بچپن کا دور

(Shoukat Ullah, Banu)

انسان پیدائش کے بعد سے بڑھاپے تک نشونما کے سات ادوار سے گزرتا ہے جن میں نوزائیدگی، شیر خوارگی، پچپن، لڑکپن،بلوغت، جوانی اور بڑھاپاشاملہیں۔ ان ادوار میں جسمانی ، نفسیاتی ، ذہنی اور معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ پہلے دو ادوار ( نوزائیدگی اور شیرخوارگی ) تقریباً دو سال کی عمر میں ختم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد پچپن کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دور دو سال سے چھ سا ل تک کی عمر پرمحیط ہوتا ہے۔ اس دور میں بچہ آہستہ آہستہ خودمختار ہونے لگتا ہے اور یہاں تک کے آخری سال میں وہ سکول جانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے اندر پری سکولنگ کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے اور والدین بھی بچوں سے چھٹکارہ پانے کی غرض سے انہیں سکول کی دہلیز پر دھکیل دیتے ہیں۔حالانکہ بچپن کا ابتدائی دور ماں کی گود اور گھر کے ماحول ہونا چاپیے جو بچے کی تربیت کے لئے نہایت موزوں ہوتا ہے۔ بچے کا بولنا، الفاظ کی ادائیگی، جنس سے واقفیت، جسم سے فضلات کا اخراج سیکھنا اور اچھے و برے میں تمیز کرنا اس دور میں نہایت اہم امور ہوتے ہیں جو کہ گھر کے ماحول میں بہترین انداز میں سکھائے جا سکتے ہیں ۔ جس کی عمدہ مثال مادری زبان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ جب تک بچہ گھر کی چاردیواری میں رہتا ہے وہ اپنے ارد گرد بولی جانے والی زبان کو سیکھ لیتا ہے اور جب بچہ گھر سے باہر معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو وہ دیگر بولی جانی والی زبانیں وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ اور سیکھجاتا ہے۔ مادری زبان کے علاوہ گھر کے ماحول میں بچے کے لئے دیگر امور کی تربیت کا سامان بھی موجود ہوتا ہے جن کے لئے والدین اور گھر کی توجہ نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

گزشتہ ماہ ایک شادی کی تقریب کے سلسلے میں راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا۔ بچوں کی موسم گرما کی چھٹیاں تھیں لہٰذا وہ بھی تفریح کی غرض سے ساتھ چلنے پر تیار ہو گئے۔ ہمارا قیام بہن اور بہنوئی کے گھر تھا۔ ایک دن بچے رنگ برنگے طوطوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ بہنوئی نے بچوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہیں؟ بچوں نے کہا کہ طوطے ہیں۔ بہنوئی نے کہا کہ یہ طوطے کہاں ہیں ، یہ تو بکریاں ہیں۔ بچے مسکرا کر بولے۔ ’’ نہیں ، یہ طوطے ہیں‘‘۔ بہنوئی اپنی بات پر مُصررہا اور کہا کہ راولپنڈی میں انہیں بکریاں کہتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک بچوں کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اگلے دن پھر بہنوئی اور بچوں کے درمیان طوطے اور بکریوں کے معاملے پر بحث ہوئی۔ اَب بچوں کے ذہن میں بات مزید پختہ ہوگئی۔ یوں جب ہم لوگ واپس لوٹنے لگے تو بہنوئی نے طوطوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بچوں سے دریافت کیا کہ پنجرے میں کیا ہیں؟ بچوں نے کہا کہ بکریاں ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس دور میں بچوں کا ذہن خالی برتن کی مانند ہوتا ہے جس میں جو چیز ڈالی جائے ، سمو جائے گی۔ پس اس دور میں اُن کو جو چیز سکھائی اور سمجھائی جائے وہ اُن کے ذہنوں میں بیٹھ جاتی ہے ۔ انسانی زندگی میں بچپن کایہ دور تقاضہ کرتا ہے کہ والدین دو سے چھ سال کی عمر میں بچوں کے لئے اپنا قیمتی وقت نکالیں اور اُن کی تربیت اچھے خطوط پر استوار کریں۔ لیکن اس کے برعکس بد قسمتی سے ہمارے معاشرے کے اندر والدین بچوں کی شرارتوں سے نالاں نظر آتے ہیں ، حالاں کہ اس دور میں بچوں کا بھاگنا ، اچھلنا ، کودنا اور چیزوں کا پھینکنا اور پکڑنا فطری عمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچوں میں جسمانی طور پر پھرتی اور چستی پیداہوتی ہے اور ذہنی طور پر مشاہدہ تیز ہوتا ہے۔یا ایک اور وجہ والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچپن کے ابتدائی دور ، یعنی تین سال سے ہی اُن کو سکول داخل کروادیا جاتا ہے ا ور یوں بچے اپنی زندگی کے اس اہم دور میں والدین کی تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہاں والدین کی تعلیمی کمی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ اُن کے پاس بچوں کے مسائل حل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے بچوں کو ٹوکتیرہتے ہیں۔ اوربالفرض محال بچے آپس میں کسی بات پر جھگڑ پڑتے ہیں تو والدین کے پاس مارنے پیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔حالاں کہ انہیں بُلا کر دریافت کیا جا سکتا ہے کہ کیا مسئلہ درپیش آیا ہے اور اس کا مناسب حل تلاش کرکے بچوں کی تسلی و تشفی ممکن ہوسکتی ہے۔ یہاں مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ دو بچوں کا مقدمہ محلے کے بزرگ کے پاس آیا۔ انہوں نے باری باری بچوں سے لڑائی جھگڑے کی وجہ دریافت کی۔ پتہ چلا کہ جھگڑے کا آغاز ایک بچے نے دوسرے بچے کو ’’ ٹینگی خان ‘‘ کہہ کر کیا۔ دوسرے بچے سے بھی رہا نہ گیا اور اُس نے بھی پہلے بچے کو ’’ ٹینگی خان ‘‘ کہنا شروع کر دیا۔یوں بچوں کے مابین ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ بزرگ نے معاملے کو سمجھتے ہوئے دونوں بچوں سے کہا کہ آپ کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ’’ ٹینگی خان ‘‘ مشہور زمانہ پہلوان ہوا کرتا تھا اور آپ ایک دوسرے سے اس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ جب بچوں کو ’’ٹینگی خان ‘‘ کی شخصیت سے متعلق پتہ چلا تو خاموشی سے اپنی راہ لی۔ پس والدین اور بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر نا چاہیے تاکہ بچپن کا یہ دور بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے یاد گار بھی رہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128395 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2018 Views: 622

Comments

آپ کی رائے