یہ وطن ہمارا ہے ۔ہم ہیں پاسباں اس کے

(Suleman Usmani, )

ہمارا پیا را ملک لاالہ الا اﷲ کے مقدس نام پر حاصل کیا گیا،چودہ اگست ہماری تاریخ کا یادگاردن ہے یہ وہ دن ہے جس دن پاکستان کا قیام ایک آزاد ملک کی حیثیت سے عمل میں آیا۔اس آزادی کیلئے مسلمانان ہند نے کتنی قربانیاں دی تھیں ۔کتنے علماء کو جیلوں میں ڈالاگیا تھا ۔آزادی کے کتنے ہی متوالے تھے جن کی لاشیں درختوں پرلٹکتی رہیں ،کتنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وناموس پامال کی گئی، کتنی سہاگنوں کے سہاگ چھین لئے گئے ،کتنے شوہروں کے سامنے ان کی بیویوں کی عفت وعصمت کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔آزادی کا یہ سفر پھولوں کی سیج پر نہیں کانٹوں کی باڑپر طے ہوا تھا ۔

لاکھوں بچوں کو یتیم کروانے ،ہزاروں ماؤں بہنوں ،بیٹیوں کو بے آبروکروانے کی کیا ضرورت تھی؟کوئی نہیں سوچتا کہ ہم نے آزادی اس لئے حاصل کی تھی کہ ہم انسانوں کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور صرف اﷲ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیں ،ہمیں ایک ایساخطہ حاصل ہوجائے جہاں صرف اﷲ اور اﷲ کے رسول اکا قانون چلے ہم انگریزوں کے ظالمانہ ، کافرانہ قوانین یک لخت منسوخ کرکے وہاں قرآن وسنت کو بہترین قانون بنادیں۔

یہ اب کسی کو یاد نہیں ہوگا کہ ہم نے ایک قوم ہونے کی حیثیت سے یہ عہد کیا تھا کہ اس نئی مملکت میں سماجی مساوات ہوگی معاشی عدل وانصاف ہوگا اسلامی اخوت ہوگی انسانی حقوق کا تحفظ ہوگا۔ظلم اوراستحصال کا ہر صورت خاتمہ کردیا جائے گا قیام پاکستان کے وقت سب کا نعرہ یہی تھا ،پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔لاالہ الا اﷲ اور عہد کیا تھا کہ ہم آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے اپنا ملک چلائیں گے ہماری اپنی سیاست اور معیشت ہوگی لیکن ہم نے یہ سارے وعدے پس پشت ڈال دیئے ہم نے آزادی کی کوئی قدر نہیں کی ہم نے اپنے آپ سے بھی بے وفائی کی اور خون شہیداں ،آہ مظلوماں سبے بھی بے وفائی کا حق اد اکیا اور مسلسل کرتے جارہے ہیں ۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ہاں معاشی لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ ہے ،کیا یہ حقیقت نہیں ہماری عدالتوں ،تھانوں میں قانون کی سرعام بولی لگتی ہے ،کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارے ملک میں رشوت اورسفارش کے بغیر جائز کام بھی نہیں ہوتا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمار ابجٹ آئی ایم ایف کے دفاتر میں تیار ہوتا ہے کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ کے اشاروں پرہم اپنے قیمتی مسلمانوں اور سچے محب وطنوں کو جیلوں میں ڈالنے ،گولیوں ،بموں ،میزائل حملوں سے اڑانے اور غیروں کے حوالے کرنے کیلئے ہروقت تیار رہتے ہیں ۔ہاں یہ سب زندہ حقیقتیں ہیں ۔ان حقیقتوں کا وہی انکار کرسکتا ہے جس کے ماتھے پر آنکھیں ،سرمیں دماغ اور سینے میں دل نہ ہو۔ کیا ان زندہ حقیقتوں کی موجودگی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے وہ آزادی حاصل کرلی ہے جس آزادی کیلئے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں تھیں؟ کیاہمارے شادیانے بجانے ،جھنڈے لہرانے ،چراغاں کرنے گلے پھاڑ پھاڑ کرکھوکھلے نعرے لگانے سے حقائق بدل جائیں گے ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔

