دردِ دل کے واسطے

(Aqsa Aziz, Bahawalnagar)
سبھی فیشن فیشن کرتے ہیں کبھی فیشن کا درد کھول تو سہی۔۔

انسان ایک حیوان ہے اور اُس سے جُڑے لوگ کبھی اُسکی چاہت کے لیے مٹ جاتے ہیں تو کبی اُسکی دی گئی نوازشیں اُسے جینے نہیں دیتیں۔ لیکن کچھ لوگ صرف ظاہری حُسن اور آسائشات کی بدولت صرف اور صرف اپنی ذات تک محدود ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ اِس طرزِ زندگی کا شکارصرف امیر طبقہ ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس لوگ بھی اس دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ خواتین اس شعبے میں ملکہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔میرے جوتے،میرے کپڑے،میری گاڑی ،میرا فون اور میرا میک اپ بس پرفیکٹ ہے۔ حد افسوس اس بات پر کہ اب تو عقل کا معیار بھی انہی چیزوں پر کیا جاتا ہے ۔جسے جتنا علم میک اپ برینڈ اور اُسے چہرے پر لگانے کا ہوگا ،جیسے جتنا علم کپڑوں کے برینڈز اور اسےطرح طرح سے سلوا کر پہننے کا ہوگا اور جس کی زبان جتنی تیزی سے فر فر انگریزی بولتی ہوگی صرف وہی ایک مکمل پڑھا لکھااور باشعور انسان ہے۔میں اس بات سے انکار نہیں کرتی کہ اچھا پہننا اور خواہش کے مطابق پہننا ہر انسان کا حق ہے پر کُچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ انکی نمودو نمائش سے بُہت سے لوگوں کی دِل ازاری ہوتی ہے۔ ایسی نمائش اُن والدین کے لیے مسئلہ پیدا کرتی ہےجو یہ سب خرچے برداشت نہیں کر سکتے اور اندر ہی اندر اپنی بیٹیوں کی بے جا دِل آزاری پر پشیماں رہتے ہیں اور بُہت سے متوسط گھرانے امیر طبقے کی نقل کرنے کے چکر میں اخلاقی اقتدار سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ ہم مہنگے سے مہنگی چیز خریدتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ جتنا پیسہ ہم ایک جوڑا خریدنے پر لگاتے ہیں اتنے میں دس غریب لوگوں کی عید ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے ہم پانچ ہزار کا جوڑا خریتے کسی ضرورت مند کا احساس ایک دفعہ ضرور کر لیں۔ یہ سب چیزیں یہاں رہ جانی ھیں۔ سب ایک ہی لباس میں واپس جائیں گے۔کسی کو یاد رھے گا تو بس آپ کا لہجہ اور اندازِ بیاں ۔اِس بات کو سمجھیں کہ دنیا میں انسان کی طاقت کا اندازہ اس کے اخلاق اور اُن حقوق کی ادائیگی سے لگا یا جائے جو اللہ نے بندوں کے لیے مقرر کیے۔ یاد رکھیئے برانڈز صرف آپکی حثیت متعین کرتے ہیں آپکی اوکات نہیں جو وہ خوبصورتی ہے جسے حد صورت آپکا رویہ سنوارتا ہے۔
اس آرٹیکل سے اگر کسی کی دِل آزاری ہو تو معذرت خوا ہوں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Aziz

Read More Articles by Aqsa Aziz: 7 Articles with 3105 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jun, 2018 Views: 381

Comments

آپ کی رائے