بزدل قوموں کے بہادر رہنما

(Abdul Hameed Hamid, )

آدم علیہ السلام سے لے کر آج کے دن تک اﷲ نے ایک متنفس بھی ایسا پیدا نہیں کیا جس نے سچ کہا ہو اور مار نہ کھائی ہو ، جس نے ظلم کو للکارا ہو اور ہتھکڑیاں اور بیڑیاں نہ پہنی ہوں ، جس نے بربریت ہ جبر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا ہو اور قید و بند کی صوبتیں نہ جھیلیں ہوں اور جس نے فسظائیت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہو اور پھانسی پہ نہ چڑھا دیا گیا ہو ۔تاریخ کا سینہ ظلم و بر بریت کا نشانہ بننے والے مظلوموں کی روح کو تڑپا دینے والی عبرت ناک داستانوں سے لبالب بھرا پڑا ہے جس میں گاجر مولی کی طرح وقت کے جابروں کے ہاتھوں کٹ جانے والے مظلوموں کی تڑپتی لاشیں عقل و خرد کی نعمتوں سے نوازے گئے روشن ضمیر انسانوں سے سوال کرتی ہیں کہ ہمیں کس جرم میں لقمہ ء اجل بنایا گیا اور ہر زی شعور کے لبوں پر ایک ہی جواب آتا ہے "عوامی مقبولیت'۔جی ہاں پھانسی کے پھندوں پر جھولنے والوں ، تیل کے کھولتے کڑاہوں میں بھن جانے والوں اور اپنا سر قلم کروانے والوں کے اور بیان کیے گئے" جرائم"کے علاوہ ان میں جو چیز مشترک ہوتی ہے وہ انکی عوامی مقبولیت ہوتی ہے کہ طاقت کے نشے میں دھت متکبر اور بیمار زہنوں کی نگاہوں میں جتنی شدت سے وہ غدار ملک دشمن ، گستاخ ، لادین بد عنوان ہوتے ہیں عوام الناس کی بہت بڑی اکثریت کی نگاہوں میں اس سے گئی گنا مقبول ہوتے ہیں اور لوگ انھیں اپنے کندھوں پہ بٹھاکر مسند اقتدار پہ بٹھانے کے بعد بھی اپنی پلکوں پہ بٹھائے رکھتے ہیں اور انکی دھڑکنوں کے ساتھ انکے سینے میں دھڑکتے ہیں لہذا عوام الناس کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے حسد و بغض سے اٹے بنجر زہنوں میں عوام کے ہر دلعزیز رہنما ؤں کے خلاف کینہ و نفرت کے ایسے سپولے اگتے ہیں جو انھیں غدار اور عوام دشمن ثابت کرنے کے لیے ہر حد کو پار کر تے ہوئے کوچہ و بازار میں پھیل کر انکی مقبولیت کو نفرت میں بدلنے کے لیے نسل در نسل طاقتوروں کی مخبری اور سہولتکاری کرنے والوں کی اولاد وں پر مشتمل ایسی جعلی قیادت سامنے لاتے ہیں جنکو سیاسی افق پر دن کی روشنی میں بھی پرویز مشرف ایسے" دم دار ستارے" نظر آتے ہیں ۔ بھٹو اور گاندھی بر صغیر کے دو ایسے بد قسمت سیاسی خاندان ہیں جنکی عوامی مقبولیت پورے کے پورے خاندانوں کی عبرت ناک ، درد ناک اور شرمناک موت کا سبب بنی حتیٰ کہ ظلم و بربریت کے انسانیت سوز کھیل میں اصناف نازک یعنی اندرا گاندھی اور بے نظیر بھٹو تک کو ایسے درد ناک طریقوں سے موت کے گھاٹ اتارا گیا جو رہتی دینا کے نام نہاد مردوں کی مردانگی کو روز مکافات تک شرمندہ کرتی رہے گی کہ ہر دو خواتین کا جرم سوائے انکی عوامی مقبولیت کے کچھ نہ تھا ۔ بھٹو صاحب اور ا ندرا گاندھی کا جرم بھی بس یہی تھا کہ انکے شب و ر وز ہر دو ملکوں کی غربت و افلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں رینگ رینگ کر اپنی سانسیں پوری کرنی والی عوام کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہوں پر ڈالنے کے لیے جلنے کڑھنے میں بسر ہوتے تھے ۔ بھٹو نے انگریز کی غلامی سے چھٹکارا حاصل ہونے کے بعد سکندر مرزا و ایوب جیسے آمروں کی بد ترین غلامی کے عزاب میں مبتلا قوم کو جو ایک طرف آمریت تو دوسری طرف انگریز کے کتوں کو نہلانے والے او ر انکے گھوڑوں کو خرخرا کرنے والے جاگیرداروں اور وڈیروں کے مزارعے اور غلام بنکر زندگی گزارنے جیسے کرب او ر ازیت کو مقدر سمجھ کر گلے لگا بیٹھی تھی کو غلامی اور بے چارگی سے نکل کر باعزت دندگی گزارنے اور استحصالی جابروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا عزم و حوصلہ دیا جو ایک کے بعد ایک ظالم و جابر کی غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر عالم آب و گل میں زندگی کا عزاب جھیلنے والی قوم کے لیے آب حیات سے کم نہ تھا مگر بد قسمتی کی انتہا دیکھیے کہ بر صغیر سے نکلتے ہوئے انگریز سزا کے طور پر جنکو ہمارے سروں پر مسلط کر گیا تھا ان جاگیرداروں اور وڈیروں نے آمریت کی ملی بھگت سے اسے تختہ دار پر لٹکا کر زبان حال سے یہ پیغام دیا کہ آذاد زندگی کا سپنہ دیکھنے اور دکھانے والوں کا یہی اینجام ہو گا لہذا سیاست میں زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والوں کو ظہور الٰہی ، سجاد حسیں قریشی ، گوہر ایوب وغیرہ بنکر آمریت کی ہر آواز پر لبیک کہنا ہو گا ورنہ بھٹو جیسے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی بھی اپنے فہم ، شعور او ر وراثت میں ملنے والی عوامی ہمدردی کو لیکر اپنے بڑوں کے نعرے کو بلند کرتے کرتے لقمہ ء اجل بن گئے یوں انکا یا انکے والدین کا دیا ہوا شعور اور سوچ بھی انکے جسموں کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہوکر انکی روحوں کے ساتھ عالم ارواح کی طرف روانہ ہو گیا اسی لیے عوام کو طاقت کا سر چشمہ سمجھنے والی بھٹو اور بے نظیر کی جماعت آجکل آسف زرداری جیسے" جید"سیانے کے ہاتھ میں آکرسیاست میں زندہ رہنے کے لیے " بڑوں'کے بیان کردہ " اصولوں "کو اپنا کر ان تمام خطرات سے سمجھوتہ کر چکی جنکی زد میں آکر بھٹو انکے دو بیٹے اور عظٓیم بیٹی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور انکی روحیں پاکستان کی سیاسی ٖفضاؤں میں گلہ پھاڑ کر ہر روز وہ جملہ دہراتی ہیں جو تختہ ء دار پر لٹکنے سے ایک دن قبل بھٹو نے اپنی جماعت کے ایک رہنما کے کان میں ڈالا تھا "میری قوم سے یہ کہہ دینا کہ بزدل قوموں کے بہادر رہنماؤں کا یہی انجام ہوتا ہے"

