بہت قیمتی ہیں یہ قلمکار

(Nazar haffi, اسلام آباد)

ظلم کے خلاف بولنے کا کلچر، ظالموں کے خلاف تحریک چلانے کی تہذیب اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھنگ صحافت نے ہی لوگوں کو سکھایا ہے۔ہمارے ہاں تشدد ، رشوت اور دھونس کا استعمال عام ہے۔ہر جگہ چند باشعور لوگ ظلم و ستم کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، کوئی ریلیاں نکال رہا ہے اور کوئی سماج دشمن عناصر کے خلاف خبریں بریک کر رہا ہے۔مجموعی طور پر پاکستان میں تشدد، رشوت اور دھونس کے خلاف آواز اٹھانے کا سب سےزیادہ خمیازہ صحافی حضرات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

آج کل یہ فیشن چل نکلا ہے کہ اب کسی بھی صحافی کو قتل کروا نے کے بعد اسے ڈکیتی کی واردات کہہ کر سرد خانے میں پھینک دیا جاتا ہے۔اس ظلم پر نہ معاشرہ آہ کرتا ہے، نہ پولیس تحقیق کرتی ہے اور نہ ہی پڑھے لکھے لوگ واویلا کرتے ہیں۔

پتوکی میں اے آر وائی نیوزکےنمائندے میاں رزاق اور مقدر حسین بوبی کو نامعلوم افراد نے کھڈیا ں پھا ٹک کے قریب گولیاں مار دی تھیں۔اس وقت میاں رزاق موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ مقدر حسین بوبی کو زخمی حالت میں لاہور ہسپتال منتقل کردیاگیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ کسی نے اس سانحے پر قابلِ ذکر احتجاج نہیں کیا اور تاحال کسی کو خبر نہیں کہ میاں رزاق کا کیس کہاں تک پہنچا ہے۔

اسی طرح 27 مارچ کو سمبڑیال میں ذیشان اشرف بٹ کو اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ دکانداروں پرعائد کیے جانے والے ٹیکس کے حوالے سے معلومات لینے یونین کونسل بیگوالا کے دفتر پہنچنے تھے۔ایک ذمہ دار صحافی قتل ہو گیا لیکن ڈاکووں کا یہ سماج ٹس سے مس نہیں ہوا۔

گزشتہ دنوں عبدالحکیم ، کبیروالا میں صحافی محمد سعید بٹ کوفائرنگ کر کے قتل کردیا گیا اور اسے بھی ڈکیتی کی کارروائی کہا گیا۔اس کے بعد حالیہ دنوں میں ڈسکہ میں دوافراد نے فائرنگ کر کے مقامی صحافی کو زخمی کردیا تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کے علاقہ سمبڑیال روڈ کا رہائشی مقامی صحافی سعید سخی مغل اپنے بیٹے کے ہمراہ چونگی نمبر8پر واقع مقامی بیکری پر خریداری کے لیئے گیا اس کا بیٹا حامد رضا بیکری کے اندر چلا گیا جبکہ سعید سخی مغل بیکری کے باہر موٹرسائیکل پر ہی بیٹھا رہا اسی اثنا میں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے ، اسے بھی ڈکیتی کی واردات کہہ کر ہضم کر دیا گیا ہے۔

ہمارے ہاں صحافیوں کو صرف ڈرایا ، دھمکایا اور قتل ہی نہیں کیا جاتا بلکہ صحافیوں پر جھوٹے مقدمے بھی درج کروائے جاتے ہیں، انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے اور نہ بکنے اور نہ جھکنے کی صورت میں انہیں نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان صحافیوں کے لئے ایک خطرناک ترین ملک بن چکا ہے، پاکستان میں صحافیوں کا اغوا اور لاپتہ ہوجانا بھی معمول کا حصہ ہے جیسا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے لئے جانے کے دوران صحافی سلیم شہزاد پراسرار طور پر غائب ہوگئے پھر دو دن بعد ٣٠ مئی ٢٠١١ کو ان کی نعش، جس پر جسمانی تشدّد کے واضح نشان تھے، پاکستانی دارلحکومت اسلام آباد کے قریب سے برآمد ہوئی۔

گزشتہ سال یعنی ۲۰۱۷ میں پاکستان میں صحافیوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے واقعات میں 35 فیصد واقعات دارالحکومت اسلام آباد میں ریکارڈ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک جگہ قرار دیا گیا۔ جب اسلام آباد میں آزادی صحافت کا یہ حال ہے تو پھر دیگر مقامات پر آزادی صحافت کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔

دوسری طرف کالعدم تنظیمیں بھی پاکستانی صحافیوں کے خون کی بو سونگھتی پھرتی ہیں،فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران صحافیوں سے تعاون کے بجائے ان پر حملے کئے جاتے ہیں ، کیمرے چھینے جاتے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، بعض صحافی تو سماجی و معاشی حالات سے تنگ آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر اور عقب ماندہ ملک کے لئے صحافیوں کی سلامتی اور دیکھ بھال حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

قلم کو سماج کی آنکھ کہاجاتا ہے،دیانتدار قلم جو دیکھتا ہے وہی لکھتا ہے،حق پرست قلم کبھی بھی ظلم کو برداشت نہی کرتا یہی وجہ ہے کہ اندھا سماج قلم کی روشنی کے مخالف حرکت کرتا ہے، یہ ہم سب کی ملی زمہ داری ہے کہ ہم حرمتِ قلم کی پاسبانی کریں اور قلمکاروں کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے آواز اٹھائیں، جس معاشرے میں قلم خاموش ہوجاتا ہے اور قلمکار دیوار کے ساتھ لگا دئیے جاتے ہیں وہ معاشرہ اقدار کا قبرستان بن جاتا ہے۔

معاشروں کی زندگی، قوموں کا عروج اور تہذیب کا حسن یہی ہے کہ قلم چلتے رہنے چاہیے اور قلمکار کو سچ قلمبند کرتے رہنا چاہیے ، اگر یہ قلم رک گئے تو تہذیب و تمدن کا سفر رک جائے گا، قدر کیجئے ان کی !سلام کیجے ان کو !، جوقلم کے ذریعے نئی نسل کو پرانی نسلوں سے ملاتے ہیں، جو منوں مٹی تلے دفن سچائیوں کو کریدکرید کر باہر نکالتے ہیں اور جو اندھیرے میں روشنی کے جگنو بن کر جگمگاتے ہیں، بہت قیمتی ہیں یہ قلمکارجو یزیدوں کے مقابلے میں حسینیؑ بن کر جیتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 33803 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2018 Views: 184

Comments

آپ کی رائے