معاشرتی برائیاں اور ان کا حل

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: انوشے صدام، پشاور
پاکستانی معاشرے کو دیکھا جائے تو یہ ایک منتشر معاشرہ ہے جو بیک وقت مختلف عناصر مثلاً الگ سیاسی سوچوں ، فرقے، رنگ، نسل، زبان، امیر، غریب، مختلف کلچر اور روایات پر مشتمل ہے اور ان مختلف عناصر کی وجہ سے ہی معاشرے میں کافی تناو ہے۔ یہ تناو صوبائیت، نسل پرستی اور امیر غریب کے فرق کو زیادہ ابھار رہا ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بہت اہم مسئلہ وہ سوچ ہے جو امیر غریب کے فرق کی وجہ سے پروان چڑھ رہی ہے اور جس کی وجہ سے مادہ پرستی بہت عام ہو رہی ہے۔ اس مادہ پرستی نے معاشرے کے عام آدمی کو ذہنی اور اخلاقی طور پر مفلوج کر دیا ہے اور احساسات سے عاری کردیا ہے۔ مادی زندگی کے زور پر زندگی بہت مشکل اور ناخوشگواری سے گزرتی ہے ایسی زندگی تلوار چلاتے گزرتی ہے، مقابلے کی تلوار، کمپیٹیشن کی تلوار، چالاکی اور ہوشیاری کی تلوار، مقام اور منصب تلاش کرنے کی تلوار۔ تقدیر کے قاضی کا یہ طے شدہ فیصلہ ہے جو تلوار کیساتھ زندگی بسر کرتا ہے وہ تلوار سے ہی قتل ہو جاتا ہے اور یہی اس کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔ جب معاشرے میں مادیت پرستی عام ہو جائے تو تخلیقی سوچ ناپید ہو جاتی ہے اور تخریبی سوچیں جنم لیتی ہے جو معاشرے میں شدید تناو پیدا کر رہی ہے۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غربت کی شرح میں اضافہ نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لوگوں کو اس امیر غریب کے فرق کو مٹانے کے لیے تخریبی سرگرمیوں میں الجھایا ہْوا ہے۔ اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے اگر اسلامی قوانین ہی اپنی اصل شکل میں رائج ہوں تو ایسے معاشرتی فرق جنم ہی نہ لیتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں اسلامی قوانین اور زکوٰۃ و عشر کا نظام اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ تھا اس لیے کچھ ہی عرصے میں دولت کی ایسی منصفانہ تقسیم ہوئی کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا (صاحبِ نصاب) موجود ہی نہیں تھا یعنی کوئی غریب ہی نہیں تھا۔

اِسی طرح معاشرتی برائیوں میں ایک اور اہم برائی برداشت کی کمی اور سوچوں میں ہم آہنگی نہ ہونا ہے جس کا سارا سہرا آج کل کے دور میں سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔ اگر ہم عالمی حالات دیکھیں تو جو قومیں انتشار کا شکار ہیں وہاں کی زیادہ آبادی سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں، جو معاشرے میں منفی رویوں اور عدم برداشت کو فروغ دے رہی ہیں۔ اگر آپ باقی قوموں کا چین سے مقابلہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ آج دنیا میں چائنہ ایک گولی چلائی بغیر سپر پاور بننے جا رہا ہے صرف اپنے سوفٹ پاور پر کنٹرول کی وجہ سے یعنی چائنہ میں سوفٹ پاور جس میں میڈیا سینٹرک ٹول جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور بچوں کی پلے اسٹیشن گیمز وغیرہ سب پر پابندی ہے ان کا کوئی استعمال نہیں کر سکتا ۔ اسی لیے وہاں کی آبادی مثبت سوچوں کے ساتھ ملک کی ترقی میں مگن ہیں نا کہ ہماری جیسی قوموں کی طرح جو سارا دن ایسے فورمز پر نفرتیں اور اختلافات پھیلا کر ایک دوسرے پر نکتہ چینی کر کے سارا وقت تخلیقی اور ملک کی ترقی کی بجائے تخریبی سوچیں بانٹتے ہیں۔ہمارا معاشرہ جو پہلے سے ہی منتشر عناصر کا مجموعہ ہے۔ جیسے مختلف زبان، کلچر، فرقہ واریت، سیاسی پسندیدگی، مختلف قومیتں اور رنگ و نسل تو ایسے سوشل فورمز کے بے دریغ استعمال سے آپس کے اختلافات اور زیادہ ہائی لائٹ ہو رہے ہیں جو معاشرتی بگاڑ اور عدم استحکام کا موجب بن رہے ہیں مگر ایسے فورمز کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی عزت مجروح کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتے کبھی سیاسی یا مسلکی وابستگی کی آڑ میں اور کبھی عِلم و جانکاری کے غرور میں۔

