عشق رسول صل اللہ علیہ وسلم کے تقاضے

(Sanaullah Mazari, India)

حدیث شریف میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:''میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں.'' اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری کی وجہ سے ادیان سماویہ کو منسوخ فرمایا اور تا قیامت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات مقدسہ کو امت کے لیے اسوہء حسنہ قرار دیا ۔ قیامت تک ہر انسان اگر آپ علیہ السلام کے نقش قدم پر چلے گا تو کامیاب اور سرفراز ہوگا ورنہ ہمیشہ کے لیے ناکام و نامراد ہوگا، اس لیے اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا: ’’تمھارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔‘‘ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کے اسوہء حسنہ پر چلے۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت طیبہ کے دو حصے ہیں: ایک پیدائش سے نبوت ملنے تک اور دوسرا نبوت ملنے سے رحلت فرمانے تک۔ ان دونوں حصوں کو علمائے کرام اور اکابرین نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اگر آپ علیہ السلام کی تریسٹھ سالہ مبارک زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی تین حصوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان میں سے ہر حصے کو اپنی زندگی کا جزو بنائے۔

ان میں سے پہلا حصہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی ذات عالی صفات سے محبت ہو حتی کہ پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت مال و دولت اور اہل و عیال سے بڑھ کر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادعالی ہے: ''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کو والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ میری ذات سے محبت نہ ہو۔'' اگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو تمام صحابہ کرام نے آپ علیہ السلام سے محبت کا بدرجہ کامل حق ادا کیا۔ جیسے غزوہ بدر کا وقت یاد کرتے ہوئے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بتایا کہ جنگ بدر میں آپ کئی مرتبہ میرے نشانے پر آئے تھے ۔ اگر میں چاہتا تو آپ کو قتل کر دیتا (کیوں کہ عبد الرحمن بن ابی بکر اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کی طرف سے شریک ہوئے تھے۔)لیکن میں نے اس لیےچھوڑ دیا کہ آپ میرے والد ہیں۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ: ’’اگر اس وقت تم میرے سامنے آتے تو میں تمہیں قتل کر نے میں کچھ بھی رعایت نہ کرتا۔‘‘

دوسرا حصہ عقیدت ہے۔ عقیدت کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جو دین لے کر آئے وہ حق وسچ ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ اس پہلو سے بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے اعلی مثال پیش کیں۔ مثلاً ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ممبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کچھ صحابہ کرام مسجد میں کھڑے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےانہیں بیٹھنے کا حکم فرمایا ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے ۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز مبارک کانوں میں پڑی، فوراً بیٹھ گئے حتی کہ ایک پاؤں مسجد کے اندر تھا اور دوسراباہر۔ یہ نہیں دیکھا کہ یہ حکم تو مسجد کے اندر والوں کے لیے ہے بلکہ فوراً اطاعت فرمائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس حالت میں دیکھا تو فرمایا کہ یہ حکم تمہارے لیے نہیں تھا۔

تیسرا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن مبارکہ سے محبت ہے۔ تمام صحابہ کرام نے آپ علیہ السلام کی سنت مبارکہ سے عشق کی حد تک محبت کی۔ چناں چہ رومی بادشاہ کے دربار میں کھانا کھاتے ہوئے ایک صحابی کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑا تو فوراً اسے صاف کر کے کھا لیا۔ کسی نے کہنی لگائی کہ یہ لوگ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ارشاد فرمایا ’’کیا میں ان بے وقوفوں کی وجہ سے اپنے محبوب پیغمبر کی مبارک سنت چھوڑ دوں؟‘‘ اللہ تعالی نے صحابہ کرام کی بے لوث محبت کو دیکھتے ہوئے سورۃ بینہ آیات نمبر 8 میں فرمایا:
"رضی اللہ عنھم و رضو عنہ" وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اللہ ان سے راضی ہو گیا۔

دور حاضر میں اگر امت مسلمہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت کے ان تینوں پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر اپنی زندگی کو جانچے کہ جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت، اطاعت اور عقیدت میں اعلی مثالیں پیش کیں، کیا ہم بھی ان ہی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت، اطاعت، اور عقیدت رکھتے ہیں؟ شایدجواب نفی میں آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علم غلط استعمال ہونے لگا ہے۔ ہم نے اسلام کے نام پر نت نئے رسم و رواج شروع کر دیے ہیں جن کا اسلامی تعلیمات میں کہیں ذکر نہیں۔ یعنی ہم پورے سال میں ایک دن صرف چند گھنٹے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت، عقیدت، اور اطاعت کا تصور پیش کرتے ہیں ۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ لمحہ بہ لمحہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تذکرے میں گزارتے تھے ۔ جہاں دو صحابہ کرام اکٹھے ہوتے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث مبارکہ ، آپ کے ارشادات اور آپ کی دی ہوئی تعلیمات کا تذکرہ فرماتے تھے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے یہ سب کچھ پس پشت ڈال دیا ہے۔

سورۃ آل عمران آیات31 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں.'' کہہ دیجیے اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو میری تابع داری کرو ، خود اللہ تم سے محبت کریگا اور تمھارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنتوں پر چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن مبارکہ کو عملی طور پر اپنی زندگی میں بیدار کر کے انہیں اپنائیں۔ چوں کہ سیرت طیبہ کا ایک ایک ورق قرآن و حدیث کی صورت میں محفوظ ہے۔ صرف ہمیں غور و فکر کرنے اور عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے.

جن چیزوں کے فوائد و نقصانات آپ صلی اللہ علیہ و سلم آج سے چودہ سو سال پہلے اپنی امت کو بتا چکے ہیں، سائنس اور مغرب آج ان سے آگاہ ہو کر سلام کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صرف نام کے عاشق نہ بنیں بلکہ نام اور کام دونوں کے حقیقی عاشق بنیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک سنتوں پر چل کر دونوں جہانوں میں کامیابیاں حا صل کریں۔

نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sanaullah Mazari

Read More Articles by Sanaullah Mazari: 3 Articles with 2481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2018 Views: 1444

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