حبّ الوطنی

(Ajai Malviya, India)

نِطشے نے کہاتھا کہ ایسے الفاظ کو ڈیفائن نہیں کیا جا سکتا جن کے ساتھ ایک تواریخ وابستہ ہے کیونکہ ان الفاظ کا مطلب ان سے وابستہ کہانیوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ لفظ حب الوطنی کے ساتھ بھی کم و بیش یہی بات نظرآتی ہے۔ اصل میں یہ لفظ یا یہ اصطلاح امریکی اور فرانسیسی انقلابات کے بعد ہی نظر آتی ہے اور انھیں انقلابات کے بعد کرۂ ارض پر ایک نئے خدا کے ظہور کی نوید سنی گئی اور یہ خدا تھا : la patrie, ، یعنی نیشن …… یا وطن ۔ اور اس نئے خدا کے تحفظ کے لئے اسٹیٹ یعنی ریاست کا ادارہ وجود میں آیا۔1792 میں فرانس کی نیشنل اسمبلی میں Abbe Sieyes نے اس نئے خدا یعنی وطن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا :
' ....the nation exixsts before all. it is the origin of everything. It is the law
itself.... The image of the patrie is the sole divinity which is permitted to worship.'
مگر جیفرسن ، لنکن اور مارٹن لوتھر کنگ نے ایک دوسری قسم کا تصور بھی دیا جو اپنی زمین یا اپنے لوگوں اور اپنی ثقافت کا امین تو تھا مگر دوسروں کی تضحیک یا زوال نہیں چاہتا تھا اور سب کے لئے مساوی انصاف کا متمنی تھا ۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر Richard A. Cloward کہتے ہیں کہ یہ انتہائی افسوسناک امرہے کہ دانشور اور مفکرین بھی اپنے وطن کی اچھائی یا برائی کے تحفظ میں اندھی وفاداری یعنی blind loyalty دکھاتے ہیں ، اور جو ایک ایسا خطرناک رحجان ہے جس کی وجہ سے وطن کے نام پرکی جانے والی عسکری کاروائیوں کو بھی حمایت مل جاتی ہے۔
قدیم روم کے تھنکر Tacitus نے حب الوطنی کے بارے میں کہا تھا ہمیں اپنے اسلاف کے ساتھ مسابقت کرنی چاہیے ۔ اور فلیگ کو سلام کرنے کے رحجان سے ماؤرا ہو کرحالات سے مناظرہ کرنا چاہیے ، یعنی :
'Beyond saluting the flag, let us pledge allegiance "to the earth,
that it supports; one planet and to the flora, fauna and human life
indivisible, with clean air, soil and water, liberty, justice and peace
for all....'
اور شاید اسی جذبے کی توسیع میں تقریباً ایک سو سال پہلے تھوریو نے کہا تھا :
"I am a citizen of the world first, and of this country at a later and more convenient hour."
مگر ازمنہ جدید کے انھیں مفروضوں کی توثیق و تصدیق کے لیے ہزاروں سال قبل قدیم ہندوستانی فکریات میں کہا جا چکا ہے کہ :
olq/kSoe~ dqVqacde~
یعنی ’ پوری دنیا ایک پریوار ہے ‘
مگرروایتی طور پر لفظ ’حب الوطنی ‘سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک ایسا منظرنامہ ابھرتا ہے جس میں کوئی فوجی یا غیر فوجی شخص دشمن ملک سے لڑتا ہوا جاں بحق ہو جاتا ہے ۔ …… یا پھر ایک ایسا منظر نامہ ابھرتا ہے جس میں ہم بڑے ادب سے قومی ترانے کی تعظیم میں کھڑے رہتے ہیں، یا قومی جھنڈے کی عزت و تکریم کے لئے کسی کی جان کے دشمن بھی بن جاتے ہیں یا پھر اپنے آپ کوالیکشن میں ووٹ ڈالنے ، یا کسی دشمن ملک سے کوئی میچ جیتنے تک محدود کر لیتے ہیں ۔
