پی سی بی کوچنگ کا سرٹیفکیٹ: کرکٹ نہیں، مذاق!


پاکستان کرکٹ بورڈ کے کوچ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہ کرکٹ کو آگے لے جانے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو سرٹیفکیٹ کا خواب دکھانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس ملک میں کرکٹ مذہب کی طرح کھیلا جاتا ہو، وہاں کوچنگ سسٹم کی حالت یہ ہے کہ لیول ون اور لیول ٹو کے سلیبس اب بھی 2004 کے نوٹس پر چل رہے ہیں۔ یعنی جدید کرکٹ کہاں گئی؟ ٹی ٹوئنٹی، پاور ہٹنگ، ڈیٹا اینالسس، بائیو مکینکس، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ؟ کچھ نہیں۔ بس 2004 کے نوٹس اور اسائنمنٹ فوٹو کاپی کروا کر اگلے امیدوار کو تھما دیے جاتے ہیں۔

سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا ڈیپارٹمنٹ صرف دو بندوں اور ایک چائے بنانے والے کلرک پر چل رہا ہے۔ جی ہاں، آپ نے صحیح سنا۔ دنیا بھر میں جہاں کوچنگ ایجوکیشن کے لیے الگ انسٹی ٹیوٹ بنائے گئے ہیں، وہیں پاکستان میں دو لوگ بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں کہ کون کوچ بنے گا اور کس کو باہر رکھنا ہے۔ یہاں کوچنگ کے کورسز میں داخلہ لینے کے لیے کرکٹ کھیلنے کی شرط نہیں۔ جی ہاں، اگر آپ نے زندگی میں کبھی بال پکڑنے کے بجائے صرف آم کھائے ہیں تب بھی آپ کوچنگ سرٹیفکیٹ لے سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ ریجنل صدر آپ کے ساتھ ہوں۔ سفارش ہو تو آپ "کوچ" ہیں، ورنہ آپ کرکٹ چھوڑ کر بھیس بدل کر ڈرائیور یا استاد لگ سکتے ہیں لیکن کوچ نہیں بن سکتے۔

پیسے جمع کروانے کے بعد سب برابر ہیں: چاہے آپ گراو?نڈ مین ہوں، ریڑھی لگانے والے ہوں یا دودھ دہی بیچنے والے۔ فیس ادا کریں اور کوچنگ کورس میں خوش آمدید۔ اب چاہے آپ کرکٹ کا بال بیٹ کی بجائے ڈنڈے سے کھیلتے ہوں، کوئی مسئلہ نہیں۔اب تو حال یہ ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ میٹرک کی فیک ڈگری جیسا بن گیا ہے۔ جس کے پاس ہو، وہ بھی پریشان، جس کے پاس نہ ہو، وہ بھی سکون میں۔ ہنسی کی بات یہ ہے کہ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد بھی کوچنگ کا کوئی معیار نہیں۔ ایک ویڈیو تو وائرل ہوئی جس میں کوچ لیفٹ آرم اسپنر کو رائٹ ہینڈ سے ڈرل کروا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ جمپ لگانے کے لیے اس کھلاڑی کے بیگ کو ہی رکاوٹ کے طور پر رکھ دیا۔ یعنی لیول ون کا مطلب ہے "لیول زیرو پلس مزاقیہ حرکات"۔

ایک اور کمال یہ ہے کہ لیول ون والے کوچ اگلے نئے امیدوار کو وہی پرانے اسائنمنٹ دے دیتے ہیں کہ یہ لکھ لو، پاس ہو جاو? گے۔ اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پی سی بی کا اصل کورس کوچنگ نہیں بلکہ "کاپی پیسٹ ماسٹر کلاس" ہے۔اصل سوال یہ ہے کیا پی سی بی نے یہ کوچنگ کورس کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے بنایا ہے یا کسی وارد کمپنی کے سیلز مین نے اپنا پیکیج بیچنے کے لیے؟ کئی سالوں سے کورسز کا معیار وہی ہے: بس پیسے جمع کروا دو، چاہے کھیلنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیلنٹ رکھنے والے کوچز باہر ہیں اور سرٹیفکیٹ والے "بااثر کوچ" اندر۔

اگر واقعی پاکستان کو عالمی معیار کے کرکٹرز بنانے ہیں تو سب سے پہلے کوچنگ ایجوکیشن سسٹم کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ نئے لوگ لانے ہوں گے، ٹریننگ کو بہتر بنانا ہوگا اور میرٹ کو پہلی شرط بنانا ہوگا۔ ورنہ یہ سرٹیفکیٹ گلی کے کتوں کے پاس بھی ہوں گے اور ان کی اہمیت وہی ہوگی جو آج فیک میٹرک کی ڈگری کی ہے۔یہ صرف بدنظمی نہیں بلکہ کرکٹ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اگر کوچنگ ایجوکیشن بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کرکٹ وہی گھسے پٹے مسائل دہراتی رہے گی۔ اب وقت ہے سخت سوال کرنے کا اور حساب لینے کا، ورنہ کوچنگ کورس صرف ایک مذاق رہ جائے گا۔

#PCB #Cricket #Coaching #CoachEducation #PakistanCricket #Corruption #Nepotism #Mismanagement #Accountability #FutureOfCricket #SportsIntegrity #CricketDevelopment
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 761 Articles with 622199 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More