جنسی ہراسگی

(Nadia Ambar Lodhi, Islamabad)

حضرت آدم کی تخلیق کے بعد ان کے دل بہلاوے کے لیے عورت یعنی اماں حوا کی تخلیق کی گئی ۔حضرت آدم دنیا میں بھیج دیے گئیے ۔ ہابیل قابیل کے جھگڑے سے شروع ہو نے والی عورتکے حصول کی داستاں جاری ہے ۔ بچپن میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی بچیاں زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں ۔ لیکن اکثریت کا معاملہ جنسی ہرا سگی تک ہی رہتا ہے ۔ یہبچیاں بڑے ہو نے کے بعد بھی اس عمل سے گزرتی رہتی ہیں ۔ آج معاشرہ خواندگی کی سطح کے لحاظ سے تو ترقی کر رہا ہے لیکن عورت کا یہ مسئلہ جوں کا توں ہے پڑھی لکھی ان پڑھ سباس کا شکار ہو تی ہیں ۔ زیادہ تر زبان بند رکھتی ہیں ۔

فیکٹریوں میں کام کرنے والی غریب لڑکیاں ، جاگیرداروں کے ہاریوں کی عورتیں ، ملازمت پیشہ خواتین ، نرسیں ،گھروں میں کام کرنے والیاں ، غرضیکہ ہر جگہ عورتیں آسان شکار ہیں ۔پرائی عورت مرد کے لیے ایک کھلونا ہے ۔ دل بہلانے کا سامان ہے ۔ جس کے لیے وہ موقع تاکتا رہتا ہے ۔ انسان کی جبلت جس کے دو "سرے " ہیں ۔ ایک سرے پہ بھوک اور دوسرے سرے پہ جنس ہے -

انسان کو اپنی اس فطرت سے مفر نہیں ہے ۔ بہت عام سا قاعدہ ہے جس مرد سے بھی کو ئی کام پڑ ے گا وہ عورت کو چھیڑ ے گا ضرور ۔ جتنی اسے جگہ ملے گی اتنی حد تک جاۓ گا ۔ کیاعورت ہو نا کوئی جرم ہے جس کی سزا بنت ِ حوا پاتی رہے گی ۔ جنسی ہرا سگی ہر سطح پر ہے ۔ نامور خواتین ہوں یا عام عورتیں ۔ عورت کا وجود کشیش اور رعنائی سے بھر پور ہے ۔ اسیلئیے اسلام اسے پردے میں مقید کرتا ہے لیکن پردہ بھی عورت کا تحفظ نہیں کر پاتا ۔ اصل مسلئہ سوچ کا ہے ۔ شعور کا ہے ۔

لیکن دیگر ناقابل حل مسائل کی طرح اس مسلئے کے سلجھنے کی بھی کوئی امید نظر نہیں آتی ۔
باندیاں
۔۔۔۔۔
مرے مالک کیا ہم باندیاں ہیں
میرے مالک
کیا ہم باندیاں ہیں
جو آگ میں جلا کر مار دی جائیں
ہم وہ جوانیاں ہیں
محبت کے نام پر جو مسل دی جائیں
ہم وہ کلیاں ہیں
ہوس کا نشانہ بنا کر
جن کے پر نوچ لئے جائیں
ہم وہ تتلیاں ہیں
جو مصلحت کے نام پر
قربان کر دی جائیں ہم وہ بیٹیاں ہیں
جو شرعی جائیداد سے محروم کر دی جائیں ہم وہ بہنیں ہیں
میرے مالک
کیوں ہم باندیاں ہیں
۔۔۔۔۔
نادیہ عنبر لودھی
اسلام آباد

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nadia Ambar Lodhi

Read More Articles by Nadia Ambar Lodhi: 40 Articles with 30908 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 449

Comments

آپ کی رائے