منہ پھٹ

(Memoona choudhery, Sargodha)
تلخی کی بوند بوند سے لہجہ ہوا ہے زہر،
میں رفتہ رفتہ، نیم کے پتوں میں ڈھل گئی۔۔۔۔۔

منہ پھٹ ہونا بہت اچھی بات ہے، سب کہہ دینے سے دل میں کچھ نہیں رہتا ، دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور دل صاف ہو جاتا ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ سب دل میں رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ ہم خاموش ہوجاتے ہیں ، دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ، لوگوں سے دور ہوتے جاتے ہیں ، رشتے تک ختم ہو جاتے ہیں۔

اچھا ہے نا جو دل میں ہوتا ہے وہ ہی منہ پر آتا ہے۔ کہنے کو تو وہ دوہری شکل کے نہیں ہوتے، جو ہوتے ہیں__جیسے ہوتےہیں سب کے سامنے ہوتِے ہیں. ایسے لوگ سب سے اچھے ہوتے ہیں.

لیکن...!!! اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ آپ کبھی کبھی وہ بھی کہہ دیتے ہیں جو کہنا مناسب نہیں ہوتا ہے، اکثر ایسی باتیں منہ سے نکال دیتے ہیں جو کسی کی دل آزاری کا باعث بن جاتیں ہیں اور آپ اپنی بات کہہ کر چل پڑتے ہیں یہ دیکھے اور جانے بغیر آپ کی بات سے سامنے والے کو کتنا دکھ اور کتنی تکلیف ہوئی ہے،
شاید آپ کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کیونکہ آپ منہ پر سب کہہ دینے کی عادت کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں ۔ وہ واقعی صاف دل کے لوگ ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی اس صاف دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ، الفاظ کو طعنوں کے نشتر میں بگھو کر مارتے ہیں، جس سے ان کا اپنا دل تو صاف ہو جاتا ہے مگر انجانے میں کہیں نہ کہیں دوسرے کے دل کا بوجھ بڑھا دیتے ہیں ۔

پھر ایسے صاف دل کا کیا فائدہ؟ جس سے دوسرے کے دل زخمی ہوجائیں اور وہ آپ کو کچھ کہہ بھی نہ سکیں یہاں تک کہ وہ گلہ بھی نہ کر پائیں، اس ڈر سے کہیں پھر سے آپ کچھ ایسا نہ کہہ دیں جو ان کے لیے مزید اذیت کا باعث بن جائے ۔

دل میں جو ہے کہہ دیجیئے لیکن سب نہیں صرف وہ بولیئے جس سے سامنے والے کا نہ کوئی نقصان ہو اور نہ ہی ان کے دل زخمی ہوں۔

دوسروں کے دلوں کا بوجھ بڑھا کر آپ کوئی اعلٰی ظرفی کا کام نہیں کرتے ، اگر آپ کچھ باتوں کو صرف یہ سوچ کر برداشت کر لیں کہ جو باتیں دوسرے کے لیے اذیت کا باعث ہیں وہ باتیں آپ کے لیے بے معنی ہیں وہ اپنے دل میں رکھ کر اور بنا بولے گزارا ہو سکتا ہے اور آپ درگزر سے کام لیں کیونکہ درگزر کرنے والا اللہ تعا لٰی کو بہت پسند ہیں ۔ آپ بس اتنا سوچئیں جتناآپ خود کے دل کو صاف رکھنا اور خوش رہنا چاھتےہیں اتنا ہی حق ان خوشیوں پر دوسروں کا بھی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Memoona choudhery

Read More Articles by Memoona choudhery: 4 Articles with 2230 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2018 Views: 295

Comments

آپ کی رائے