سستی اور مہنگی تعلیم

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ثوبیہ اجمل، لاہور
تعلیم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت کی بنیادی ضرورت ہے ۔ تعلیم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو غلط اور صحیح کی تمیز سیکھاتی ہے اور یہ سیکھاتی ہے کہ ہمیں معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے ۔ اسلام نے بھی تعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض قرار دی دیا۔ دنیا میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ۔ اس کے لیے بھی علم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس میں کامیابی کا راستہ پنہاں ہے۔ اسی لئے بچپن ہی سے ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائیں۔ ماضی میں تو یہ ہوتا تھا کے صرف سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے مگر اب کچھ دہایوں سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جن کی فیس بہت زیادہ ہے اور ایک غریب آدمی اس کی سکت نہیں رکھتا۔ اس لئے اسے مجبوراً سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں داخل کرانا پڑتا ہے جہاں تعلیم کا معیار بہت ہی پست ہے ۔ جبکہ مہنگے پرئیوایٹ اسکولوں میں بچوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے کیونکہ وہ بچے اسکول مالکان کی آمدن کا ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگی مہنگی اکیڈمیز کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں۔ عام اسکولوں میں پڑھنے والے بچے پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہی ہو گا کہ امیر امیر تر ہو گا اور غریب غریب ہی رہے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور سستا کیا جائے تا کہ کوئی بھی تعلیم سے محروم نہ رہ جائے او ر سب کو یکساں مواقع میسر آسکیں۔ تب جا کر ایک پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل پا سکے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1254 Articles with 531118 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2018 Views: 626

Comments

آپ کی رائے