نیشنل اسٹیڈیم

(Rafi Abbasi, Karachi)
پاکستان کرکٹ کا قلعہ، جہاں پاکستان ٹیم ناقابل شکست رہی
اسے صدر آئزن ہاور اور ایوب خان جیسی شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا

نیشنل اسٹیڈیم
پاکستان کرکٹ کا قلعہ، جہاں پاکستان ٹیم ناقابل شکست رہی
اسے صدر آئزن ہاور اور ایوب خان جیسی شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا
ملک میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے بعدپی ایس ایل 2018کے فائنل کا انعقاد متوقع ہے

کراچی کےنیشنل اسٹیڈیم کا شمار پاکستان کے دوسرے بڑے کھیل کے میدان میں ہوتاہے، جس کی تعمیر 1955کے اوائل میں مکمل ہوئی۔ اس میں34ہزار200 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ میدان پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت ہے جب کہ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کو اس کی انتظامی ذمہ داریاںسونپی گئی ہیں۔ اس کے دو کنارے پویلین اینڈ اور یونیورسٹی اینڈ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ قومی ایئرلائنز کی کرکٹ ٹیم نے اسے کرائے پر حاصل کیا ہوا ہے۔یہاں برقی قمقمے اور عظیم الجثہ ٹیلی اسکرین بھی نصب ہے جس کی بدولت اس کا شمار دنیا کے جدید ترین گراؤنڈز میں ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ ’’پاکستان کرکٹ کے قلعہ ‘‘کے طور پر معروف تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گراؤنڈ میں زیادہ تر میچز میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست رہی ہے۔یہاں اب تک42ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جن میں سے 22میں پاکستان نے فتح حاصل کی۔

1955میں جب اسٹیڈیم تکمیل کے آخری مراحل میں تھا، بھارتی ٹیم دو ماہ کے دورے پرپاکستان آئی۔اس نے پہلا میچ ڈھاکا اسٹیڈیم میں کھیلا جب کہ دوسرا، تیسرا اور چوتھاٹیسٹ میچ بہاولپور اسٹیڈیم، باغ جناح لاہور اور پشاور کلب گراؤنڈ پرمنعقد ہوا۔ پانچواں ٹیسٹ میچ 26فروری سے یکم مارچ تک کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جو ڈرا ہوا ۔ 21اپریل 1955کونیشنل اسٹیڈیم کا باضابطہ افتتاح ہوا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا سہ روزہ فرسٹ کلاس میچ کھیلا گیا،جسےسرکاری و کرکٹ کی معروف شخصیات نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھا، یہ میچ بھی برابر رہا۔ دوسرا ٹیسٹ میچ 13 تا 17 اکتوبر 1955ءکونیوزی لینڈ کےساتھ کھیلا گیا، جس میں پاکستان نے ایک اننگز اور ایک رن سے کام یابی حاصل کی۔ یہ اسٹیڈیم کی تاریخ کی پہلی بڑی فتح تھی، جو قومی ٹیم نے حاصل کی۔پہلا ایک روزہ میچ یہاں 21نومبر 1980میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا گیاجس میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کالی آندھی کی عرفیت سے مشہور ویسٹ انڈیز ٹیم نے پاکستان کوچار وکٹوں سے شکست سے دی۔2000تک پاکستان ٹیم اس گراؤنڈ میں ناقابل شکست رہی جس کی وجہ سے اسے ’’ پاکستان کرکٹ کا قلعہ ‘‘کہا جانے لگا۔دسمبر 2000میں انگلستان کی ٹیم نے پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر اس کی جیت کا ریکارڈ ختم کردیا۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کرکٹ میچزکےدوران کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان 20اپریل 2008ء کو کھیلا گیا جس میں پاکستان نے پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے یونس خان اور مصباح الحق کےشاندار کھیل کی بہ دولت پانچ وکٹوں پر 203 رنز بنائے۔ جواب میں بنگلہ دیشی ٹیم کے ابتدائی تین بلّے بازوں کے بعد کوئی بھی بیٹس مین دوہرا ہندسہ نہیں بناسکااور پوری ٹیم 102رنز کی شکست کے ساتھ پویلین لوٹ گئی۔اس میچ کی خاص بات، اپنے کیریئر کا پہلا بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے والے بالر منصور امجد کی شاندارکارکردگی تھی ۔ انہیںمیچ کے اختتام سے پانچ اوور قبل گیند تھمائی گئی، اس وقت حریف ٹیم کی تین وکٹیں باقی تھیں۔منصور نے اپنے پہلے ہی اوور میں تین رنز دے کر تینوں کھلاڑی آؤٹ کرکے ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو میچ میں وکٹوں کی ہیٹ ٹرک کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔

