میزائل ٹیکنالوجی اور پاکستان

(ATHER HASAAN RIZVI, Karachi)

کروز میزائیل

تھرڈ ورلڈ ممالک کے ساتھ پاکستان بھی ترقی کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے ، جہاں معاشرہ اتنے مسائل میں گھراہواہے وہیں ملک میں ٹیکنالوجی کا تیزی سے بڑھتاہوا دور مملکت اسلامیہ کیلئے اور اسکی حفاظت کیلیئے انتہائی کامیابی کا باعث ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں بابر کروز میزائیل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔پاکستان اس سے پہلے کروز میزائیلوں کو زمین سے زمین ،فضا سے زمین ،بحری جہاز سے بحری جہاز میں فائر کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے ۔اس مرتبہ پاک بحریہ کی آبدوز سے فائر کیا گیاہے جو اس سر یز کا نیا کارنامہ ہے ۔اس میزائیل کی مار250 کلو میٹر ہے اور اس میزائیل کی وجہ سے پاکستان کی حملہ آور صلاحیت میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔بابر کروز میزائیل کو جدید آگسٹا۔نائنٹی بی سے فائر کیا گیا جس کی مار 750 کلو میٹر تھی ۔پاکستان نے اس پروگرام کو 2005ء میں شروع کیا تھا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انڈیا امریکہ سے پٹریاٹ انٹی میزا ئیل خرید رہا تھا اور بیلسٹک میزائل کو اس سے تباہ کیا جا سکتا ہے جبکہ کروز میزائل کو ڈھونڈنا اور تباہ کرنا آسان نہیں ہوتا پاکستانی کروز مزائل (حتف۔۷)زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی مار 450سے 800 کلو میٹر اور رفتار 550 میل فی گھنٹہ سے 800 میل فی گھنٹہ ہو سکتی ہے یہ امریکی ٹام ہاک کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ بابر کروز میزائل کی فضا سے زمین پر مار کرنے والی ساخت کو راد کا نام دیا گیا ہے اس کو پاک فضائیہ کے میراج ۔۱۱۱ روز اور جے ایف17سے بھی کامیابی سے فائر کیا گیا تھا، اس کے بعد جنوری2018 ء میں اس کو بحری جہاز سے بحری جہاز میں فائر کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔بابر کروز میزائل کو عظمت کلاس تیز رفتار میزائل بوٹ سے فائیر کیا گیا ۔

بابر کروز میزائل کو جدید آگسٹا۔نائنٹی بی سے فائر کرنے کا مقصد دوسری دفاعی لائین کو ٹیسٹ کرنا تھا اس خیال کو 1974 ء میں روس نے امریکہ کے ایٹمی خطرے کے پیش نظر ترتیب دیا تھا، اس نظریہ کے تحت اگر امریکی اچانک روس پر بہت بڑا ایٹمی حملہ کر دیں تو روس کے لئے زمینی حملے کے لئے وقت اور وسائل محدود ہوسکتے ہیں ۔ایسے میں سمندر میں موجود آبدوزیں ہی جوابی کاروائی کے قابل ہو سکتی ہیں، ان کو کروز میزائلوں سے لیس کر دیا جائے تاکہ وہ فوری جوابی کاروائی کرکے دباؤ کو بھی کم کر دیں اور ملک اور فوج کو صف آراء ہونے کے لئے کچھ وقت مل جائے۔پاکستان نے نیول سٹرٹیجک فورس کو 2012ء میں ترتیب دیا اور پاکستان بحریہ اس نئی دفاعی سوچ کے لئے اپنی طاقت اور وسائل میں ترقی اور بہتری لا رہی ہے ۔اس سے پاکستان کی ہر طرح کے ماحول اور حالات میں تیاری اور سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ATHER HASAAN RIZVI

Read More Articles by ATHER HASAAN RIZVI: 10 Articles with 6172 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2018 Views: 551

Comments

آپ کی رائے