آسیہ کی رہائی اور سماج کا رویہ

(Arif khilji Khan, )

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ صادر کیا ہے جو کہ اقلیتی برادری کی کی خاتون سے متعلق جس پر گستاخ رسول ہونے کا الزام لگا تھا جو تعزیرات پاکستان کے زمرے میں ٓتا ہے ہر وہ شخص جو توہن مذہب یا توہن رسول ٗ کا مرتکب ہوتو اس آرٹیکل کی روح سے پھانسی کا حقدارہے۔اس فیصلے کی حساسیت اور تاخیر کو جانچتے ہوے سپریم کورٹ نے ایک ایسے فیصلے کی بنیاد رکھی جس پر ملک کا مذہبی طبقہ سراپا احتجاج ہیں اور اسلامی نظریاتی ملک ہونے کی وجہ سے اس مکتبہ فکر کو ایک خاص قوت حاصل جسکی بنیاد پر وہ اپنے مطالبات ریاست کے مضبوط اداروں سے منوانے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔اور اس فیصلے کے پیش نظر خدادا مملکت میں زندگی کا پہیہ مکمل طور پر روک دیا گیاہے اور ایک بے چینی کی فضا قا مٰ ہے ۔

توہن مذہب پر ایک سرسری نظر۔
توہن مذہب کا قانون پہلی مرتبہ برسغیر میں برطانوی راج کے زمانے میں ۱۸۱۰ ؁؁؁ میں بناہیے گئے تھے اور پھر۲۷ ۹ میں ۱ضافہ کیا گیا تھا ان قوانین میں زیادہ سے زیادہ سزا ۱۰ سال قید اور جرمانہ تھا اور اسی طرح وقت کی مناسبت سے اس قانون میں مختلف شقوں کا اضافہ کیا گیا او ر ضیاالحق کے دور حکومت ۱۹۸۲ ؁میں ایک شق شامل کئی گئی جس میں جان بو جھ کر قرآن کی بے حرمتی کی سزا پھانسی رکھ دی گئی اور اسی طرح مزید ایک اور شق کا اضافہ جس میں پییغمبر اسلام کی بے حرمتی کی سزا بھی پھانسی یا عمر قید رکھ دی گئی توہن مذہب کے قوانین بنانے کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تشدد کو روکا جاسکے اور مذہبی تصادم سے دور رکھا جاسکے۔

پاکستان کے پینل قانون میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا قانون سیکشن ۲۹۵A-(مذہبی جذبات اْبھارنا۔غم و غصہ پھیلانا) ۲۹۵B-( قران پاک کی بے حرمتی کرنا) ۲۹۸ A-پیغمبر اسلام کے خاندان کی بے حرمتی کرنا) قانون میں ترمیم کو مدنظر رکھتے ہو ےٗ ضیا الحق کے دور حکومت میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی تاکہ وہ جائزہ لے سکے اور اس بات کا فیصلہ کرسکے کہ کئی کوئی قانون یا اسکا کوئی پہلو اسلامی تعلیمات کے خلاٖف تو نہیں ہے۔

گستاخ رسولُ کے مبینہ الزام کا واقعہ ۹ جون۲۰۰۹ ؁ کو پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب کے ایک گاوں میں پیش آیا جب آسیہ فالسے کے باغ میں دیگر خواتین کے ساتھ فالسے چن رہی تھی جب آسیہ پانی پینے کیلےُ جاتی ہے تو واپسی پر اپنے مسلمان دوست خواتین کیلےٗ بھی پانی لے کر آتی ہے جس پر ومسلمان خواتین دوست پانی پینے سے انکار کردیتی ہیں اور انکے درمیان نوک جھونک شروع ہوجاتی ہے اور اس نوک جھونک کا داہرہ کار بڑ ہتے ہوے توہن رسالت تک پنچ جاتی ہے جو کہ ایک اسلامی ملک میں رہتے ہوے ایک اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے خاتون کیلے ایک ڈراونے خواب سے کم نہہں ہے جہاں اسلامی تعلیمات اور نظریات کا غلبہ ہو ااور جہاں بظاہر اسلامی تعلیمات کا پرچار تو کیا جاتاہے لیکن عملی طور پر اسکی مسال دینا نا پیدہے اور اسلامی تعلیم سے نابلد طبقہ کو صرف عدم پبرداشت کی ایک چھوٹی سی لکیر نظر آتی جسں کو پھلانگنے کی جستجو میں اسلامی اقدار کی توہن کو بھلا بییھٹتے ہیں اور جس توہن کے خلاف برسرِپیکار ہوتے خود ہی اسلامی قدروں کے گستاخ مرتکب ہوتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا ہوں ہمارے پیارے بھائی جو کہ سڑکوں کو بلاک کرنے اور لوگوں کے املاک کو نقصان پنچانے والوں کو شاہد اس بات کا بھی علم نہ ہو ں کہ مسلہ کی اصل حقیقت اور گہرائی کیا ہے اور کیا کسی کے الزام لگانے سے کوئی شخص جرم کے زمرے میں آجاتاہے اور کیا عدالتیں اس ملزم کو صبوت کی عدم دستیابی پر سزاے موت دے سکتی یقینا ایسا کرنا ناممکن ہے اور اگر اسی طرح مفروضوں پر سزاہیں درکار ہوں تو سماج ناہمواری سطح کی طرف گامزن ہوجاےٗ گا ۔ان سب معملات کو سلجھانے کیلۓ ہماری عدالتیں اپنی فراض انجام دے رہے ہیں جو یقنا ایک بآختیار ادارہ ہے۔

