چیونٹیاں

(Areeba Fatima, Sialkot)

 زمین کو بہت وغوروفکر سے دیکھا تو ننھی اور پیاری سی مخلوق جس کو ہم چیونٹیاں کہتے ہیں بڑے آرام سے اس سخت زمیں کو قالین سمجھ کے رینگتی ہوئی نظر آئیں۔۔ہم اﷲ کی اس مخلوق کو کتنا حقیر سمجھتے ہیں یہ خیال آیا تو دل چاہاکیوں نہ زمیں پہ ایسے چلا جائے کہ انکو کوئی نقصان نہ پہنچے۔خدا کی یہ مخلوق میرے پاؤں تلے کچلی نہ جائے۔میں نے انکو بچا کر چلنے کی کوشش کی لیکن خدا کی قسم چلنا بہت مشکل ہوگیا جہاں قدم رکھنا ہوتا وہی پہ کسی چیونٹی کے کچلے جانے کا اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے۔میرا کوئی بھی قدم اٹھانا بہت دشوار ہوگیا تھا۔ میں سوچنے لگی کہ یہ حاکم اور محکوم ، حکمران اور رعایا حتیٰ کہ کسی بھی گھریلو ، کاروباری و ملکی انتظام میں سربراہ اور ماتحتوں کا مقام بھی انسان اور چیونٹی سا ہی ہوتا ہے۔بڑے رتبے والا انسان اور ماتحت رہنے والے سب چیونٹیاں بنے ہوئے ہیں۔حاکم ،حکمران اور سربراہ کی نگاہ میں ماتحتوں کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو ہماری نظر میں ایک چیونٹی کی ہوتی ہے۔ زمیں پہ رینگنے والی چیونٹیاں ہوں یا چلنے والی سبھی بھاری قدموں تلے دبتی ہی جارہی ہیں۔حاکم کے لیے چلنا بھی بہت دشوار ہوتا ہے اسکا کوئی بھی قدم ماتحت چیونٹی کا حق تلف کر سکتا ہے۔ناجانے اس دنیا کے کتنے حاکم اپنی بھاری آواز اور اپنے اقدامات تلے ڈھیروں چیونٹیوں کی آہیں اور فریادیں دبائے جارہے ہیں۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ انہیں اس چیز کا احساس ہی نہیں ہوتا جیسے ہمیں زمین پہ چلتے ہوئے چیونٹی کے کچلے جانے کا احساس کبھی نہیں ہوا۔ زندگی گزارنے کے لیے ہمارا واسطہ کبھی چھوٹوں سے پڑتا ہے اور کبھی بڑوں سے۔ جب ہم کسی حاکم کے روبرو ہوں تو ہماری حیثیت چیونٹی سی ہو جاتی ہے تب دل میں یہی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے حقوق کی ادائیگی کی جائے لیکن۔۔۔۔۔۔۔جونہی قدرت ہمیں کوئی اعلیٰ مقام عطا کرکے چیونٹیوں کے کسی گروہ کو ہمارے روبرو کرتی ہے توہم انکی حق تلفی کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ یہاں ہر شخص لینا چاہتا ہے مگر دینا نہیں۔لیکن قدرت کا تو قانون ہے جو دیتا ہے وہی پاتا ہے۔اگر ہم اپنی حق تلفی نہیں چاہتے تو دوسروں کو حق دینا پڑے گا۔یہ دنیا مکافات عمل ہے جوکروگے وہی بھرو گے۔ایک جگہ اگر ہم کسی کو کچلیں گے تو کسی اور جگہ کچل دئیے جائینگے۔کچلنا چھوڑدیں ورنہ کسی بھاری قدم کا شکار ہم بھی بن سکتے ہیں۔

قارئین کرام !!!حاکم بننا آسان نہیں ہوتا۔سچے و ایماندار حاکم کو تو ہمیشہ نیچے دیکھ کر چلنا پڑتا ہے۔لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ محکوم حاکم کو اور حاکم اپنے مقام کو بلند کرنے کے لیے بجائے نیچے دیکھنے کے فضاؤں میں اڑنے کے خواب دیکھ رہا ہے یہ خواہش لیے ہوئے کہ کاش یہ رتبہ یہ کرسی میری ہو جائے۔مجھے لگتا ہے حاکم اگر محکوم کو دیکھتے ہوئے کوئی قدم اٹھائے تو محکوم اپنے بازؤں پر بیٹھا کر اسے عرش پہ بیٹھا دے گی اور اگروہ محکوم کو دیکھنے کی بجائے اپنے سے اونچے اقتدار کو دیکھتا رہا تو وہ موجودہ اقتدار بھی کھو دیگا۔
مکرمی!!!! حاکم محض حکمران ہی نہیں۔۔۔۔ بلکہ ہر کوئی کبھی حاکم ہوتا ہے اور کبھی محکوم۔۔

کبھی کسی استاد کی شکل میں حاکم کبھی والدین کی شکل میں حاکم اور کبھی ادارے کے سربراہ یا کسی علاقے کے امیر یا پھر اپنے گھر کے تمام امور سونپ دئیے جاتے ہیں ۔ ہمیں ان حالات میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ہمارے ایک بے معنی قدم سے کئی لوگوں کی امیدیں اور ضروریات منسلک ہوتی ہیں۔ہمیں خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں ہمارے حکم ،ہماری خواہشات و جذبات سے دوسروں کی حق تلفی نہ ہو جائے۔یہاں کوئی عمرؓ نہیں رہتا جو ایک چوپائے کے بھوکا مر جانے پہ بھی جواب دہ ہونے سے ڈر جائے۔ حکومت کو تنقید کرنے کی بجائے جہاں ہمارا حکم چلتا ہے جہاں ہم حاکم بنائے گئے ہیں خواہ کوئی بڑا نظام ہے یا چھوٹا۔۔۔ وہاں ہمیں منصف بننا ہے کسی بھی شخص کا حق نہیں مارنا۔اپنی بھاری اور بارعب آواز سے ہم بے بس فریادوں کو خاموش کر چکے ہیں۔ہمیں ہر شخص کو عزت دینی ہیں۔اگر اﷲ نے ہمیں کوئی مقام عطا کردیا ہے یہ اسکی عنایت ہے ورنہ ہم تو اس قابل نہیں ہیں لیکن اس مقام کو اس کا تحفہ سمجھتے ہوئے اسکی قدر کرنی ہے ۔تخفے کی قدر یہی ہے کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے کیونکہ ہمیں جوبداہ ہونا پڑے گا۔ لوگوں سے اگر کوئی کوتاہی ہو جائے تو انکو معاف بھی کرنا چاہیے۔قربان جاؤں اس نبیﷺ پہ جس نے فرمایا اگر غلام کو ستر بار غلطی کرنے پہ بھی معاف کرنا پڑے تو اسے معاف کردو۔ہم تو ایک موقع بھی نہیں دیتے۔سرِعام عزت نیلام کردیتے ہیں۔طعنوں و تنقیدسے عزتِ نفس مجروح کرتے ہیں۔خدارا !!! غوروفکر کرئے کہیں چیونٹیاں ہمارے پیروں تلے کچلی تو نہیں جارہیں اگر ایسا ہے تو پھر ہم بھی کسی بھاری قدم کا شکار بننے والے ہیں۔بشکریہ پریس لائن انٹرنیشنل

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Areeba Fatima

Read More Articles by Areeba Fatima: 51 Articles with 24593 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Apr, 2018 Views: 878

Comments

آپ کی رائے