لیکن زمینی صداقت یہ ہے کہ ہر معاشرتی گروپ لاتعداد خاندانی گروپوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ہر خاندان کی طرح ہر معاشرتی گروپ اپنی تمام اکائیوں سے اپنے تئیں وفاداری کا مطالبہ کرتاہے۔ اسی طرح ذات یا قبیلیائی یا مذہبیاتی بنیادوں پر استوار ہر اکائی اپنے تئیں وفاداری کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور یہی اجتماعی وفاداریاں ملکی سطح پر یا میکرو لیول پر وطن یا اسٹیٹ کے لئے ایک جذبہ بن کرحب الوطنی بن جاتی ہے۔
واضح رہے کہ یہی حب الوطنی ازمنہ وسطیٰ میں بھی وفاداری کے تقاضوں کی ایک وسیع تر شکل ہے۔ اس زمانے میں یہ رفیع تر انسانی مطالبات کسی ایک حکمران گروپ کی جانب سے کیے جاتے تھے ، مثلاً موریہ خاندان کی جانب سے، گپت حکمران خاندان کی جانب سے ، مغل حکمراں اور ان کے حواریوں کی جانب سے۔ مگر آج وطن کا تصور وہ بھی نہیں ہے بلکہ اس کی توسیع ہو گئی ہے۔آج وفاداری کا مطالبہ کسی ایک حکمران گروپ یا معاشرتی اور مذہبی گروپ کی جانب سے نہیں بلکہ اسٹیٹ یعنی ریاست کی جانب سے کیا جاتا ہے جو نئے دور کے ایک طاقتوور ادارے کی حیثیت سے ابھرا ہے لیکن جس میں سب سے پہلی شرط انسانی مساوات کی ہے ۔
ریاست یعنی اسٹیٹ میں تمام لسانی، مذہبی ، معاشرتی گروپ ضم کر دئیے گئے ہیں ۔ اور اس میں ایسی علامتوں کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے جو تمام معاشرتی گروپوں کے لئے مشترکہ ہوں جیسے جھنڈا ، ترانہ وغیرہ جنہیں بجا طور پر مذہب سے بالاتررکھا گیا ہے ۔
جب ایک ملک دوسرے پر حملہ کرتا ہے تو سب سے آسان راستہ ہوتا ہے شکست تسلیم کر کے فاتح کے اشاروں پر ناچنا…… لیکن اگر ہماری کوئی اپنی تہذیب ہے (یاد رہے کہ تہذیب ماضی سے نکلتی ہے) اور اگر ہم ان تہذیبی اقدار کی عزت کرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں ، انہیں قائم رکھنا چاہتے ہیں، تو ہم حملہ آور کی مزاحمت کرکے اپنے تہذیبی اقدار کا تحفظ کرتے ہیں …… اپنے تہذیبی، ثقافتی ، تواریخی ، سیاسی، فکری اور زمینی سرمائے کی حفاظت کی اس خواہش اور عملی کوشش کا نام ہی حب الوطنی ہے۔لہٰذا زمین کے اس خطے میں جہاں آپ کے اسلاف رہتے تھے ، آپ رہتے ہیں اور جہاں آپ کی آیٔندہ نسلیں رہیں گی، کے تئیں وفاداری اور دفاع کے جذبے کو حب الوطنی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔
لیکن زمین کے کسی بھی خطے کی سلامتی اور تحفظ کو اسی صورت میں یقینی بنایا جا سکتا ہے جب یہاں انفرادی آزادیاں ، بنیادی حقوق ، اوراختلاف رائے کے حق کا حاسدانہ تحفظ ممکن ہو سکے۔اور ان حقوق کے تحفظ کے لئے ریاست کا عمل دخل کم ترین ہونا لازمی ہے ……

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajai Malviya

Read More Articles by Ajai Malviya: 33 Articles with 38263 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2018 Views: 217

Comments

آپ کی رائے