدہ بہت اعلی باتیں ہے۔
By: Roshni Riaz, Lahore on Sep, 14 2018
Reply Reply
0 Like