آئیے عہد کرتے ہیں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ام محمد عبداﷲ،جہانگیرہ
اﷲ تعالی سورہ النساء آیت 83 میں فرماتا ہے، ’’اور جب ان کے پاس کوئی بات ڈر یا اطمینان کی آتی ہے تو اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے‘‘۔ منافقین کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے کہ وہ جو خبر سنتے ہیں بنا تصدیق اور تحقیق کہ وہ خبر آگے پہنچا دیتے ہیں۔

سورہ الحجرات آیت 6 میں اﷲ رب العزت ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔ ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لو کہ کہیں کسی قوم کو بے جا ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ‘‘۔ ایمان والوں کو چاہیے کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو بنا تحقیق وہ اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔ مدینہ منورہ کی ابتدائی اسلامی ریاست میں منافقین کی پھیلائی گئی افواہوں کی بازگشت آج بھی ہمارے کانوں سے ٹکراتی اور انہیں اﷲ تعالی کے غضب کا حقدار بناتی ہے۔

سوچنے اور فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ مومن ہونے کا دعوی کرنے والے ہم آج کے مسلمان موبائل فون ہاتھوں میں تھام کر کہیں منافقین کی صف میں تو نہیں جا کھڑے ہوتے؟ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے۔ ہر شخص اس کے اثر میں ہے جیسے ہی ایک سیل فون کسی واقعے، خبر یا کہانی سے مستفید ہوتا ہے اس پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ بنا تحقیق کیے سینکڑوں لوگوں تک اس کو پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرے۔ وہ سینکڑوں لوگ اسے مزید سینکڑوں کو آگے پہنچانے کا فریضہ سرانجام دینے میں کوتاہی نہیں کرتے اور یوں اکثر اوقات ایک جھوٹ کروڑہا بار ضرب کھا کر اپنے بنانے والے کے نامہ اعمال میں درج ہو جاتا ہے۔ ان فاورڈ میسجز کی برکت سے نیٹ سلو ہو جاتا ہے۔ فون میموری اکثر ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ ہماری لمحہ بھر کی دل لگی بہت سے لوگوں کے لیے مصیبت کا باعث بن جاتی ہے۔

اگر کہیں خرابی یا مسئلہ ہے تو متعلقہ حکام تک خبر پہنچانی چاہیے تاکہ اس کا سدباب کیا جاسکے۔ منفی خبروں سے عوام الناس میں بے چینی پھیلنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اکثر لوگ تو اس کی لپیٹ میں آکر فرائض سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔ شیطان ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمیں اپنے فرائض ہی سے تو غافل کرتا ہے۔ کبھی کبھار کوئی سادہ حکمت بھرا مفید سا پیغام اپنے پیاروں کو بھیجنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یاد رکھیے ہر وقت کے نصیحت آموز پیغامات بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ نئے ہجری سال کی آمد آمد ہے۔ ہر مرتبہ نئے سال کی آمد پر ہم بڑے شوق سے کیا کیا کرنا ہے کی فہرست بناتے ہیں۔ آئیے اس مرتبہ ہمیں کیا نہیں کرنا کی فہرست بنا کر خود کو دوسروں سے مختلف گردانتے ہیں۔ سرفہرست لکھتے ہیں اس سال ہمیں فاورڈ میسج ہرگز ہر گز آگے فاورڈ نہیں کرنا۔ ڈر جانا ہے منافقین میں شامل ہونے سے، وقت ضائع کرنے سے، رقم ضائع کرنے سے اور لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497690 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Sep, 2018 Views: 283

Comments

آپ کی رائے