"پشاور کا سپورٹس ڈائریکٹریٹ، بارش، کتے اور فوک بیڈ: کھیل نہیں، تماشا ہے"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
بارش بھی اللہ کی اپنی شان ہے۔ لیکن پشاور میں میچ والے دن جب آسمان کھلا، تو زمین والوں کے سارے انتظامات ڈوب گئے۔ شاہی باغ کی سڑکیں یوں لگ رہی تھیں جیسے کسی نے سوئمنگ پول فری میں بنا دیا ہو۔ قائداعظم ٹینس کورٹ کے باہر ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازم ایسے مصروف تھے جیسے کوئی نیا ڈیم بنا رہے ہوں۔ سینکنگ مشینیں بھی لگیں، لیکن پانی بھائی جان نکلنے کو تیار نہیں۔
صبح سویرے میڈیا والوں کی آنکھیں ادھر ادھر لگ رہی تھیں کہ آج میچ ہوگا یا کشتی رانی؟ سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے بڑا "حکیمانہ" فیصلہ کیا۔ کسی نے تکیے بھیجے، کسی نے فوم، اور ایک صاحب تو بازار سے بیڈ کے دو فوک لے آئے کہ "اس سے پانی خشک کرینگے"۔ لگتا تھا کسی ہال میں شادی کے بعد صفائی چل رہی ہے، بس فرق یہ تھا کہ یہاں دولہا پانی تھا اور باراتی سب پریشان۔
انٹری کا نظام بہرحال کمال کا تھا۔ گیٹ پر ڈائریکٹریٹ کے ملازم پولیس کو بتا رہے تھے: "یہ صحافی ہے، یہ نہیں ہے۔" یوں لگ رہا تھا جیسے پاسپورٹ کنٹرول پر کھڑے ہیں۔ جو پہچانے گئے، وہ اندر، باقی باہر۔
اب ذرا دھیان معاذ اللہ خان کرکٹ اکیڈمی کی طرف لے چلتے ہیں، جو ارباب نیاز اسٹیڈیم ہو، یا عمران خان اسٹیڈیم، یا پشاور اسٹیڈیم، نام کچھ بھی رکھ لیں لیکن گند اتنا تھا کہ بجائے صفائی کرنے کے انتظامیہ نے شامیانے لگا دیے تاکہ کم از کم نظر تو نہ آئے۔ یہ بھی ایک انوکھا طریقہ ہے: اگر گند صاف نہ ہو تو اسے پردے کے پیچھے چھپا دو۔
انتظامیہ کو البتہ ایک "اشرفی عقل" آئی کہ فٹبال گراونڈ میں گاڑیاں اندر جانے نہ دیں۔ ورنہ بارش کے بعد چمن کی گھاس کا وہی حال ہوتا جو سبزی کے پتے کا سالن میں ہوتا ہے۔ گاڑیاں دوسری طرف کر دیں تاکہ کم از کم چمن بچ جائے۔
اب آتے ہیں کتے پکڑنے کی مہم پر۔ ڈبلیو ایس ایس پی جو گندگی اٹھانے کی ذمہ دار ہے، اسے کتے پکڑنے کی ڈیوٹی بھی دے دی گئی۔ تین دن میں پندرہ کتے پکڑ بھی لیے گئے۔ لیکن باقی ابھی بھی اسٹیڈیم کے باہر مستیاں کرتے پھر رہے ہیں۔ انتظامیہ کو ڈر ہے کہ میچ کے دوران اگر کوئی کتا گراونڈ میں آ گیا تو پھر کھیل ہاکی کا ہوگا یا کتوں کے تعاقب کا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
ایک ہفتے سے ڈائریکٹریٹ کے ملازم اسٹیڈیم میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں۔ میڈیا کے لیے جو کونا بنایا گیا وہاں رات کی باسی روٹی اور سالن کا ڈبہ پڑا تھا۔ جب کئیر ٹیکر سے پوچھا کہ یہ کیا حال ہے تو جواب آیا "میڈیا والے ناشتہ کرکے گئے ہیں۔" حالانکہ جس پلاسٹک کے ڈبے کو وہ ناشتہ کہہ رہا تھا، اس میں بارش کا پانی تیر رہا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ وہ میڈیا والے کون تھے تو صاحب نے لمبی سانس لے کر کہا "رات کو آئے تھے"۔ اور جب پوچھا گیا کہ رات کو کون سا میڈیا کوریج کرتا ہے، تو موصوف خاموش ہوگئے۔
اب شہر کی صورتحال دیکھ لیں۔ باچا خان چوک سے گورنمنٹ کالج تک روڈ بند، دکانیں بند، سبزی منڈی بند۔ لگ رہا تھا جیسے میچ نہیں کرفیو لگ گیا ہو۔ ایک طرف سیلاب زدگان مدد کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی روزی بند کی جا رہی ہے۔ یہ انتظامات کم اور طنز زیادہ لگ رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ آئیڈیا کس نے دیا کہ اتنی بارش، اتنی گندگی اور اتنے مسائل کے باوجود یہاں کرکٹ میچ ہونا چاہیے؟ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے میلے 35 اضلاع میں کراتے، وہاں سے آمدنی سیلاب زدگان کو دے دیتے۔ پانچ لاکھ بھی نکل آتے تو غریبوں کا بھلا ہو جاتا۔ لیکن یہاں تو نقار خانے میں طوطی کی آواز ہے، اور طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔
یہی نہیں، صوبے کے کئی اضلاع میں ڈی ایس اوز کا حال بھی عجیب ہے۔ کچھ ہفتے میں دو دن آفس جاتے ہیں اور باقی دن "چپ کا روزہ" رکھتے ہیں۔ کچھ سیکورٹی کا بہانہ بنا کر غائب رہتے ہیں، جیسے پورے ضلع میں صرف انہی کی جان خطرے میں ہے۔ باقی افسران، کمشنر، پولیس سب نوکری کر رہے ہیں لیکن ڈی ایس اوز کو سیکورٹی تھریٹ ہے۔ اگر یہی حضرات میلوں کا بندوبست کرتے تو شاید کچھ فائدہ ہو جاتا۔
آخر میں آ جاتے ہیں اصل "پھڑ" پر۔ بینرز اور ہولڈنگز پر لمبی چوڑی کہانیاں، پرائیویٹ اداروں کو مینجمنٹ دینے کے بعد جو بچتا ہے وہ صرف نعرے ہیں اور بیچارے کھلاڑی۔ اور بارش کی اس صورتحال میں دعا یہی ہے کہ میچ ہو بھی جائے تو کھلاڑی کرکٹ کھیلیں، کشتیاں نہ لڑیں۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ موجودہ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تو میرے لکھنے اور تصاویر پر اس حد تک برہم ہیں کہ میرے لیے دوزخ میں خصوصی جگہ مختص کر چکے ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ "ڈانس پارٹی والے جو ٹھیک سمجھتے ہیں وہی ٹھیک ہے، باقی سب غلط"۔ اب اگر کسی نے پانی میں ڈانس نہیں کیا تو شاید یہی ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ لگتا ہے کہ کھیلوں کے میدان سے زیادہ شوق اب سیاسی ناچ گانے کے مقابلے کا ہے، اور جو ان کی تال پر نہ ناچے وہ برا آدمی ہے۔
#kikxnow #digitalcreator #musarratullahjan #sportsnews #Mojo #mojosports #kpk #Kp #cricket #match
|