یکساں نصاب تعلیم----چند قابل غور پہلو

(Abdul Quddus Muhammadi, )

(مولانا محمد حنیف جالندھری)
نئی حکو مت کی تشکیل اور وزیر اعظم کی تقریر کے بعد یکساں نصابِ تعلیم کا خوش نما نعرہ ایک مرتبہ پھر بلند ہوا ہے اور ہر جگہ اس حوالے سے بحث جاری ہے لیکن بد قسمتی سے بہت سے لوگ اس معاملے کی حقیقت،پس منظر،نتائج و مقاصد سے ہی نا واقف ہیں اور یکساں نصابِ تعلیم کے نعرے کو غیر حقیقی تناظر میں دیکھ رہے ہیں-

اس لیے یکساں نصابِ تعلیم کے حوالے سے چند امور کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
1-سب سے پہلی اور بنیادی چیز یہ ہے کہ ہمیں نصابِ تعلیم و نظامِ تعلیم کی تشکیل اور اصلاح کے وقت اپنے دینی، ریاستی،ثقافتی اور معاشرتی ڈھانچے اور تقاضے پیشِ نظر رکھنا ہیں ، ہمارا صرف ثقافتی اور معاشرتی ماحول ہی نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کے نعرے اور اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی ریاست اور اس کا آئین جس قسم کے نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم کا تقاضا کرتا ہے بد قسمتی سے آج تک ہم اپنی قوم کو وہ نصاب و نظام دینے سے قاصر ہیں اس لئے جب بھی نصاب میں کسی تبدیلی یا اصلاحات کی بات کی جائے گی تو اس میں اپنے دینی تقاضے،معاشرتی ضروریات، علاقائی ماحول اور دیگر تمام عوامل کو پیشِ نظر رکھنا از حد ضروری ہو گا۔
2۔نصاب و نظام کی اصلاح اور تشکیل دوسرا مرحلہ ہے، پہلا مرحلہ مقاصد و اہداف کا تعین ہے ،مقاصد و اہداف کی روشنی میں نصاب و نظام کا خاکہ تشکیل دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں بد قسمتی سے گزشتہ ستر برسوں کے دوران بارہا خوش نما نعرے لگائے جاتے رہے لیکن اہداف و مقاصد کے تعین کے بغیربے سمت اور بے مقصد جد و جہد کبھی بھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی، اس لئے اہداف و مقاصد کا تعین از حد ضروری ہے،اس کے ساتھ ساتھ جس سنجیدگی اور عزم کا تقاضہ ہے وہ بھی ہر حکومت اور ہر حکمران میں نا پید رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ ہر نئے دورِ حکومت میں لوگوں کو کسی لا یعنی اور بے مقصد بحث میں الجھا دیا جاتا ہے اور دور حکومت گزرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب محض وقتی گرد و غبار اور شور شرابہ تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ تھم گیا ہے۔
3۔اس وقت جو بحث چل نکلی ہے اس کا رخ مدارس کے نصاب و نظام کی طرف ہے جب کہ در حقیقت اس ملک کے ہر گلی کوچے میں کئی کئی اسکولز ہیں جن میں سے ہر ایک کا نصاب الگ،نظام الگ،یونیفارم الگ،فیس الگ،ضابطے اور قاعدے الگ اور ہر چیز ہی جدا ہے ایسے میں تمام توپوں کا رخ صرف دینی مدارس کی طرف کر دینا سرا سر نا انصافی ہے۔
4۔دینی مدارس نے ہمیشہ یہ پیشکش ہی نہیں بلکہ مطالبہ کیاہے کہ مرحلہ وار یکساں نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم رائج کیا جائے اور ابتدائی طور پر میٹرک تک پورے ملک میں ایک نصاب اور ایک نظام لایا جائے تا کہ پوری قوم یکسوہو سکے،دینی مدارس کے تمام وفاق آج بھی نہ صرف اپنے موقف پر قائم ہیں بلکہ اکثر دینی مدارس میں قومی نصاب تعلیم رائج ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں بات زیرو سے شروع نہیں کی جاتی جو غیر سنجیدگی کا نقطہ آغاز ہوتا ہے-اس وقت بھی یہ تاثر دیا جا رہا ہے جیسے یکساں نصابِ تعلیم کا شوشہ ہی مدارس کے نظام ونصاب کا حلیہ مسخ کرنے کے لئے چھوڑا گیا ہے۔
5۔ میٹرک یا زیادہ سے زیادہ انٹر تک یکساں نصاب و نظام کی ضرورت ہے اس کے بعد تو اسپیشلائزیشن کا مرحلہ ہے چنانچہ جو بچیاں ،بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں وہ میڈیکل کالجزمیں، جو وکلاء اور جج بننا چاہتے ہیں وہ لاء کالجز میں اور جو دینی خدمات کی بنیادی اور اہم ترین ذمہ داری نبھانا چاہتے ہیں وہ مدارس دینیہ کا رخ کرتے ہیں،آج تک کسی نے لاء کالجز سے ڈاکٹرز اور میڈیکل کالجز سے وکلاء تیار کرنے کا مطالبہ نہیں کیا لیکن بد قسمتی سے دینی مدارس سے ہمیشہ یہ غیر منطقی اور غیر معقول مطالبہ کیا جاتا ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ایسا مطالبہ کرنے والوں کو داد دینے والوں کی بھی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں۔
6۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گزشتہ ستر برسوں کے دوران بھاری بھر کم بجٹ پوری ریاستی طاقت اور ہر طرح کے وسائل کے باوجود ملک میں کوئی ایک یونیورسٹی اور کوئی ایک ادارہ قائم نہیں کیا جاسکا جو دنیا کی 100 اعلی اور معیاری یونیوسٹیوں کی فہرست میں جگہ پا سکے جب کہ دنیا کے ٹاپ کے 100دینی اداروں میں سے کم از کم 80 دینی مدارس پاکستان میں ہوں گے۔دنیا کے کسی پسماندہ اور دور افتادہ ملک کے غریب بچوں کے ذہن میں بھی پاکستان کی کسی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کا خیال نہیں جاگتا جب کہ پوری دنیا کے بچے دینی تعلیم کے لیے پاکستان کے دینی مدارس کی طرف دیکھتے ہیں جب کہ پاکستان کے بچے لائنیں لگائے دوسرے ممالک کی یونیورسٹیوں اور جامعات کے سا منے داخلے کے کشکول پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں،ایسے میں حکومتی بجٹ سے چلنے والے اداروں کے معیار،نظام اور نصاب پر توجہ دینے کے بجائے دینی مدارس کو تختہ مشق بنانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
7۔ اس وقت پاکستان کی یونیورسٹیاں،کالجز اور تعلیمی ادارے منشیات،خودکشیوں،لسانی جھگڑوں،بے حیائی اور نہ جانے کن کن مسائل کے سونامی کی زد میں ہیں لیکن اس صورت حال سے ان اداروں کو بچانے کے بجائے بہت سے لوگوں کو دینی مدارس کی اصلاحات کی فکر کھائے جاتی ہے اور عصری اداروں کے جملہ مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے اور ان سے نظریں چرانے کی روش اپنائی جاتی ہے۔
8۔دینی مدارس اصلاحات کے حوالے سے اس لیے بھی حساس ہیں کہ ہر دور میں دینی مدارس کے خلاف ہونے والی مہم جوئی کے اچھے اثرات نہیں پڑے-بعض حکومتی طالع آزماوں کی نظر کرم نے چوٹی کے دینی مدارس کو آثار قدیمہ میں بدل کر رکھ دیا-قریب کے زمانے میں پرویز مشرف نے موجودہ وزیر اعظم کی طرح ابتداء میں بڑے شد ومد اور تسلسل سے مدارس اصلاحات کا نعرہ بلند کیا،لیکن اس تمام تر شور شرابے کے نتیجے میں مدارس اور مدارس اصلاحات کے نام پر اربوں ڈالرز کی بیرونی امداد ہڑپ کرلی گئی اور جاتے جاتے اس ملک کوصرف تین لولے لنگڑے ماڈل مدارس کا تحفہ دیا گیا،جنہیں بعد کے حکومتی ذمہ داران بارہا وفاق المدارس سے سنبھالنے کی پیش کش کر چکے ہیں ۔
9۔ یکساں نصاب و نظام تعلیم کے زبانی،کلامی دعوؤں کے بجائے اس وقت جو سب سے اہم کام کرنے کی ضرورت ہے وہ 18ویں ترمیم کے نتیجے میں تعلیم کا صوبوں کے سپردکردینے کا معاملہ ہے-اس وقت اگر وزیراعظم عمران خان اور موجودہ حکومت کسی قسم کی ا صلاحات اور تبدیلی میں واقعتا سنجیدہ ہیں اور وہ پورے ملک کو کسی ایک پیج پر لانا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز 18ویں ترمیم اور اس کے نتیجے میں پید اہونے والی تفریق اور خلیج کے خاتمے سے کرنا ہو گا،جس کے بارے میں ہمارا اندازا ہے کہ حکومت یہ بھاری پتھر کبھی نہیں اٹھا پائے گی۔
10-جب یکساں نصاب ونظام کی بات چل ہی نکلی ہے تو پھر سب سے ضروری امریہ ہے کہ حکمران سرکاری اسکولوں کو ایسا معیار دیں کہ لوگ اپنے بچوں کو ان اداروں سے تعلیم دلوانے پر آمادہ ہوں نہ یہ کہ سرکاری اسکولوں کی حالت دن بدن بگڑتی چلی جائے اور پرائیویٹ اسکولز مافیا کی تجوریاں بھرتی چلی جائیں اور ان کا کاروبار مزید چمکتا چلا جائے-
المختصر یہ کہ اگر عمران خان اپنے دعوؤں میں سچے ہیں اور اپنے ارادوں میں سنجیدہ ہیں تو وہ پہلے مرحلے میں میٹرک تک ملک بھر کے تمام اداروں میں یکساں نصاب تعلیم رائج کریں،جس میں ایک مسلمان معاشرے کی جملہ ضروریات،بنیادی دینی اور قرآنی تعلیمات کا کماحقہ حصہ موجود ہوں اور دینی اعتبار سے ہمارے نظام ِتعلیم اور نصابِ تعلیم میں جو جو کمزوریاں اور کو تاہیاں رہ گئی ہیں ان کی تلافی کا اہتمام کیا جائے،اسپیشلائزیشن کا مرحلہ اس کے بعد ہے،غیر حقیقی،غیر منطقی اور غیر سنجیدہ نعروں کے بجائے صحیح رخ پر۔۔۔ درست ترتیب سے ۔۔۔پوری سنجیدگی اور خلوص سے کام کرنے کی ضرورت ہے----اگر کچھ کرنا مقصود ہے تو---اور اگر حالیہ میلے کا مقصد صرف دینی مدارس سے حریت و آزادی،دینی شناخت،مذہبی تصلب کا کمبل چرانا ہی مقصود ہے تو یہ خواب نہ اس سے قبل شرمندہ تعبیر ہوسکا اور نہ ہی آئندہ کبھی ایسا ہو پائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Quddus Muhammadi

Read More Articles by Abdul Quddus Muhammadi: 115 Articles with 77674 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2018 Views: 544

Comments

آپ کی رائے