میرا پیغمبر ، رشد ہدایت

(Mona Shehzad, Calgary)

ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں ساقی کوثر ، محبوب خدا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس جہان فانی میں تشریف لائے۔آپ کی ولادت با سعادت سے چھ ماہ قبل آپ کے والد محترم حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب وفات پا چکے تھے، آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے خانہ کعبہ میں جاکر دعا مانگی کہ اللہ تعالی انھیں حضرت عبداللہ رضی تعالی عنہ کی اولاد نرینہ نشانی کے طور پر عطا فرمائے ۔حضرت آمنہ رضی تعالی عنہ کو یقین تھا کہ آنے والا بچہ کوئی مبارک روح ہے کیونکہ آپ خواب میں برگزیدہ ہستیوں کا دیدار کرتیں اور وہ آپ کو پیغمبر آخری الزمان کی والدہ ہونے کی خوشخبری سعید سناتیں ، جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے اس روز سلطنت روم کے میناروں کے کنگرے گر گئے، کسری کے زرتشت خانے کی ہزاروں سال پرانی جلتی آگ بجھ گئی ،خانہ کعبہ میں موجود تمام بت اوندھے منہ گر پڑے، آپ کے دادا آپ کو پیدائش کے فورا بعد آپ کو کعبے میں طواف کے لیے لائے ،انھوں نے آپ کا نام اقدس محمد رکھا ،آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مدت ایک بدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کی جیسا کہ عرب کا رواج تھا۔ اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آب و ہوا میں صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔پیدائش کے بعد چار روز تک والدہ نے بیٹے کو دودھ پلایا اور پھر چھ دن ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے دودھ پلایا۔ طائف اور دیگر صحت افزاء مقام سے دودھ پلانے والی مائیں ان آبادیوں میں بچے لینے آتی تھیں۔ یتیم ہونے کے باعث کئی عورتوں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود نہ لیا۔ حلیمہ سعدیہ ہر اعتبار سے کمزور تھیں اور انہیں کوئی بچہ بھی نہیں ملا تھا لہذا انہوں نے گھر بغیر بچے کے واپس جانے کے یتیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود لینا پسند کیا اور قافلے کے ساتھ واپس روانہ ہو گئیں۔حضرت حلیمہ کے خاوند حارث نے کہا حلیمہ بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے ہیں۔یہ وہی بکریاں تھیں جو دودھ سے خالی تھیں۔ حلیمہ نے کہا :
میں محسوس کرتی ہوں یہ برکت اس معصوم بچے کی ہے جسے ہم نے لیا ہے۔حلیمہ کے جو جانور آتے ہوئے چل نہیں رہے تھے وہ اب دوڑ رہے تھے۔حلیمہ سعدیہ نے محسوس کیا کہ ان کی گود میں موجود ہستی کوئی عام بچے جیسی نہیں تھی۔
دو سال کے بعد حلیمہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ان کی والدہ کے پاس آئیں مگر والدہ نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دیا کہ ابھی اپنے پاس ہی رکھیں۔ اچھی آب و ہوا میں صحت اور اچھی ہو جائے گی۔آپ جب تک بی بی حلیمہ کے گھر رہے ،ان کے جانوروں اور دودھ میں برکت رہی ، پھر وہ آپ کو واپس آپ کی والدہ کے پاس چھوڑ گئیں ۔
چار سال کی عمر مبارک میں طائف سے واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سال اپنی والدہ ماجدہ کے پاس رہے۔ چھ سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ یثرب اپنے عزیز و اقارب سے ملانے لے گئیں۔ شوہر کی بھی قبر کی زیارت کی۔ ایک ماہ قیام فرمایا واپس پر ابواء کے مقام پر جو بدر شریف کے قریب ہیں بیمار ہوئیں اور وہیں رحلت فرما گئیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر دادا کے پاس آئیں اور ان کی امانت ان کے حوالے کر دی ۔ دادا کو پوتے سے انتہا کا پیار تھا۔ مگر دو سال کے مختصر عرصے میں وہ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ناظرین دیکھئے ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کی زات اقدس سے زمین سنور گئی ،وہ بچپن سے در یتیم تھے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو طالب رضی تعالی عنہ کے دست شفقت تلے پرورش پائی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوعمری میں ہی حضرت ابو طالب کے ساتھ شام کا تجارتی سفر بھی اختیار کیا تاکہ تجارت کے امور سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ اس سفر کے دوران میں ایک بحیرا نامی عیسائی راہب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں کچھ ایسی نشانیاں دیکھیں جو ایک آنے والے پیغمبر کے بارے میں انجیل میں بیان کی گئی تھیں ۔ اس نے حضرت ابوطالب کو بتایا کہ اگر شام کے یہود یا نصاریٰ نے یہ نشانیاں پا لیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوطالب نے یہ سفر ملتوی کر دیا اور واپس مکہ آ گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن عام بچوں کی طرح کھیل کود میں نہیں گذرا ہوگا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نبوت کی نشانیاں شروع سے موجود تھیں۔
۔ویسے تو میرے آقا کی ہر بات نرالی اور قابل تحسین تھی،مگر آج میں آقا کے اخلاق اور برداشت کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہونگی۔مسلم شریف کی حدیث ہے۔
"نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور برائی وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ اسے جانیں۔“ (رواہ مسلم و ابوداؤد)
سرور کونین خود بھی سراپا اخلاق تھے اور انھوں نے اخلاق پر بہت زور دیا۔اخلاق ایک ایسی پوشاک ہے جس کو پہننے والا ہمیشہ خلق خدا کی نظر میں محبوب رہتا ہے ۔
ترمذی شریف میں ایک جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھاہو“
میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بردبار اور برداشت کرنے والا نفس اس دنیا نے نہیں دیکھا ۔ اگر سیرت کا مطالعہ غور سے کیا جائے تواس کی مثال قدم قدم پر ملیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب مکہ سے ہجرت کرکے (اونٹ پر سوار ہوکر) مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہورہی تھیں، تو راستہ میں ہبار بن اسود نامی ایک شخص نے انہیں اتنی تیزی سی نیزہ مارا کہ وہ اونٹ سے گرپڑیں، حمل ساقط ہوگیا، اس صدمہ سے تاب نہ لاسکیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس حادثہ کی خبر ہوئی تو آپ بہت غضب ناک ہوئے اور آپ کو اس بات سے بہت صدمہ ہوا، جب بھی اس حادثہ کی یاد تازہ ہوجاتی تو آب دیدہ ہوجاتے؛ لیکن جب ہبار بن اسود اسلام لے آئے اور معافی کی درخواست کی، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معافی دے دی۔
وحشی بن حرب اور ہندہ کے واقعے سے آپ سب واقف ہیں۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز از جان چچا حضرت حمزہ کو وحشی نے قتل کیا،ہندہ نے ان کا کلیجہ چبا لیا،جب یہ دونوں اسلام لائے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاف کردیا ،مگر ساتھ ہی تلقین کی کہ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ نہ آیا کریں ،کیونکہ ان کے زہن میں چچا کی یاد جاگ جاتی تھی۔کیا اس جرآت کا مظاہرہ کوئی اور فانی کرسکتا تھا؟
نہیں! یہ صرف سرور کونین کا خاصہ تھا۔
فتح مکہ دنیا کی سب سے بڑی اور پر امن فتح تھی،جس میں ایک قطرہ خون کا نہیں بہا،جس میں کسی زی روح کو نقصان نہیں پہنچا عام معافی کا اعلان کیا گیا ۔
لاتثریب علیکم الیوم واذہبوا انتم الطلقاء“ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو، تم لوگوں سے کسی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائیگا،"
یہ زہن میں رکھیں آپ لوگ ،سرکار نے ان کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلاظت پھینکتے، جو آپ کے پیچھے شرارتی لڑکے لگادیتے ،جو آپ کو اور مسلمانوں کو کعبہ میں عبادت سے روکتے ،جنھوں نے کتنے مومنین کی جان لی کیونکہ وہ ایمان لے آئے تھے ،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا، یہ تھاآپ کا اخلاق کریمانہ، یہ تھا آ پ کے اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ، جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں مل سکے گی ۔ آج کے اس دور ابتلا میں مسلم امہ کی اس بے بسی کی بنیادی وجہ مکارم اخلاق سے چشم پوشی ہے۔اگر ہم قرآن پاک کی رسی کو تھام لیں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا شروع کردیں تو سارے مسائل حل ہوجائنگے ۔انشاءاللہ ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 179042 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
23 Nov, 2018 Views: 529

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