1982ء اور 1983ء کے دوران بھارتی ٹیم 6 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئی ، جن میں سے دو میچز نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ۔ 23 تا 27 دسمبر 1982ء کو کھیلے جانے والے پہلےٹیسٹ میچ میں پاکستان کے خلاف بھارت پہلی اننگز میں صرف 169 رنز بناکر آؤٹ ہوگیا۔ اس میچ کی خاص بات عمران خان کی شاندار بالنگ تھی۔ میچ کی دوسری اننگز میں عمران خان نے 8 وکٹیں حاصل کرکے نیا قومی ریکارڈ قائم کیا۔2009میں یونس خان نے سری لنکا کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے ٹرپل سینچری اسکور کی۔ اسی ٹیسٹ میچ میں مہیلا جے وردھنے اور تھلن سماراویرا نے 437رنز کی شراکت کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس میچ میں سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کے خلاف 644رنز بنائے لیکن پاکستان نے جواب میں 6وکٹوں پر 765رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ 2008کے ایشیا کرکٹ کپ کا انعقاد پاکستان میں کیا گیا جس کے گروپ بی کے سات اور گروپ اے کے تین میچز کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے جو اس اسٹیڈیم کا ایشین ریکارڈ ہے ،جب کہ دو قذافی اسٹیدیم لاہور میں منعقد ہوئے ۔ اس ٹورنامنٹ میں بھارت نے ہانگ کانگ کے خلاف چار وکٹوں کے نقصان پر ایک روزہ کرکٹ کا سب سے بڑا اسکور 374بنانے کاریکارڈ قائم کیا جب کہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران آئی لینڈر کھلاڑ ی، سنتھ جے سوریا اور کمار سنگاکارا نے201رنز بنا کربنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے میچز کی سب سے بڑی پارٹنر شپ قائم کی۔1980میں بھارت کے لیجنڈ کھلاڑی، سچن ٹنڈولکر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے کیریئر کا آغاز نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا میچ کھیل کر کیا۔پاکستان نے2006میں بھارت کے خلاف سب سے زیادہ 599نز اسکور کیے۔ اس میچ میںبھارتی بالر عرفان پٹھان نے تین مسلسل گیندوں پر پاکستان کے تین بیٹس مینوں کو صفر پر آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک بنانے کے علاوہ بہترین بالنگ کا ایک انوکھا ریکارڈ قائم کیا۔ آسٹریلیا کی ٹیم کو اس گراؤنڈ پر سب سے کم اسکور بنانے کا اعزاز حاصل ہے ۔ 1956میں کھیلے جانے والے ایک ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگزمیں اس نے80رنز بنائے، پاکستان نے یہ میچ 9وکٹوں سے جیت کر ریکارڈ قائم کیا۔ اس میچ میں فضل محمود نے مجموعی طور سے 114رنز پر 13وکٹیں حاصل کرنے کا پہلا قومی ریکارڈ قائم کیا۔ 1988میں جاوید میاں داد نے آسٹریلیا کے خلاف طویل اننگ کھیلتے ہوئے ڈبل سینچری اسکور کی۔

