عزت ماب عمران خان ۔۔۔ کیا مرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے

(نذر حافی, islamabad)

انسان آج بھی وہیں کھڑا ہے، جہاں ہزاروں سال پہلے کھڑا تھا، کمزور آج بھی بے بس ہے جبکہ طاقتور آج بھی خدا بنا ہوا ہے۔سعادت حسن منٹو نے ٹوبہ ٹیک سنگھ نامی افسانے میں انسان کی بے بسی کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا تھا۔ افسانے کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے ۔

البتہ ادھر آج کے نئے پاکستان میں گمشدہ لوگوں کے بارے میں ابھی تک حکمرانوں کو کچھ خیال نہیں آیا، انہوں نے سوچا ہی نہیں کہ لاپتا کئے جانے والے لوگوں کو کس طرح نئےپاکستان کی عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جو مجرم ہوں انہیں پرانے پاکستان کی جیلوں میں سزا دی جائے جبکہ باقی بے گناہ لوگوں کو نئے پاکستان میں آزاد چھوڑ دیا جائے۔

ابھی تک ہمارے حکمران اور چیف جسٹس صاحبان اس مسئلے پر مل کر بیٹھے ہی نہیں کہ لوگوں کو ماورائے عدالت اغوا اور قتل کرنے والوں کے ساتھ کیا قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

ابھی ہمارے پاگل خانوں جیسے ٹارچر سیلوں میں عابد باکسر ، انور راو نیز گلو بٹ جیسوں کا سکہ چلتا ہے۔۲۴جون ۲۰۱۸ کو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے لاپتا افراد اور ان کے اہل خانہ کی حالت زار پر بہت افسوس ہوتا ہے، صرف جوان نہیں بلکہ57 سال کا بوڑھا شخص بھی لاپتا ہورہا ہے، لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ان کے پیاروں کے ساتھ حادثہ ہوگیا تو شاید صبر آجائے، اللہ کرے یہ تمام افراد زندہ ہوں، مجھے یقین ہے میری ایجنسیوں نے انہیں نہیں اٹھایا ہوگا۔ ایک درخواست گزار نے کہا کہ اگر ان اداروں نے نہیں اٹھایا تو تلاش کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔

جی ہاں لا پتہ لوگوں کوبرآمد کرنا یہ سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے۔ یہ نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والوں کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لاپتہ لوگوں کا سراغ لگائیں اور لوگوں کو لاپتہ کرنے والوں کو عدالتوں میں لا کر ان سے باز پرس کریں۔

یقینا وہ لوگ انتہائی ظالم ہیں جنہوں نے سرکاری دھونس کی بنا پر عام شہریوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اسی طرح وہ لوگ بھی کم ظالم نہیں ہیں جو ان ظالموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔

نئے پاکستان میں اُن ظالموں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے ، ان وزیروں اور مشیروں کو تختہ دار پر لٹکایا جانا چاہیے اور ان اربابِ اقتدار کو کڑی سزائیں دی جانی چاہیے جنہوں نے نیشنل ایکشن پلان کا غلط استعمال کیا ہے، اپنے اختیارات سے سوئے استفادہ کیا ہے اور بےگناہ لوگوں کو اغوا اور لا پتہ کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تبدیلی کے نعروں کے بجائے عوام کو حقیقی خوشخبری سنائی جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے۔

یہ کتنا گھناونا جرم اور انسانیت سوز سلوک ہے کہ کسی بھی شہری کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد پھر اچانک کہیں پر پھینک دیا جاتا ہے اور لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد دھمکایا جاتا ہے کہ وہ رہائی ملنے کی صورت میں اپنی زبان نہ کھولیں۔ اس طرح کے تحقیر آمیز اور انسانیت سوز سلوک سے ہی ملک دشمن افراد جنم لیتے ہیں۔

سالوں اور مہینوں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں پھرنے والے پاکستان کے شہری عمران خان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ حسبِ وعدہ ،کمزور لوگوں کا ساتھ دیں ، جبری گمشدگی اور افراد کو لاپتہ کرنے کے سلسلے کو رکوائیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنائیں۔

اگر نئے پاکستان میں بھی ، پاکستانی پرانی بے کسی کی زنجیروں میں ہی جکڑے رہیں تو پھر نئے پاکستان میں پرانے پاکستانیوں کے لئے کیا خوشخبری ہے۔

دورتک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی
کیا مرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 34216 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2018 Views: 188

Comments

آپ کی رائے