خدمت خلاق عین عبادت

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ثوبیہ اجمل، لاہور
آج کل کے دور میں ہر انسان بے حد مصروف ہے۔ ہر انسان اپنے لئے سوچتا ہے اور فکر معاش میں ارد گرد سے لا تعلق سا نظر آتا ہے۔ دوسروں کے مسائل سے بالکل نا واقف ہو چکا ہے اور اس معاشرے میں رہنے والوں کا لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ عبادت کو صرف نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ تک محدود کر چکے ہیں ۔ جب کہ ہمارا دین ہمیں یہ دوسروں کے کام آنا اور ایثار کرنا سیکھاتا ہے۔ آج کل کے دور میں کوئی کسی کے کام آبھی جائے تو اسے فوراً فراموش کردیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کوئی کسی کے کام آنا بھی چاہیے تو یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ خود غرضی کا زمانہ ہے ۔

خدمت خلق کی اہمیت اس وقت اور زیادہ ہوجاتی ہے جب کسی علاقہ میں کوئی قدرتی آفت یا طوفان آجائے یا کہیں کوئی حادثہ ہوجائے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کو فوری مدد و تعاون کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت خدمت کا موقع بھی ملتا ہے۔ ان حالات کو غنیمت جانتے ہوئے ان جگہوں پر پہنچ کر مصیبت زدہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جاسکتی ہے۔

یہاں یہ چیز قابل ذکر ہے کہ خدمت خلق صرف مال و دولت کے ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ افراد طاقت کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے۔ جہاں مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں مال خرچ کرنا ہی افضل ہے ، مگر کہیں مال کی نہیں اخلاقیات کی خدمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی انسان کو خدمت کے لیے لازمی نہیں پیسے ہی چاہئیں ہوں، ممکن ہو اسے آپ کی مدد چاہیے۔ کچھ کام میں مدد فراہم کردیں۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ شاید ہمیں کسی کے ساتھ کی گئی نیکی کا بدلا اس دنیا میں نہیں ملتا نہ ملے مگر اﷲ کے ہاں ضرور مقبول ہوگی اورہمیں اس کا اجر ضرور ملے گا ہمیں اپنی آخرت پر نظر رکھنی چاہیے اور اﷲ تعالی کی خوشنودی ہر حال میں ہمارے لیے مقدم ہونی چاہیے۔ یہ ہی کامیابی کا زینہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501880 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2018 Views: 277

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