نیشنل اسٹیڈیم کو 1987کے دو اور 1996کے عالمی کپ کے تین میچوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے جن میں1996کا تیسرا کوارٹر فائنل بھی شامل ہے جوویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کےدرمیان کھیلا گیا، جس میںویسٹ انڈیز نے فتح حاصل کی۔عالمی ٹورنامنٹ کے ایک گروپ میچ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستان نے ایک رن سے کامیابی حاصل کی۔ 1987کے عالمی کپ کا ایک میچ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا جس میں ویسٹ انڈین بیٹس مین ، سر ویون رچرڈز نے ایک روزہ کرکٹ کا سب سے زیادہ 181رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا۔21اپریل 2002میں راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف پاکستانی فاسٹ بالر، شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 9اوورز میں صرف 16رنز دے کر کیوی ٹیم کے چھ بیٹس مینوں کو آؤٹ کیا۔اس گراؤنڈ پر آخری ین الاقوامی میچ 2009میں سری لنکا کی ٹیم کے خلاف کھیلا گیا،سانحہ لاہور کے بعد جب غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کردیا تو نیشنل اسٹیڈیم کی رونقیں بھی ماند پڑتی گئیں۔ ان دنوں یہاںقائداعظم ٹرافی سمیت دیگر ملکی سطح کے ٹورنامنٹس کا انعقاد ہوتا ہے۔
1959میںنیشنل اسٹیڈیم کو امریکاکے 34ویںصدر، جنرل آئزن ہاور کی میزبانی کاشرف بھی حاصل ہوا۔ جب آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو اس نے پاکستانی ٹیم کے خلاف تیسرا ٹیسٹ میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا۔ امریکی صدر، جنرل آئزن ہاور ان دنوں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب ، صدر ایوب خان کے ساتھ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر یہ میچ دیکھا۔ وہ حنیف محمد کی بیٹنگ پرفارمنس سے انتہائی متاثر ہوئے اور میچ کے آخر میں انہیں اپنے پاس بلا کر ان شاباش دی۔ اس موقع پر پاکستانی ٹیم کی طرف سے پیش کیے جانے والے بیٹ پر انہوں نے اپنے دستخط کیے، جس کے بعد بی سی پی حکام کی جانب سے انہیں قومی ٹیم کا بلیزر پہنایا گیا۔ آسٹریلین کپتان رجی بینیود نے جب امریکی صدر کو یہ بلیزر پہنے دیکھا تو پرمزاح انداز میں ان سے مخاطب ہوئے’’ جناب صدر، یہ کوٹ پہن کر آپ مخالف کیمپ میں شامل ہوگئے ہیں‘‘۔ جولائی 2016میں ممتاز سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ بھی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی نماز جنازہ میں موجود تھے۔صدر پاکستان ممنون حسین ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، چیئر مین سینٹ رضا ربانی، سینئر وزیر نثار کھوڑو، متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما فاروق ستار، پی ٹی آئی، اے این پی، پاک سر زمین پارٹی کے رہنماؤں سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی نمازہ جنازہ میںشرکت کی۔

نیشنل اسٹیڈیم کی تاریخ ہنگامہ آرائیوں سے بھی بھری ہوئی ہے، جس کی وجہ سے رواں سال لاہور میں آزادی الیون کے میچز اور پی ایس ایل کے انعقاد کے بعد، پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کے باوجود غیرملکی کرکٹر ز کراچی میں کھیلنے کے بارےمیں تحفظات کا شکار ہیں۔1968میں برطانیہ اور پاکستان کے درمیان میچ، گراؤنڈ میں ہونے والےفسادات کی نذر ہوا۔ 1969میں نیوزی لینڈ کے دوران میچ کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی۔1981میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جانے والا میچ بھی ہنگاموںسے متاثر ہوا۔1983میں آسٹریلیا کے خلاف ہی میچ میں دوسری مرتبہ ہنگامہ آرائی کی گئی جب کہ اسی سال بھارتی ٹیم کے پاکستان کے دورے کے دوران چھٹے ٹیسٹ میچ کا انعقاد کراچی میں ہوا۔میچ کے چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد انکلوژر میں بیٹھے چند طلبا نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، جس کے بعد میدان پر دھاوا بول دیا ۔ انہوں نے اس دوران پچ کھودڈالی، پولیس نے امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے دور ان طلبہ اور پولیس اہل کاروں میں تصادم بھی ہوا ۔ اس ہنگامے کی وجہ سے باقی کھیل ختم کرنا پڑا۔1977میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان میچ بھی ہنگامہ آرائیوں سے متاثر ہوا۔2005میں قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کپ کا فائنل میچ ہنگاموں کی وجہ سے متاثر ہوا۔

اسٹیڈیم کی تعمیر سے اب تک متعدد مرتبہ اس کی مرمت، تزئین و آرائش کا کام ہوچکا ہے۔1950کے عشرے میں اس کی میٹنگ وکٹیں ، سیم بالرز کے لیے مددگار تھیں جب کہ اس کی پچز ہم وار اور بیٹنگ کے لیے سازگارتھیں۔ 1982میں انہیںاسپورٹنگ پچز بنایا گیا، جس پر سیم اور فاسٹ دونوں طرز کی بالنگ کامیاب تھی۔ 1987کے ورلڈ کپ سے قبل اس کی توسیع کا کام کیا گیا۔1996کے ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل ایک مرتبہ پھراس کی مرمت و درستی ہوئی۔نومبر 2006میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اس کی ازسر نوتزئین و آرائش کی گئی۔جنگلی گھاس اگنے کے سبب گراؤنڈ کی آؤٹ فیلڈ انتہائی خراب ہوگئی تھی، اسے کاٹ کر نئی گھاس لگائی گئی،2005کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے موقع پر ہنگاموں میں تباہ ہونے والی کرسیوں کی جگہ نئی کرسیاں لگائی گئیں، نئے سرے سے رنگ و روغن کیا گیا۔ وکٹوں کا اسکوائر کھود کر اس کی گہرائی چھ سے کم کرکے چار فٹ کردی گئی تاکہ وکٹ زیادہ باؤنس کرے۔

پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کے ختم ہونے کے باعث یہ اسٹیڈیم انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کا تجارتی بنیادوں پر استعمال ہورہا تھا، انکلوژر کی چھتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں،سیڑھیوں میں گڑھے پڑ گئے تھے، جیم ، جہاں پاکستان کے معروف کرکٹرز اپنی فٹنس کے لیے ایکسرسائز کرتے تھے، اسے اسٹور روم بنادیا گیا۔ اسٹیڈیم کے اندر جنگلی گھاس کے علاوہ خودرو جھاڑیاں بھی اگ آئیں جہاںسے سانپ نکلنے کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں۔ ڈیجیٹل اسکرین کا یہ عالم رہا کہ میچز کے دوران اس پر اسکور اور کھلاڑیوںکے ناموں کا اندراج غلط ہوتاتھا۔اسٹیڈیم کے پارکنگ ایریا میں اتنے بڑے گڑھے پڑ گئے تھے جن میں بعض اوقات گاڑیاں پھنس جاتی تھیں۔

2018میں پی ایس ایل کے میچوں اور فائنل میچ کا انعقاد نیشنل اسٹیڈیم میں کرانے کے اعلان کے بعد پی سی بی کی جانب سے اس کی ازسر نو مرمت، درستی، تزئین و آرائش کی مد میں ڈیڑھ ارب روپےکی رقم مختص کی گئی ہے اور اسے اپ گریڈ کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد اسٹیڈیم میں تقریباً 60سے نوے ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ میدان سے گھاس اور جھاڑیاں صاف کردی گئیں۔پرانی چھتیں ہٹا دی گئی ہیں ان کی جگہ جرمنی سے شیڈ منگوا کر لگائے جارہے ہیں لیکن یہ کام مارچ 2018میںپی ایس ایل کےانعقاد کے بعد ہی مکمل ہوسکے گا۔ تماشائی حضرات اوپن ایئر گراؤنڈ میں بیٹھ کر عالمی سطح کے مقابلوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں ڈریسنگ رومز، چیئرمین باکس، میڈیا گیلریاور کمنٹری باکس کی حالت بہتر بنائی جائے گی ۔اسٹیڈیم میں شائقین کے لیے 100سے زیادہ واش رومز اور نئی کرسیاں نصب کی جائیں گی۔ اس کام کے لیے قذافی اسٹیڈیم کے سابق چیف کیوریٹر عبدالغنی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کی پچز، بین الاقوامی معیار کے مطالق نہیں تھیں، اس کی آؤٹ فیلڈ کو بہتر بنانے کے لیے لاہو سے گھاس منگوائی گئی ہے۔ ان کا دعوی ـہے کہ آؤٹ فیلڈ میں بہتری آنے کے بعد قومی کرکٹرزاس گراؤنڈ پر بھی برطانیہ اور آسٹریلیا کے میدانوں کی طرح بے خوف و خطر ڈائیو لگا سکیں گے۔

کچھ عرصے قبل تک پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی کراچی میں امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے کراچی میں پی ایس ایل کے سیشن تھری کے میچز کے انعقاد کے بارے میںتحفظات کا شکار تھے۔ ان کا کہنا تھاغیر ملکی کھلاڑی کراچی میں میچ کھیلتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اکتوبر میںآئی سی سی کےسکیورٹی معاون، رگ ڈیکاسن نےکراچی کے مختلف علاقوں اور اسٹیڈیم کا دورہ کیا، جس کے بعد انہوں نے کراچی میں بین الاقوامی میچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔۔ 7دسمبر 2017کو پی سی بی چیئرمین نے وزیر اعلی سندھ ،سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی جس میں وزیر اعلیٰ نے پی ایس ایل کے انعقاد کے لیے فول پروف سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد پی ایس ایل کا تیسرا سیشن کراچی میں منعقد ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 78950 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2018 Views: 743

Comments

آپ کی رائے