ماہ ذی الحجہ اور قربانی

(Maryam Arif, Karachi)

 تحریر: مفتی عثمان الدین، کراچی
سال کے اسلامی بارہ مہینوں میں رمضان المبارک اور ذو الحجہ کے مہینے عبادات کے حوالے سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔رمضان کے مہینے میں روزے، تراویح، اعتکاف، صدقہ فطر جیسی اہم عبادات ادا کی جاتی ہیں تو ماہ ذی الحجہ میں مسلمان حج اور قربانی کی عظیم عبادتیں ادا کرتے ہیں ۔مسلمانوں کے لیے سال میں دو عیدیں ،عید الفطر اور عید الاضحی بھی انہی مہینوں اور عبادتوں کی مناسبت سے رکھی گئی ہیں ۔الحمد ﷲ ماہ ذی الحجہ شروع ہوچکا ہے ،اس مہینہ کی سب سے بڑی اور عظیم عبادت بلا شبہ حج ہے، جن مسلمانوں کو اس ماہ میں یہ سعادت حاصل ہوتی ہے وہ انتہائی خوش نصیب ہیں البتہ حج کیعلاوہ دیگر چند اہم عبادات ،احکام بھی اس مہینہ سے متعلق ہیں جو تمام ہی مسلمانوں کے لیے عام ہیں،ان کا علم میں ہونا ضروری ہے اس لیے اختصار کے ساتھ ان کو ذکر کیا جارہا ہے ۔

عشرہ ذی الحجہ : اس مہینہ کے شروع کے دس دن اور راتیں خصوصی فضیلت کی حامل ہیں ،ان کی عظمت و فضیلت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ خود اﷲ رب العزت نے قرآن کریم میں ’’و لیال عشر‘‘فرماکر انہیں دس راتوں کی قسم کھائی ہے ۔ دوسری جگہ ان کو ’’ ایام معلومات ‘‘ فرماکر ان میں خصوصیت کے ساتھ اﷲ تعالی کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ رسول کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ :’’کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اﷲ تعالی کے نزدیک ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو‘‘۔لہذا ان دس دنوں اور راتوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان میں ذکر و اذکار ،دعاؤں اور عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا ضروری ہے ۔

عشرہ ذی الحجہ سے متعلق ایک حکم یہ ہے کہ جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو وہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی تک ،جسم کے کسی حصہ کے بال اور ناخن نہ تراشے البتہ یہ ایک مستحب حکم ہے لہذاگر کوئی اس پر عمل نہ کرسکے تو گناہ نہیں اور قربانی پر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا ۔

یوم عرفہ کا روزہ : عید الاضحی سے ایک دن قبل نو ذولحجہ کے دن کو ’’یوم عرفہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس دن روزہ رکھنے کا بہت اجر وثواب ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’:عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اﷲ تعالی سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کے ذریعہ سے ایک سال پچھلے اور ایک سال اگلے گناہ معاف فرمادیں گے‘‘۔ ایک دن کے روزے پر اتنی بڑی فضیلت ہے لہذا اس فضیلت کوحاصل کرنے کے لیے اس دن روزے کا اہتما م ہونا چاہیے ۔

تکبیراتِ تشریق :یوم عرفہ یعنی نو ذوالحجہ کو فجر کی نماز سے تیرہ ذوالحجہ کی نماز عصر تک ،ہر فرض نمازکے فورا بعد مردوں کے لیے بلند آواز سے اور عورتوں کے لیے آہستہ آواز میں تکبیر تشریق کہنا واجب ہے ۔یہ کل تئیس نمازیں ہوئیں جن کے بعد درج ذیل الفاظ میں تکبیر تشریق کہنا واجب ہے : اﷲ اکبر اﷲ اکبر لاالہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد

قربانی: عید الاضحی کے دنوں میں اﷲ تعالی کی رضا کے لیے اور اس کا نام لے کر مخصوص جانوروں کو ذبح کرنا ’’قربانی‘‘ہے جو کہ اس مہینہ کی اہم ترین عبادت ہے۔قربانی کے اس عمل کو ’’سنت ابراہیمی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اﷲ تعالی کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو ان دونوں نے اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا ،اﷲ تعالی کو ان کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ یادگار کے طور پر ہمیشہ کے لیے قربانی کی سنت جاری کردی گئی ۔ قربانی کا فلسفہ اور اس کی روح بھی یہی ہے کہ انسان اﷲ تعالی کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہر وقت اپنے جان و مال اور ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہے ۔

