ان غلاف کعبہ کے رنگیں نظاروں کو سلام

(Shireen Hussain, Karachi)

کسویٰ کی تیاری پر ایک سال میں 17,000,000سعودی ریال کی لاگت آتی ہے

سیاہ اور سنہری رنگ کے غلا ف سے ڈھکا مقدس مقام جو خانہ کعبہ کے نام سے موسوم ہے،فلسطین میں واقع قبلہ اول یعنی مسجد اقصٰی کے بعدمسلمانوں کاقبلہ ٹھہرا اور اس وقت دنیابھر کے تمام مسلمانوں کے لئے زیارت کا ا ہم ترین مقام ہے جس کے دیدار کے لئے دنیا کے کونے کونے سے کروڑوں مسلمان ہرسال آتے ہیں اور پھر مطاف سے بلند ہوتی ـ’اﷲ اکبر‘کی صدائیں ما حول میں وجدکی کیفیت طاری کرتے ہوئے سب کو یکجا کر دیتی ہے پھران میں کوئی رنگ،نسل، زبا ن،فرقہ اورذات کا فرق باقی نہیں رہتا ۔اس مقدس خانہ کعبہ اور اس کی تعمیرکی ایک وسیع تاریخ موجود ہے جس سے یقینا بہت سے لوگ واقف نہیں۔انہیں میں سے چندحقائق یہ بھی ہیں۔

خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسمعیل ؑنے کی مگر مو ر خین کے مطا بق یہ مقام ا س دنیاکی تعمیر سے پہلے سے ہی طے شدہ تھا اس مقام کو بیت المقدس کا درجہ اس وقت دیا گیا جب آسما نو ں اور زمینوں کا کوئی وجودہی نہ تھا۔ خا نہ کعبہ کے عین اوپر آسمانوں میں بیت المعمور کی تعمیر ہو ئی جس کے گرد روزستر ہزار فرشتے طواف کر تے ہیں تا ہم یہ بات کسی روایت سے ثابت نہیں کہ بیت المقدس اور بیت المعمور ،دونوں میں سے پہلے کس کی تعمیرہوئی۔

خانہ کعبہ اپنے ابتدائی دور میں موجودہ شکل سے یکسر مختلف تھا۔ پہلے اس میں دو دروازے اور ایک کھڑکی تھی جبکہ دروازے سطح زمین کے برابر تھے تاکہ ہر عام اور خاص شخص اندر جا سکے ۔ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے او ر دوسرا باہر جانے کے لئے تھا بعد میں دروازوں کوسطح زمین سے بلند کردیاگیا جس کی وجہ یہ بتا ئی جا تی ہے کہ خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہو ئے نذروونیازکوچوری ہونے سے بچایاجا سکے اور یوں دروازوں کواونچاکر کے عام لوگوں کا داخلہ بندکر دیا گیا۔ مختلف ادوار میں خانہ کعبہ کی وقتاً فوقتاًتعمیر ہوتی رہی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا سب سے بڑا حصہ رسول اﷲ ﷺکے دور میں طے پا یا جب قریش مکہ کے سرداروں نے آپ ﷺکوثالث مان کر حجراسودکو ایک چادرمیں رکھ کر خانہ کعبہ پر نصب کیا۔حجراسود،جنت کا پتھرہے جس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ حضرت آدم ؑ اپنے سا تھ جنت سے لائے تھے اوربعض روایات میں ہے کہ اسے جبرائیل امین ؑدنیا میں لائے تھے۔جنت میں اس قسم کے 2پتھر تھے جن میں سے ایک سفیدرنگ کا چمکدار پتھر،حجر اسود دنیا میں لایا گیا جبکہ دوسرا اس وقت بھی جنت میں ہے۔حجراسودکو دنیا میں لانے سے قبل اﷲ نے اس کی روشنی اورچمک کو ماند کردیاتاکہ لوگ اس کے دیدارکی تاب لاسکیں۔ دوسری روایت کے مطابق لوگوں کے گناہوں کے سبب یہ پتھر سیاہ ہو گیا۔
وہی توفیصلہ کرتا ہے پتھرکے مقدرکا
کسے ٹھوکرمیں رکھناہے،کسے اسود بنانا ہے

غلافِ کعبہ کوہم نے سیاہ رنگ کے غلاف ــ’کسویٰ‘میں دیکھاہے ،اسے سال میں ایک دفعہ حج کے ایام میں تبدیل کیا جا تا ہے ۔اس سے قبل غلاف مختلف رنگوں میں ہوتا تھاجن میں سفید،سبزاورسرخ رنگ شامل ہیں۔ امیرمعاویہ کے دورمیں یہ سال میں دو بارجبکہ خلیفہ مامون الرشیدکے دورمیں سال میں تین بارمختلف رنگوں میں تبدیل کیا جاتا تھا۔’ کسویٰ‘یعنی غلافِ کعبہ کی تیاری میں تقریباً 17,000,000 سعودی ریال خرچ کیے جاتے ہیں اور یہ مکہ میں موجود میوزیم میں ایک سال کے دورانیے میں تیار کیا جا تا ہے۔

خانہ کعبہ کی دیواروں کی کئی مرتبہ تعمیرہوئی ہے۔ وقت اورحالات کے پیش نظراس میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ اس وقت خانہ کعبہ میں صرف ایک ہی دروازہ ہے جس میں صرف اہم شخصیات کوداخلے کی اجازت دی جاتی ہے ۔خانہ کعبہ کے اندر ’رکن شامی‘ پرزینہ بنایا گیا ہے جسے کعبہ کی چھت پرجا نے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی میں اکثر سیلاب اوردوسری آفات کی وجہ سے تعمیر نو کی ضرورت پیش آتی تھی۔ سیلاب کے با عث بھی طوافِ کعبہ رکتا نہیں تھابلکہ لو گ تیراکی کے ذریعہ طواف جا ری رکھتے تھے۔
تحقیق کے مطابق کعبہ کا مقام زمین کامرکزہے ۔نقشے کو کسی بھی سمت رکھ کردیکھا جا ئے تو کعبہ مرکزی نقطے پرموجودنظر آئے گا۔ اگر جنوبی حصہ اوپر اور شمالی حصہ نیچے ہویا پھرشمالی حصہ اوپراورجنوبی حصہ نیچے ہوتو ددنوں صورتوں میں خا نہ کعبہ ایک ہی مقام پر نظرآتا ہے۔

خانہ کعبہ کا طواف24 گھنٹے جا ری رہتا ہے ۔ایک دن میں پانچ مرتبہ طواف کایہ تسلسل صرف اس وقت روکاجاتا ہے جب فضا میں ـ’حی علی الصلوۃ‘ اور’حی علی الفلاح‘ کی آوازبلند ہو تی ہے اورسب اﷲ کے حکم سے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shireen Hussain

Read More Articles by Shireen Hussain: 5 Articles with 4920 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2018 Views: 1367

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