مسلمانوں کی حالت زار

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: بنت عبدالغفور، روالپنڈی
اسلام کی چیخیں سنتی ہوں،خاموش گزرتی جاتی ہوں
کہنے کو مسلمان میں بھی ہوں ،کہتے ہوئے شرماتی ہوں
ہم مسلمان تو ہیں مگر ہمیں اسلام کی الف ،ب تک نہیں معلوم۔ جب کہا جائے یہ اسلام ہے یہ شریعت ہے تب ہمارا دین اسلام کا نعرہ لگانے والے نام ورکہاں ہوتے ہیں۔ہم کہتے تو ہیں’’امنت باﷲ‘‘ ہم اﷲ پر ایمان لائے، صرف یہ کہہ دینا ہم اﷲ کو مانتے ہیں، ہم نبی ﷺ کو ماننے والے ہیں، ہم نبیﷺ کے امتی ہیں کافی ہے کیا؟نہیں، نہیں جب تک اﷲ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اﷲ کی نہیں مانو گے، نبیﷺ کو ماننے والوں میں نعرے بلند کرنے والو ،جب تک نبی ﷺ جو دین ،کتاب لے کر آئے اس کے مطابق عمل نہیں کرو گے، رسم ورواج کو چھوڑ کر ایک اﷲ اور اس کے حبیبﷺکوماننے کے ساتھ ان کی مان کر نہیں چلو گے تب تک تم ایمان والے تو کیا پکے مسلمان بھی نہیں ہو۔
عزیزو! ہم ابھی ادھورے مسلمان ہیں۔ہم کہتے توہیں ہم ایمان لائے لیکن اس درجے تک نہیں پہنچے ابھی۔قرآن کو پس پشت ڈال دیا، یاد آئی قرآن کی تو تب جب مصیبت آئی، قرآن خوانی کروا لی گھر نیا لیا، گاڑی لی، قرآن یاد آیا، قرآنی خوانی رکھوا لی گھر میں، حتی کہ بیٹی کو گھر سے رخصت کیا اس کے سر پر رسم کے طور پر قرآن کا سایہ کیا،جب کسی بات ہر قسم اٹھوانی ہوئی قرآن یاد آیا، رمضان آیا قرآن کھل گیا پھر غلاف میں کر کے رکھ دیے گئے تو میرے پیارے عزیزوں کیا قرآن عظیم الشان کا یہی حق ہے ہم پر کہ جب جی چاہا کھول کہ پڑھ لیا، کبھی رسوم و رواج کے لیے اٹھا لیا،کیوں،آخر کیوں مسلمانوں؟

دنیا وی کتاب جتنی بھی اہمیت نہیں دی ہم نے قرآن کو۔ کبھی درد نہیں ہوا، ٹھیس نہیں اٹھی دل میں،کبھی تکلیف نہیں محسوس ہوئی کہ کیسے ہم اس عظمت والی کتاب کو پیچھے کر کہ دنیا کو دنیا کی کتابوں کو آگے رکھا ہوا ہے، قرآن پاک کے حقوق کو پس پشت ڈال کر ہم فقط دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکے ہیں، کاش ہم بیٹیوں کو اس کے سائے میں رخصت کرنے کے بجائے قرآن کے احکامات سکھا کر رخصت کریں۔ہائے افسوس ، صد افسوس مسلمان تجھ پر تو کیا کر رہا ہے!

قرآن کا حق تو یہ تھا کہ تو اسے روزانہ ایک پارہ دو پارے تلاوت کرتا ،اتنا نہ سہی کم ازکم ایک صفحہ ہی روز تلاوت کر لیتا، اس کو سمجھ کر ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھتا،سنتا، عمل کی کوشش کرتا۔اپنا ہر کام قرآن کے احکامات کے مطابق کرتا، یہ کیسی محبت ہے اﷲ سے اﷲ کے کلام پاک سے؟ اﷲ تعالٰی سے محبت تو ایسی ہوتی ہے۔جو راتوں کو جگاتی ہے،جو کانٹوں پہ سلاتی ہے، تپتی ریتوں پہ چلاتی ہے،بھلا یہ ہماری کیسی محبت ہے؟نہ راتوں کو جگاتی ہے،نہ قرآن پڑھواتی ہے، نہ کانٹوں پہ سلاتی ہے،نہ تپتی ریتوں پر چلاتی ہے۔بھلا مسلمان بتا تو سہی تیری اﷲ سے یہ کیسی محبت ہے؟

یہ سراسر جھوٹ، بغاوت، دھوکہ ہے ۔ہوش کے ناخن لیجیے اور سنوار لیجیے خود کو، ہم مسلمان ہیں،اﷲ پاک کے بندے،نبیﷺ کے امتی ہے،ہم کوئی عام انسان نہیں ، ہم قرآن والے ہیں۔محبت کرنی ہے تو قرآن سے کیجیے، اﷲ تعالٰی سے کیجیے، نبی ﷺسے کیجیے،ان کے احکامات پر خود بھی چلیں ،دوسروں کو بھی حق کی دعوت دیں۔یہی ہماری زندگیوں کا مقصد ہے۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلمان اسی لیے نمازی