بزدل قوم کے ایک بزدل فرد کی حیثیت سے میری قوم سے اپیل ہے کہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی " انقلابی تحریک" کو فی الفور بند کر دیں کہ ہم لوگوں کے مقدر میں ہی شاید آذاد ز ندگی جینا نہیں لکھا ورنہ ستر سالوں میں ایک وزیر اعظم تو ایسا مل جاتا جو غدار ، لادین یا ملک دشمن نہ ہو تا۔ بیس کروڑ کیڑے مکوڑوں کے اس ایٹمی ملک کی سیاست میں شیخ رشید بن کر تو زندہ رہا جا سکتا ہے مگر بھٹو بنکر ایک دن بھی زندہ ر ہنا ممکن نہیں رہا لہذا عوام کو لوڈ شیڈنگ ، لا قانونیت ، دھشت گردی جیسے عذابوں سے نجات دلانے والے نواز شریف کو اپنے ان سنگین جرائم کی سزا بھگتنے دیں کہ اسکا سب سیسنگین جرم ایک آمر جس نے آئین و قانوں پر فضائی حملہ کر کے ملک کو دھشت گردی اور لاقانونیت کی گہری گھاٹیوں میں جھونک دیا تھا کو قانوں کے کٹہرے میں لانے کا عزم اور سی پیک جیسا عظیم منصوبہ شروع کروا کر قوم کو غربت و افلاس کے عزاب سے نکالنے کا سپنہ دیکھنا تھا ۔ ایسے مجرم کو جو پہلے ہی بھٹو والے انجام سے دوچار ہوتے ہوتے بچا تھا "قدم بڑھاؤ نواز شریف "جیسا مشورہ گڑھی خدا بخش کے بعد رائے ونڈ میں بھی ایک مزار کی تعمیر پر منتج ہو گا کیونکہ پارلیمان کو چوروں ڈاکوؤں کا اڈہ قرار دیکر لعنت بھیجنے والا انہی" انقلابیوں"کے لشکر کا سالا ر اعظم بنکر اسی پارلیمان سے وزیر اعظم بننے کے لیے بادشاہتیں عطا کرنے ا ور چھیننے والے مالک الملک رب کے قبر میں دفن ایک بندے کی چوکھٹ پر سجدہ نما بوسہ یا بوسہ نما سجدہ کرنے کے بعد صاحب قبر کی قبر پر دو زانو ں ہو کر کان میں وزیر اعظم بننے کی عرضی ڈال آیا ہے کیونکہ اسکو اور ا سکے مرشدوں کو یقین ہو چلا کہ ووٹ کی طاقت سے قیامت کی صبخ تک وزیر اعظم نہیں بن سکے گا لہذا "روحانی طریقوں "سے بزدل قوم کے بہادر رہنماوؤں کو سیاست سے باہر دھکیل کر مسند اقتدار پر ایسے" صوفی "کو بٹھانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں جو مثالی صوبے کے ووٹ بیچنے والے مریدین کے زریعے روحانی طریقوں سے دیڈھ ارب درخت ایک دن میں لگا دے گا ، ایک کروڑ نوکریاں اور تین سو ڈیمز بنادے گا اور ہر طرف دودھ و شہد کی نہریں بہا دے گا ۔ لہذا ایسی کرشماتی ترقی کے دشمن مت بنیں اور سیاست میں زندہ رہنے کے خواہشمند شیر کی پشت سے اتر کر جیپ میں سوار ہو جائیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ABDUL HAMEED HAMID

Read More Articles by DR ABDUL HAMEED HAMID: 14 Articles with 6509 views »
Professor Doctor of Biosciences, Quaid e azam University Islamabad.. View More
28 Aug, 2018 Views: 612

Comments

آپ کی رائے