اولاد کی تربیت

(Chaudhry Mohammed Zulfiqar, )

میرا ارادہ سی پیک کے بارے لکھنے کا تھا۔ کس طرح پاکستان پہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ترتیب سے پاکستان پہ قبضہ کیا جا رہا ہے۔ میرا ارادہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ چین پہ لکھنے کا تھا کہ وزیر ٹرانسپورٹ سے استقبال کروا کر اور کیا کیا تنبیہات ہمارے وزیر اعظم کو ہمارے بہترین دوست اور مستقبل کے آقا چین کی طرف سے دی گئی ہیں۔اٹھائیس سالہ امریکی فوجی لین لونگ نے ریاست کیلی فور نیا میں کیوں قتل وغارت مچا کر کیوں خون کی ہولی کھیلی۔ لین لونگ کون تھا۔ وہ کس مرض میں مبتلا تھا۔ اس مرض میں اور کتنے امریکی فوجی مبتلا ہیں۔ افغانستان سے اس مرض میں مبتلا ہو کر آنے والے فوجیوں کے امریکہ معاشرہ پہ کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مگر ٹی وی پہ ایک ماں کو روتے سنا تو سوچا ان موضوعات پہ پھر کبھی ان شاء اللہ۔
ٹی وی خبریں میں باقاعدگی سے دیکھتا ہوں اور کبھی کبھی اسلامی ٹی وی چینلز کے دینی پروگرام بھی واچ کرتا ہوں۔ ایک اسلامی چینل پہ سوال و جواب کا پروگرام چل رہا تھا کہ ایک عورت لائیو کال کر کے مفتی صاحب! کہہ کر زاروقطار رونے لگی۔ مفتی صاحب پریشان ہو گئے اور پوچھا بہن آپ کا کیا سوال ہے۔ آپ صبر کریں اور اپنا سوال بتائیں۔ وہ عورت روتے ہوئےبتانے لگی مفتی صاحب میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ میں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے۔ میں نے ایک کیٹرنگ فیکٹری میں دن رات کام کر کے اسے گرائمرز سکولز میں پڑھایا ہے۔ میتھ میٹکس میں ماسٹر ڈگری تک تعلیم دلوائی ہے۔ مفتی صاحب اس کی تعلیم اور دیگر اخراجات کے لئیے فیکٹری میں میں اضافی کام بھی کرتی تھی۔ اور جب کبھی مجھے اضافی کام نہ ملتا تو مجھے قرضہ بھی لینا پڑا۔میں ہمیشہ یہ سوچتی کہ جو لڑکے میرے بیٹے کے ساتھ پڑھتے ہیں کسی بھی لحاظ سے میرے بیٹے کا معیار ان سے کم نہ ہو۔ میرا بیٹا احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔ میں ہمیشہ اپنے بیٹے کو اضافی رقم دیا کرتی اور مفتی صاحب اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کے لئیے جب اضافی گھنٹے کام کرتی تو یہ سوچ کر کہ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا عہدہ حاصل کر کے بہت آرام دہ زندگی گزارے گا تو مجھے اپنی ساری تھکاوٹ بھول جاتی۔ دل چاہتا کہ چند گھنٹے اور اضافی کام مل جائے تاکہ میرے بیٹے کو اور زیادہ آسائش و آرام حاصل ہو۔

مفتی صاحب میں نے اس کے راحت و آرام کے لئیے اسکی تعلیم کے لئیے اپنے بیٹے کے درخشاں مستقبل کے لئیے اپنی جوانی بھی قربان کردی۔ میرے خاوند نے شادی کے صرف تین سال بعد دوسری شادی کر لی تھی۔ میں نے دوسری شادی اس لئیے نہ کی شائید میرے بیٹے کو کوئی اور مرد قبول نہ کرے۔ مفتی صاحب پھر میں نے بہت شوق اور چاؤ سے اس کی شادی کی۔ مفتی صاحب آج۔۔۔۔آج۔۔۔۔آج میرے بیٹے نے مجھے مارا ہے۔ مجھے اپنی بیوی کے کہنے پہ مارا ہے۔ اور پھر اس ماں کی ہچکی بند گئی۔ اس سے بولانہ جا رہا تھا۔ اور پھر خاموشی چھا گئی۔ مفتی صاحب کہنے لگے کہ کال ڈراپ ہو گئی ہے۔ دکھیاری ماں کی بپتا سن کر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ مفتی صاحب کی آواز بھرا گئی۔

مفتی صاحب نے فرمایا والدین اپنے بچوں کے بہتر معیار زندگی کے لئیے ہر طرح کی قربانی دیتے ہیں۔ اپنا آرام بھی قربان کرتے ہیں اور اپنا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ لیکن والدین ایک بہت بڑی بنیادی غلطی یہ کرتے ہیں جو کہ والدین کی سب سے اہم اور اولین ذمہ داری ہے وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالی ٰسے اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بچوں کا تعارف نہیں کراتے۔ یعنی بچوں کو بتایا اور پڑھایا ہی نہیں جاتا کہ ہمارا خالق کون ہے اور اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا اور اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے زندگی گزار کر گئے ہیں اور ہمیں کیسی زندگی بسر کرنے کی تعلیمات دے کر گئے ہیں۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ کی تعلیمات کے مطابق زندگیاں بسر کر کے ہمارے لئیے عملی نمونہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ والدین بچوں کی دنیاوی زندگی کے اعلی معیار کے لئیے محنت کر رہے ہیں۔ لیکن دنیاوی زندگی کے اعلی معیار اور آخروی زندگی کے اعلی معیار کے ضامن دین اسلام کی تعلیم کی طرف بہت لا پرواہی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ اور دین اسلام سے بے رخی کے بھیانک نتائج کا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں۔ اولاد کے بے دین ہو نے اور والدین کا نافرمان ہونے کی سب اہم وجہ دین اسلام کی تعلیم نہ دینا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کو بتایا ہی نہیں۔ اللہ تعالی ہمارا خالق ہے۔اور ہمیں اللہ تعالی نے بہت کم مدت کے لئیے اس دنیا میں بھیجا ہے۔اللہ تعالی کے حکم ماننے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں دو جہاں کی کامیابی ملے گی۔

