بے حسی یا بے بسی

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: اسامہ فاروق، جہانیاں
یہ جنوری کے شروع کی بات ہے میں ایک شام کلینکل اسسٹنٹ کی کلاس سے فارغ ہونے کے بعد موٹر سائیکل پہ گھر جارہا تھا۔ ویسے میں عموما مغرب کی نماز تک گھر پہنچ جاتا تھا مگر اس دن رستے میں ایک دو کاموں کی وجہ رکنا پڑا اس لئے اس دن میں اپنے عام ٹائم سے لیٹ گھر جارہا تھا۔ اپنے گاوں سے دو کلو میٹر تھا۔ سردیوں کے موسم تھا شدید دھند تھی روڈ پہ دور دور تک کچھ بھی نظرنہیں آرہا تھا۔ میں شدید دھند اور اندھیرے کی وجہ سے آہستہ آہستہ جا رہاتھا کہ اچانک مجھے روڈ پہ شیشہ بکھرا ہوا نظر آیا تو فورا ذہن میں یہی خیال آیا کہ ضرورکوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہوگا اور جب سامنے دیکھا تو ایک کار اینٹوں کی بھری ہوئی ٹرالی کے نیچے گھسی ہوئی ہے۔ کار مکمل طور پہ تباہ ہوچکی تھی۔ اس کے اندر دو لوگ موجود تھے۔ جو کسی حد تک ہوش میں تھے ایک آدمی سڑک پہ گرا ہوا تھا۔ اس کا جسم سے خون نکل کر سڑک پہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ وہ آدمی بری طرح زخمی تھا اور بے ہوش تھا بلکہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات روڈ پہ گزار رہا تھا۔

خیر میں نے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور جا کر اس بے ہوش آدمی کو چیک کرنے لگا۔مجھے شروع سے ہی لوگوں کو ریسکیو کرنے کا شوق تھا اور پھر ریسکیو1122 کے ایک پروگرام کے تحت میں 3 روزہ ریسکیو ٹریننگ بھی کرچکا تھا اور اس سے بھی پہلے میں نے فلاح انسانیت فاونڈیشن سے بھی 2 روزہ ریسکیو ورکشاپ کی تھی۔اس لئے میرا یہ فرض بنتا تھا کہ میں رک کر ان کے لئے کچھ نہ کچھ کر سکوں۔ میرے سے پہلے بھی وہاں پہ کچھ لوگ موجود تھے جو وہاں پہ کھڑے بے حس بنے ہوئے صرف تماشا دیکھ رہے تھے۔ ایک آدمی اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا اور لوگ شاید ڈر رہے تھے کہ کہیں اس کی موت ہمارے گلے نہ پڑجائے۔
 
میں نے کسی بھی انجام کی پرواہ کیے بغیر اس آدمی کا معائنہ کیا اور اس کو بچانے کا آخری حربہ آزمانے سے پہلے ریسکیو 1122 پہ کال کی۔ میرا فون ان کے دوسرے سینٹر پہ جاملا جوکہ ہمارے علاقے سے غیر متعلقہ تھا انہوں مجھے ملتان سینٹر کا نمبر لکھوایا۔ میں نے ریسکیو کو اطلاع کرنے کے بعد اپنا کام شروع کر دیا۔اس آدمی کا بھاری بھر کم وجود تھا جسے میں اکیلا نہیں سنبھال سکتا تھا۔ویسے بھی روڈ ایکسیڈنٹ کے مریض کو کم ازکم 6 بندے اٹھا کر شفٹ کرتے ہیں اگر اسٹریچر نہ ہو تو۔ میں نے اسکو CPR کرنا شروع کیا۔۔ کچھ دیر یہ کام کرتا رہا میں اس وقت اکیلا تھا جو ان مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ باقی 5-7 لوگ جتنے بھی کھڑے تھے سب کے سب تماشائی تھے کسی کو بینڈیج کرنا نہیں آتا تا کہ کسی زخمی کا نکلتا ہوا خون ہی روک سکیں۔ لوگ آتے گئے رش لگتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں پہ عوام کا جم غفیر لگ چکا تھا۔

دو چار لوگ میرے ساتھ کام کررہے تھے۔ اب تک روڈ مکمل طور پہ بند ہوچکا تھا۔ وہ مریض میرے سی پی آر کرنے کے دوران ہی فوت ہوچکا تھاکیونکہ اس کا خون بہت زیادہ مقدار میں ضائع ہو چکا تھا۔اگر اس کو ابتدائی طور پہ ہی بینڈیج کر دی جاتی تو شاید وہ بچ سکتا۔اب میں دوسرے متاثرین کی طرف گیا۔میرے کالج بیگ میں ہمیشہ فرسٹ ایڈ کا تھوڑا بہت سامان موجود ہوتا ہے۔تاکہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں فرسٹ ایڈ دی جا سکے۔تب تک ان متاثرین کے ورثابھی پہنچ چکے تھے میں نے دوسرے زخمیوں کو بھی بینڈیج کردی تب تک۔ ریسکیو کی وین بھی پہنچ چکی تھی۔ریسکیورز نے پوچھاکہ بینڈیج کس نے کی ہے۔میں نے انہیں بتایاکہ میں کی بینڈیج کی ہے اس پہ انہوں نے مجھے اس پہ شاباش دی۔ہم نے مریضوں کو گاڑی میں شفٹ کیااور سب لوگ اپنے اپنے رستے پہ چل دیے۔۔اب یہاں ہمارے معاشرے ک کئی منفی پہلو سامنے آتے ہیں ایک یہ کہ ہم لوگ تماشا دیکھتے ہیں اور تماشا سے زیادہ تماشائی بنتے ہیں۔بے حس ہیں اور کسی مرتے انسان کے لئے بھی احساس نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 516643 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 185

Comments

آپ کی رائے