میڈیا ایک طاقت ور ہتھیار

(Maryam Arif, Karachi)

ام محمد عبداﷲ۔ جہانگیرہ
میڈیا آج کے دور کا وہ طاقت ور ہتھیار ہے جس کے ذریعے ذہن سازی اور کردار سازی کا عمل اجتماعی طور پر بہت سرعت سے ہوتا ہے۔بدقسمتی سے اس وقت پاکستانی میڈیا پاکستان کے اساسی نظریات کے برعکس نظریات کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے۔ جرائم پر مبنی منفی نوعیت کی خبریں، افواہیں، باہمی ادب و احترام سے عاری مباحثے، مرچ مصالحہ لگی پل پل ہر پل کی خبر جس سے باخبر رہنا کسی بھی عام شہری کی ضرورت نہیں، مبالغہ آرائی اور جھوٹ پر مبنی اشتہارات، ہندی کارٹون، ہماری روایتی اقدار کے منافی اور گلیمر زدہ ڈرامے اور شوز یہ سب پیش کرنے میں میڈیا آگے آگے ہے۔ یہ سب فکر آخرت، شرم و حیا اور حفظ مراتب کے ستونوں پر کھڑی ہماری اقدار کی عمارت کو گرانے کا سبب بن رہا ہے۔

عام طور پر پڑھا لکھا باشعور اور دینی مزاج رکھنے والا طبقہ میڈیا سے ایک طرف کنارہ کش ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ عوام الناس کو میڈیا کی طوفانی لہروں پر بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عوام الناس اپنی جہالت اور دین سے دوری کے سبب میڈیا پر دکھائی جانے والی ہر ہر ادا کی تقلید کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ مگر سوچنے اور عمل کی بات یہ ہے کہ اس سب کے آگے بند کیسے باندھا جائے؟ ہمیں چاہیے کہ ہم اس منفی رحجان کو ہر سطح پر مسترد کریں۔ دین کو دینی طبقے اور علماء کے لیے مخصوص کرنے کے بجائے ہر خاص و عام تک دین کا پیغام عام کیا جائے۔ افواہ سازی اور بے حیائی کو فروغ دینے والی نشریات کے دنیاوی و اخروی نقصانات سے آگاہی کو عام کیا جائے۔ حکومت وقت پر زور دیا جائے کہ میڈیا کے لیے مکمل ضابطہ اخلاق بنا کر اسے اس کا پابند کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر فحش سائٹس پر پابندی لگائی جائے۔ نوجوانوں اور خواتین کی اصلاح اور مثبت تفریح کے متبادل پروگرام مرتب کیے جائیں۔

لیکن اگر موجودہ میڈیا انڈین اور یہودی فنڈنگ پر چل رہا ہے تو ان سے اس سب کی امید رکھنا بے کار ہے۔ اس کے لیے ایسے تمام چینل جو پاکستان دشمن قوتوں کی زیر سرپرستی چل رہے ہیں ان کو فی الفور بند ہونا چاہیے۔دینی سوچ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے طبقے کو میڈیا کے میدان سے لاتعلق رہنے کے بجائے ہر ہر سطح پر اس حزب الشیطان کے خلاف صف آرا ہو جانا چاہیے۔ میڈیا کو اگر اسلام دشمن بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں تو اسلام دوستوں کو بھی اس ٹیکنالوجی سے کماحقہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پاکستانی عوام کو بہتر سے بہتر صداقت پر مبنی صاف ستھری اور اصلاحی نشریات پہنچانے کا بیڑا اٹھانا چاہیے۔ اگر ہمارے پاس وسائل اور افرادی قوت کچھ کم ہے تو ایمان میں اضافے کے ساتھ اس میدان میں اترنا ہی اس کا حل ہے کہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1242 Articles with 521411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2018 Views: 347

Comments

آپ کی رائے