قربانی ․کا حکم اوراس کی فضیلت : قربانی کرنا واجب اور اسلام کے شعائر میں سے ہے ۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد ایک سال بھی قربانی ترک نہیں فرمائی جو کہ اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے ۔قربانی کرنے والے کو جانور کے ایک ایک بال کے عوض نیکی ملتی ہے ۔حدیث شریف میں ہے کہ:’’ قربانی والے دن کوئی نیک عمل اﷲ تعالی کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں ،بالوں اور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالی کے نزدیک قبولیت حاصل کرلیتا ہے لہذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو ۔‘‘ایک حدیث میں یہ وعید بھی منقول ہے کہ جو شخص قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے ۔

قربانی کس پر واجب ہے ؟ : جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے ۔ جس کے پاس قربانی کے دنوں میں اپنی ضرورت سے زائد اتنا نقد روپیہ یا سامان موجود ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے ۔

قربانی کے جانور : اونٹ،گائے،بھینس،بکری اور بھیڑ(نر ومادہ)ان جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے ۔

ان جانوروں میں سے بھیڑ اور بکری کا ایک سال ،گائے اور بھینس کا دو سال اور اونٹ کا پانچ سال کم از کم عمر ہونا قربانی کے لیے ضروری ہے ،اس سے کم عمر ہوتو اس جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔البتہ بھیڑ اور دنبہ اگر اتنا موٹاتازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو اگرچہ عمر کم ہو تو بھی قربانی جائز ہے ۔قربانی کے ان جانوروں میں سے اونٹ ،گائے اور بھینس میں سات آدمی بھی قربانی کے لیے شریک ہوسکتے ہیں لیکن کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہونا چاہیے اسی طرح سات سے کم افراد بھی مل کر ان جانوروں کی قربانی کرسکتے ہیں البتہ سب شریکوں کا قربانی یا عقیقہ کی نیت ہونا ضروری ہے ،محض گوشت کی نیت سے شریک ہونا جائز نہیں ہے ۔

قربانی کے ایام اور وقت :قربانی کا وقت شہر والوں کے لیے دسویں ذوالحجہ کو نماز عید کے بعد سے بارہویں ذوالحجہ کو سورج غروب ہونے تک ہے ۔گاوں اور دیہات والے دسویں ذوالحجہ کو صبح صادق کے بعد نماز عید سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں ۔قربانی کے دنوں ؂ میں افضل عید کا دن ہے پھر گیارہویں اور بارہویں تاریخ ہے ۔اس دوران دن اور رات کسی میں بھی قربانی کرنا جائز ہے البتہ دن میں کرنا افضل ہے ۔
قربانی کا گوشت:قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں ،ایک حصہ اپنے لیے رکھے ،باقی ایک حصہ رشتہ داروں اور ایک غریبوں میں تقسیم کردیا جائے البتہ اگر سارا گوشت اپنے لیے رکھا جائے تب بھی جائز ہے ۔

ماہ ذی الحجہ اور قربانی کے متعلق یہ چند اہم اور بنیادی احکام و مسائل ذکر کیے گئے ہیں ،قربانی سے متعلق اس کے علاوہ بھی کئی سارے مسائل ہیں جن کا احاطہ ایک مضمون میں ممکن نہیں ہے ،قربانی کرنے سے پہلے ان مسائل کو علمائے کرام سے پوچھ کر معلوم کیا جائے ،کسی بات میں کو ئی الجھن پیش آئے تو فورا ان کی جانب رجوع کیا جائے ،اس طرح ان شاء اﷲ قربانی کا عمل درست اور شرعی طریقہ کار کے مطابق ہوگا اور اﷲ تعالی کے ہاں بھی مقبول ہوگا ۔ اﷲ تعالی ہمیں ماہ ذی الحجہ کے تمام اعمال بالخصوص قربانی کا عمل اخلاص کے ساتھ شرعی طریقہ کار کے مطابق کرنے کی توفیق عطا ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 498978 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2018 Views: 332

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