ہمیں چین کی مثال سامنے رکھ کر اِن تمام میڈیا سینٹرک ٹولز کے استعمال کو ایک قانون کے دائرہ کار میں لائیں، ورنہ جو نئی نسل ایسے اختلافات دیکھ کر پروان چڑھے گی وہ معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا کریں گی۔ اس کے لیے ایک مظبوط قانون سازی کی ضرورت ہے جو ایسے سارے فورمز کو ایک ضابطہ میں لائیں۔

اس کے علاوہ بیڈ گورننس، حکومتی کمزور پالیسیاں، کرپشن اور سیاسی عدم استحکام نے بیروزگاری کو بہت فروغ دیا۔ جس کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز، خودکشی، امن و امان کی بدتر صورتحال، انسانی اعضاء کی اسمگلنگ، دہشتگردی، اغوا برائے تاوان جیسی معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔ ٹیکسوں کی بھرمار، کمزور معاشی پالیسیاں اور دہشتگردی کی وجہ سے کئی بڑی صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ زراعت اور صنعت کے شعبوں کو ترقی دیں۔ صنعتکاروں کے لیے ایسے مواقع پیدا کریں اور امن وامان کو اتنا مثالی بنائیں کہ باہر سے بھی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کیلئیے آئیں، اس سے بیروزگاری کی عفریت سے نوجوانوں کو چھٹکارا ملے گا۔

تعلیم کے شعبے میں زیادہ کام کرنا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ یکساں تعلیمی نظام اور تعلیمی سہولیات ہر طبقہ کو میسر ہونا چاہئییمگر بد قسمتی سے امیروں کے بچوں کا نظام تعلیم اور تعلیمی سہولتیں بالکل مختلف ہیں غریب طبقہ کے بچوں کے تعلیمی نظام سے اور اصل برائی کی جڑ اسی نظام میں طبقاتی تقسیم ہے۔ یہی سے نئی نسل میں احساسِ کمتری اور منفی سوچوں کی داغ بیل پڑتی ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو چاہئیے کہ تعلیمی بجٹ میں زیادہ فنڈز یکساں نظامِ تعلیم اور غریب کے بچوں کو بہترین تعلیمی سہولیات دینے کے لئیے مختص کرے۔

اس کے علاوہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے مجموعی رویے بھی انکی حالت کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لوگوں کا المیہ ہے کہ وہ اﷲ سبجان تعالیٰ کی بجائے سیاستدانوں اور اور اپنے من پسند سیاسی رہنماؤں کو اپنا رازق سمجھتے ہیں اور وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے معاشی حالات ان کے پسندیدہ لیڈر کے آنے کے بعد ہی بدلیں گے اس لیے سارا دن کوئی تعمیری کام کے بجائے سوشل میڈیا پر اپنے لیڈروں کے دفاع میں وقت گزارتے ہیں جن کا اپنا مقصد بھی صِرف اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ رازق صِرف اﷲ کی ذات ہے نا کہ ہمارے من پسند لیڈر۔ معاشرے اور قوموں کے حالات وہاں بسنے والے لوگوں کی انفرادی ایمانداری اور خلوص سے بدلتے ہیں۔ اس لیے معاشرے میں رہنے والے ہر شخص پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے معاشرتی مسائل اور برائیوں کے سدِباب اور ان کے حل کے لیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 500838 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2018 Views: 199

Comments

آپ کی رائے