یعنی والدین کو بچوں کی تربیت کے لئیے قرآن وسنت سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئیے۔ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کوبہترین ڈاکٹر،انجنئیر ،وکیل ،پروفیسر کے ساتھ ایک بہترین مسلمان بھی بنا سکتے ہیں۔ اور دونوں جہاں کے خسارے سے بچ سکتے ہیں۔ بیٹااچھا وکیل بننے کے ساتھ دین کا داعی بھی بنے گا۔ یقیناً والدین کے لئیے صدقہ جاریہ بنے گا۔

والدین کو اپنے بچوں کو دین دار بنانے کے لئیے کس قدرمحنت کرنی چاہئیے ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ ہم لاہور محلہ بیگم پورہ میں رہا کرتے تھے۔ بیگم پورہ محلہ کا وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہاں مغل خاندان کی بیگمات کی قبریں ہیں۔ اور محلہ کی سب سے بڑی جامع مسجد شاہی جامع مسجد مغلیہ دور ہی کی تعمیر شدہ ہے۔ میری عمر تقریباً دس سال تھی اور میرے بڑے بھائی کی عمر بارہ سال تھی۔میری والدہ ہم دونوں بھائیوں کو مسجد نماز کے لئیے بھیجا کرتی تھیں۔ میں بچپن میں بہت شرارتی ہوا کرتا تھا۔ کھیل کود میں خوش رہتا۔ پڑھائی اور نماز میں دلچسپی بہت کم تھی۔ ہم دونوں بھائی اکٹھے مسجد داخل ہوتے۔ میں بھائی سے چھپ کر چپکے سے مسجد کے عقبی دروازہ سے نکل جاتا اور مسجد کے قریب کھیل کے میدان میں چلا جاتا۔

چند روز کے بعد میرے بھائی نے مجھے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ والدہ کو بتایا۔ والدہ نے پیار و محبت سے سمجھایا اور نماز کی اہمیت بھی بتائی۔ کچھ دنوں کے بعد میں نے پھر مسجد سے بھاگنا شروع کردیا۔ پھر میری چوری پکڑی گئی اس بار والدہ ماجدہ نے سمجھانے کے ساتھ تھوڑی پٹائی بھی کی۔ چند روز ڈر کے مارے نماز پڑھتا رہا پھر اپنی پرانی ڈگر پہ چل نکلا۔ اس بار جب میری عظیم والدہ کو پتہ چلا تو مجھے کچھ نہ کہا۔اللہ تعالی سے خوب رو روکر دعا کی کہ اے اللہ میں اپنے بیٹے کو نمازی بنانا چاہتی ہوں۔ یا اللہ میرے بیٹے کو نمازی بنا دے۔ اور اس روز کے بعد میری والدہ ہم دونوں بھائیوں کے ساتھ مسجد کے دروازے تک جاتی تھیں اور جب تک ہم دونوں بھائی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سےنہ نکلتے وہ باہر بیٹھ کر ہمارا انتظار کیا کرتی تھیں۔ ذرا تصور کیجئیے کہ کھلی گلی میں مسجد کہ دروازے پہ ہر روز پانچ نمازوں کے اوقات پہ ایک دین دار عورت کے لئیے بیٹھنا کس قدر دشوار اور کٹھن عمل تھا۔ میری والدہ ماجدہ (اللہ سبحانہ وتعالی انکی قبر پہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے) نے اپنی یہ ڈیوٹی اس وقت تک جاری رکھی جب تک میری والدہ کو یقین ہو گیا کہ اب میرا بیٹا پکا نمازی بن گیا ہے۔میرانمازی بننا سو فیصد میری والدہ کی قربانی اور محنت کا ثمر ہے۔ یقیناً میرا ہر اچھا عمل میری والدہ کا صدقہ جاریہ ہے۔ والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کے لئیےاسی طرح محنت کے ساتھ قربانی دینا ہوگی۔ اور اللہ تعالی سے مانگنا بھی ہوگا۔ یقیناً والدین کو دونوں جہاں کے راحت و آرام کے ساتھ سر خروئی نصیب ہوگی وگرنہ اس دنیا میں اولڈ پیپلز ہوم ٹھکانہ بنے گا اور مفتی حضرات کو فون کر کے رونا مقدر بنے گا۔ آخرت کی جوابدہی بہت مشکل۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Chaudhry M Zulfiqar

Read More Articles by Chaudhry M Zulfiqar: 18 Articles with 10668 views »
I am a poet and a columnist... View More
15 Nov, 2018 Views: 488

Comments

آپ کی رائے