یہ دنیا ایک دھوکہ ہے ،فریب ہے باہر نکلیں اس سے ، اپنے مقصد حیات کو پہچانیں ،اﷲ تعالٰی نے انسان کو بے وقعت پیدا نہیں کیا ۔ایک مقصد دے کر بھیجا ہے اﷲ تعالٰی فرماتاہے:’’ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا‘‘۔ایک اور جگہ فرمایا،مفہوم آیت:’’کائنات کی ہر چیز میں نے انسان کے لیے بنائی صرف ایک انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا‘‘۔ ایک اور مقام پہ فرمایا،’’تم ایک بہترین امت ہو جو نکالی گئی ہو جو نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہو‘‘۔یہ بہترین کا لقب کیوں دیا گیا؟اس لیے کے کہ تم برائی سے گناہوں سے خود بھی بچو دوسروں کو بھی بچاؤ۔رسوم و رواج کو چھوڑو، اسلام میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے ۔ اﷲ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے،’’اسلام میں پورے کہ ہورے داخل ہو جاؤ‘‘۔

ہماری خلوت وجلوت، سیاسی و معاشی، دین و دنیا وغیرہ ان تمام میں اسلام کے مطابق ہونی چاہیے۔خود کو اسلام شریعت کے مطاطق ڈھال لو،ایسا نہیں کہ شریعت ہی اپنے مطابق کر لو۔ نیکی کا حکم دو خود نیکی کے راستے پر چلو، تقوی و طہارت ، عبادات، دعا، ذکر واذکار، دعوت و تبلیغ دین ، ان تمام کاموں میں اپنی زندگی کے شب و روز بسر کرو۔برے اعمال سے بچاؤ خود کو اپنے گھر والوں کو حدیث مبارکہ میں آتا ہے،’’جب تم برائی کو دیکھو تو اسے زبان سے روکو، زبان سے نہ روک سکو تو ہاتھ سے روکو ہاتھ سے بھی نہ روک پاؤ تو ایمان کا سب سے کمزور درجہ یہ یے کہ دل میں اسے برا جانو‘‘۔

آج کے اس پر فتن دور میں برا کرنے والوں کے ساتھ اس سے بھی بد تر کیا جاتا ہے۔ اچھائی کرنے والے کی قدر جانی ہی نہیں جاتی۔ یہاں ہر طرف سے الٹ ہو رہا ہے کیوں؟کوئی ایک سنائے ہم دو سناتے ہیں۔ کوئی پتھر مارے ہم اینٹ اٹھا لیتے ہیں۔ غیبت ہو رہی ہو توروکنے کے بجائے ہم خود ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ ایک گالی دے کوئی ہم دس سنا دیتے ہیں۔ اﷲ پاک نے ٹی وی ، موسیقی ، تصویر سے منع فرمایا آج گھر گھر کیا گھر کاہر کمرہ سینما ہال کا منظر پیش کر رہا ہے۔ چلتے پھرتے گانے کی آواز گونج رہی ہے ہر طرف ننگے جسموں کو دیکھ کر لذت حاصل کرنے کی تمنا میں ہے۔ گانے سننا اس لیے کہ سکون ملتا ہے۔ جب میرے اﷲ نے فرما دیا،’’دلوں کا سکون اﷲ کی یاد میں ہے‘‘۔

تھوڑی جو بچی غیرت تھی آج وہ بھی ختم ہو گئی۔ بے حیائی کے سیلاب میں ہم غوطے کھا رہے ہیں۔ پرواہ کسے ہے، یہاں سب کچھ بن مانگے مل رہا ہے ناشکری کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں۔ہائے افسوس! کہنے کو مسلمان ہے لیکن عمل منافق و کفار والے پائے جاتے ہیں۔نبی ﷺنے فرمایا،’’جب تم میں حیا نہ رہے جو مرضی کرو‘‘۔ خدارا سنوار لیجیے خود کو اﷲ کے بن جائیے یہاں رب چاہی زندگی گزاریں گے، کل بروز قیامت من چاہی زندگی ملے گی۔
نہیں ہے حیا زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے تیری جوانی رہے بے داغ

کچھ اعمال جن کے کرنے سے ہم اﷲ تعالٰی کے مقرب بن سکتے ہیں۔نمازوں کی پابندی،ذکر واذکار کی کثرت،قرآن پاک کی تلاوت ،اﷲ کی راہ میں خرچ کریں دعا کی کثرت۔ اپنے ملک ووطن کے لیے، اپنے ساتھی مسلمان بھائیوں کے لیے دعائیں ان تمام اعمال کی پابندی کیجیے۔آخر میں اﷲ پاک سے دعا ہے اﷲ تعالٰی ہم سب کو عمل صالحہ کو توفیق عطا فرمائے ۔نیکی ،تقوی والی زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 500010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2018 Views: 551

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