اے میری پیاری دھرتی !ہم نے تو یہی سمجھا تھا کہ 1947کے لاکھوں شہداء کرام کے مقدس خون کی برکت سے تیری سرزمین تاصبح قیامت امن واخوت بھائی چارے کا گہوارہ بن کررہے گی ۔مگر ایسا لگتا ہے تجھے ضرور کسی کی نظر لگ چکی ہے اور تمام طاغوتی طاقتیں تجھے مٹانے کے درپے ہیں ،خدا نہ کرے کہ یہ کفریہ طاقتیں اپنی منزل تک پہنچ پائیں۔

جشن آزادی منانے والے دوستوں بزرگوں ماؤں ،بہنوں اور نوجوان بھائیوں سے گزارش ہے کہ خدارا ان مقاصد کوہرگزفراموش ہونے نہ دیجئے گا جن کیلئے ہمارے بزرگوں نے اﷲ سے یہ جنت نظیر خطہ مانگا تھا اور حسن اتفاق یہ کہ آزادی کیلئے کی جانے والی دعائیں اس گھڑی قبول ہوئیں وہ نزول قرآن کی رات تھی یعنی رمضان المبارک کی 27ویں شب تھی ۔کیا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ رب کریم کی طر ف سے واضح اشارہ تھا کہ یہ آزادی اور آزاد ملک تمہیں اسلیئے دیا جارہا ہے تاکہ تم یہاں قرآن کریم کے احکام نافذ کرو لیکن ہم نے قدرت کے اس واضح اشارہ سے بھی آنکھیں بند کرلیں اورقرآن کو عملی زندگیوں میں نافذکرنے کی بجائے اسے ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر الماریوں میں سجادیا ۔

اگر آج بھی مسلمانان پاکستان اپنے وطن عزیزکے دفاع اور نفاذ اسلام و دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے اور ملک کو اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کیلئے کمر بستہ ہو جائیں تو ان شاء اﷲ وہ وقت دور نہیں جب ہمیں کامیابیاں حاصل نہ ہوں ،ہم اپنے اتحاد و یکجہتی و جذبہ اسلامی سے اندرونی و بیرونی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں،وطن عزیز پاکستان دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جو لاالہ الا اﷲ کے نا م پر حاصل کیا گیا جس کی آزادی کیلئے لاکھوں لوگوں نے ایسی لا زوال قر بانیاں دیکر ایسی تاریخ رقم کر دی جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گی ،مگر آج اس بات کا افسوس ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا ،آج 71سال گزر جانے کے بعد بھی رب کی دھرتی پر رب کا نظام اور اس کے پیارے رسول ا کی شریعت نافذ نہ ہو سکی ۔

اس لئے !آئیے عہد کریں اور کیوں نہ کریں ۔آج تو تجدید عہد کا دن ہے اپنے کردار اور عمل ، غلطیوں ،بے وفائیوں کے محاسبہ کا دن ہے 71سال کے آئینے میں اپنے ظاہری اور باطنی ،داخلی اور خارجی داغ دھبے دیکھنے کا دن ہے ۔ہمیں آج نئے سرے سے عہد کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے بقیہ ایام مقاصد آزادی کے حصول کیلئے وقف کردیں گے ۔غداروں اور ملک دشمنوں سے مفاہمت نہیں کریں گے ۔اور اپنے محسنوں مجاہدوں سے وفا داری اور شہیدوں کے خون سے بے وفائی نہیں کریں گے ،اس موقع پر ہم بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح ؒ اور لاکھوں شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ شہداء جن کی عظیم قر بانیوں کی بدولت اﷲ تعالیٰ نے ہمیں آزادی کی دولت نصیب فرمائی ،اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اپنے وطن کی مٹی سے محبت عطا فرمائے-

اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن کی حفاظت فرمائے اس کو دہشتگردی سے پاک کرے ۔ امن وامان اور استحکام عطا فرمائے اور صبحِ قیامت تک اس کو آباد وشاد رکھے ۔ آمین یا رب العالمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Suleman Usmani

Read More Articles by Suleman Usmani: 90 Articles with 40700 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2018 Views: 243

Comments

آپ کی رائے