"بھاگ جنگل بھاگ " (سو لفظوں کی کہانی)

(Mona Shehzad, Calgary)

آج مری کے نواحی علاقے کے جنگل نے ہنگامی بنیادوں پر ایک میٹنگ بلائی تھی ۔شرکاء میں پیڑوں کے علاوہ جانور ،پرندے،جگنو اور تتلیاں بھی شامل تھے۔ ہر کوئی خوف و ہراس کے سائے میں تھا۔ایک بوڑھے پیڑ نے کہا :
"ہماری اندھا دھند کٹائی کے باعث اب تو پہاڑ بھی سرکنے لگے ہیں۔"
ایک خرگوش بولا :
"ہماری پناہ گاہ تو تم ہی ہو ،ہمیں اب جان بچا کر یہاں سے بھاگنا پڑے گا ۔"
جگنو اور تتلیاں افسردگی سے بولے :
"ہمارے لئے درختوں اور پھولوں کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں اس لئے ہم عنقا ہوتے جارہے ہیں ۔"
پرندے بولے :
"تمھاری پناہوں میں تو ہمارے گھونسلے پروان پاتے ہیں ۔اب ہم کیسے اس انسان نامی درندے کو سمجھائیں کہ پیڑوں کے ساتھ ہم سب کے وجود کی بقا ہے ۔"
ایک گلہری بولی :
"میرے ذہن میں ایک تجویز ہے "
سب حاضرین محفل یک آواز ہو کر بولے :
کیا؟
گلہری بولی
"بھاگ جنگل بھاگ ۔۔ ۔۔۔

کاش یہ پکار آپ کے دل پر اثر کر جائے ۔اگر اپنے لئے نہیں تو آنے والی نسلوں پر رحم کیجئے اور زمین کو اس کے پھیپھڑوں اور کولنگ سسٹم یعنی کہ درختوں کو بچائیں ۔ اگر وطن عزیز کا ہر شخص ایک درخت لگائے اور اس کی نگہداشت کرے تو اگلے دس سالوں میں وطن عزیز ہرا بھرا ہوجائے گا ۔آپ کا کیا خیال ہے؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 179117 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
08 Jun, 2018 Views: 495

Comments

آپ کی رائے