ہمارا اسلام ہمیں صبر،پیار،محبت اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم کا درس دیتاہے لیکن ہم مذہبی جنونیت کی حدود کو پار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے جو ہمارے اسلامی تعلیمات کی روگردانی کا سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے ایک ناشاہستہ اور غیر مہذب ماحول کو پنپنے کا موقع ملتاہے جس کا فاہدہ حاصل کرنے کیلے ہمہ وقت تیار غیر ریاستی عناصر ناجاہز اٹھاتے اور یاست کی ستونوں کو کمزور اور دراڑ دالنے کی ایک ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن دشمن پسند عناصر کو کسی تک کامیابی ملک میں افراتفری ،املاک کو نقصان پہنچانا،مذہبی احساسات کو ہوا دہنا اور بے چینی کی کیفئت کو بڑھاوا دینا شامل ہوتاہیں اور ماضی کے ادوار میں بھی مذہبی کارڈ کو استعمال کرتے ہوے اپنے مفادات کی پذیرای ااور تکمیل کے دہانے تک پہنچنے میں سرخرو رہیے ہیں۔

ہاں یقینا یہ بات واضع کرنا ضروری ہے کہ اس فیصلے کے ضمن میں مذہبی احساسات اور مذہب سے بے انتہا محبت کے بنا پر ریاست کے باسیوں کو اعتماد میں لینا اور ان کو بغیر طاقت استحمال کیے قاہل کرنا دانشمندی کی طرف ایک اچھا قدم ہوگا کیونکہ ریاست پاکستان مزید کسی اور محاذ کا متحمل نہیں ہوسکتا جیسا کہ ہم پہلی ہی سے کئی دشمنوں کے چالوں سے نبرد آزماہے اور اس بات کا ریاستی اداروں اور عوام کو سنجیدگی سے ادراک ہونا چاہے-

حالیہ ابترامن وامان کی حالات کی پیش نظر وزیراعظم کی قوم سے خطاب کو اندرونی و بیرونی ممالک زبردست پزیرائی حاصل ہوئی اور ان کے خطاب جو کہ بظاہر نرم لیکن سخت الفاظ استعمال کیے گیے اور اشارتاُ ان لوگوں کو خبردار کیا گیا جو ریاست کی رِٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور واشگاف الفاط میں پیغام رسانی کی کہ اگر اسی طرح رٹ کو مزید چیلنج کیا گیاملک کی سلامتی کو دیکھتے ہوےٗ ریاستی ادارے سخت ایکشن لینے سے اجتناب نہیں کرینگی وزیراظم کی تقریر کی مقبولیت کی خاص وجہ ان کا تند و تلخ لہجہ جس کی نظیر پاکستان کی سیاست میں کئی نظر نہیں آتاہے ۔

آںیں ملکر اس وطن کی آبیاری میں سب ملکر حصہ لے تاکہ اندرونی و بیرونی سازشووں کو ناکام بنا دے اور پوری دنیا کو ایک پیغام دے کہ ہمارا جینا مرنا اس ملک کی حفاظت اور سربلندی میں پنہاں ہے اور ہر وہ سازش جو اسلامی دنیاکے خلاف ہو اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو جاے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif khilji Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 329

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