مقدس مہینہ میں میڈیا پریہ خرافات کیسی؟

(Muhammad Mazhar Rasheed, Okara)

قرآن و حدیث کی رُو سے رمضان المبارک کا مہینہ بے شمار فضائل رکھتا ہے رسول اکرم ﷺ اس مہینہ کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ رسول اﷲ ﷺ کا فرمان ہے کہ "جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں" ۔رمضان المبارک میں روزہ کا مقصد بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ اس مقدس مہینہ میں ذہنی ،جسمانی،روحانی تربیت کا ہونا ہے ہر مسلمان اپنی ’’ زبان، آنکھ ،کان ،ہاتھ ،پاؤں اور دل کو ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ رکھے اور ہر قسم کی لغویات سے مکمل پرہیزکرتے ہوئے پورے سال کے لئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ اس ماہ مقدس میں آپ پورے سال گناہوں سے بچے رہنے کا تربیتی سیشن مکمل کر سکتے ہیں۔دن کو روزہ اوررات کو تراویح کا اہتمام کرنا ہی بنیادی طور پر اس مبارک مہینہ کا حق اداکرناہے اس ماہِ مقدس میں اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی بخشش فرماتے ہیں اور اس مغفرت کیلئے رمضان المبارک سے بہتر کوئی اور زمانہ نہیں ہے چنانچہ اس شخص کی بدبختی اورشقاوت میں کوئی شک نہیں جسے رمضان کا مہینہ ملا اور اس نے اس میں اپنی مغفرت اور بخشش نہ کروائی ہو۔قارئین کرام ! رمضان المبارک کا مہینہ جہاں بے شمار اﷲ تعالی کی رحمتوں کا نزول لے کر آتا ہے وہیں شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے گزشتہ چند سالوں میں وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میڈیا کی ترقی نے جہاں بے شمار معلوماتی اور تازہ ترین خبروں سے آگہی دی وہیں رمضان المبارک کے بابرکت مہنیے میں الیکٹرانک میڈیا نے رمضان نشریات کے نام پر کھیل کود ،نیلام گھر خاص طور پر سحری افطاری کے اوقات میں پورا سال فلموں ،ڈراموں اور ماڈلنگ کرنے والوں کو پروگراموں کا میزبان بنا کر اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانے کے باقاعدہ پروگرام شروع کر رکھتے ہیں آغاز تو ایک بڑے چینل نے کیا تھالیکن اس کی تقلید میں دیگر چینلز نے بھی یہ ہی سلسلہ گزشتہ چند سالوں میں بام عروج تک پہنچا دیا مئی 2018میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ نے وطن عزیز کے سنجیدہ طبقہ کو انتہائی خوش کر دیا کہ آئندہ الیکٹرانک میڈیا پر سحری وافطاری کے اوقات میں اِس قسم کی لغویات نہیں چلیں گی اور اسلام تعلیمات کی رُو سے علما ء کرام کو پروگراموں میں بلایا جائے گا لیکن افسوس اِسی فیصلہ کے خلاف کی گئی اپیلوں پر ہائی کورٹ اسلام آباد کے معزز جج صاحبان نے پہلے کیے گئے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پیمرا کو اختیارات دے دیئے کہ وہ چیک اینڈ بیلنس کی پالیسی اپنائے ،پیمرا کے بارے قارئین کرام بہتر جانتے ہیں کہ اس ادارہ کے احکامات پر نہ پہلے کبھی عمل درآمد ممکن ہو سکا اور شاید آئندہ بھی نہ ہو سکے انڈین چینلز پر پابندی کے احکامات ،پاکستانی چینلز پر انڈین ڈراموں اور گانوں کے پروگرام ،اور کیبلز آپریٹر پر خاص تعداد سے زیادہ سی ڈی چینلز کی بندش کے احکامات ،کیا ان میں سے کسی ایک پر بھی مکمل عمل درآمد ہوا ؟؟؟رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی مصنوعی مہنگائی کا جِن برسوں سے بے قابو ہوتا رہا ہے یہ جِن وطن عزیز میں تمام اسلامی تہواروں پر بڑے دھرلے سے وارد ہو تاہے پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں یہاں اگر میں سانچ کے قارئین کو رمضان المبارک کے آغاز سے ایک ہفتہ پہلے اور بعد کی قیمتوں کا فرق بتانے لگا تو کالم کے لئے کئی صفحات درکار ہونگے ،بس آپ جانتے ہیں کہ آپکے ارد گرد فروخت ہونے والے پھل کس معیار اور کس قیمت پر فروخت ہورہے ہیں بات ہوجائے رمضان المبارک سے چند دن پہلے اشیاء خوردو نوش کی قیمتیں مقرر ہونے والی میٹنگ کی جہاں بڑے بڑے تاجروں کو جوکہ پلازوں اور بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہیں ماہ رمضان میں مارکیٹوں خاص طور پر رمضان بازاروں میں اشیاء کی قیمتیں دو تین روپے کم کرنے پر خوب بحث کرتے دیکھا یہ اشیاء جن کی قیمتیں کم ہوئی ہیں وہ دوسرے یا تیسرے درجے کی فروخت ہونگی یعنی کہ ماہ رمضان میں کاروباری طبقہ نیکیاں کمانے کے لئے بڑی بڑی افطار پارٹیاں تو ضرور کرے گا جس میں معززین شہر کی شرکت بھی یقینی ہوگی اور اکثریت عمرے کی ادائیگی پربھی جائیں گے لیکن عوام کو دوسرے تیسرے درجے کی اشیاء دو تین روپے کم پر بھی فروخت کرنے کا بندوبست کر کے داد تحسین بھی پائیں گے، اشیاء خوردو نوش میں سے ہر ایک کی ضرورت آٹا بھی بازاروں میں نمی کے تناسب سے سی کیٹگری کا فروخت ہوتا ہے لیکن حکومت سے سبسڈی حاصل کرنے میں فلور مل مالکان سب سے آگے ہوتے ہیں ،بیسن،آلو ،پیاز رمضان میں سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی اشیاء ہیں لیکن یہاں بیسن بھی دوسرے درجے کا فروخت ہوتا ہے،مصالحہ جات میں ملاوٹ کے جدید طریقے چیک کرنے والی انتظامیہ کو بھی بے بس کر دیتے ہیں قارئین کرام !رمضان المبارک میں دودھ دہی کا ستعمال اور فروخت بھی بڑھ جاتی ہے دودھ میں پانی کا ملانا تو اب عام سے بات سمجھی جاتی ہے جس پر ایکشن کم ہی لیا جاتا ہے لیکن جدید طریقوں سے دودھ تیار کرنے والے گروہ اس ماہ مقدس میں اپنا منافع بھر پور طریقہ سے کمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں دہی کی قیمت پانچ روپے کم کر کے نیکی کمانے والے دوکاندار اس بات کی گارنٹی نہیں دے پاتے کہ اِس کی تیاری میں دودھ کونسا استعمال ہوا ہے مختصر یہ کہ ہم عبادات میں تو شاید دنیا بھر کے مسلمانوں سے آگے ہونگے لیکن معاملات میں ہم اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال ر ہے ہیں ٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Mazhar Rasheed

Read More Articles by Muhammad Mazhar Rasheed: 129 Articles with 66379 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jun, 2018 Views: 274

Comments

آپ کی رائے