معلم آفیسر ہم آہنگی ،ایک مثبت قدم

(M Zeeshan Baloch, )

کیا ـ’’ھو ‘‘ کے اس ڈراؤنے نظام کا خاتمہ ممکن ہے ۔
افسر صرف چیکر کیوں ،فیسیلیٹر کیوں نہیں ؟؟
اس بدلتی دنیا کے بدلتے نظام میں جہاں اہل جہاں یہ سمجھ چکے ہیں کہ جنگ و جدل کسی مسئلے کا حل نہیں باعین اسی طرح تعلیم و تدریس کے معاملاتمیں بھی جبر وتشدد کو ترک کرکے پیار شفقت اور محبت کے طریقہ کار کو اپنانے پر انتہائی زور دیا جارہا ہے مغرب کی انتہائی ترقی یافتہ دنیا تقریباََ ایک صدی پہلے سے ایسی ترجیہات اپنا چکی ہے اور بچوں کو انتہائی دوستانہ ماحول میں کئی ھیلوں بہانوں بغیر زہنی بوجھ بنائے تعلیم دینے کا کامیاب سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جوکہ دوسری دنیا کیلئے ایک سبق ہے ۔ اُسی کامیابی کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے اصلاحات کی جارہی ہیں خصوصاََ خیبر پختونخواہ میں قائم ہونے والی سابقہ تحریک انصاف کی حکومت نے کئی مثبت قدم کیے جن میں اساتذہ کی میرٹ بھرتی اور استاد شاگرد میں دوستانہ ماحول پیدا کرنے اور گورنمنٹ سکولز کے ماحول کو بہتر بنانا بہتر اقدام ہیں ۔ جہاں کرپشن قتل و غارت اور غلط پالیسیوں نے ارض پاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔وہیں ناقابل یقین اور انتہائی خطرناک ناخواندگی بھی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور پاکستان کا شمار ان پڑھ ممالک کی فہرست میں شامل ہے اور شرح خواندگی کوبڑھانے کیلئے نت نئے طریقے اپنائے چارہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں استاد شاگرد کے بعد آفیسرز معلم کے درمیان تعطل ختم کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ محکمانہ آفیسر ز اور اساتذۃ کے درمیان آزاد اور دوستانہ ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے ۔ ایسی ہی ترجیہات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سابقہ ایس ڈی ای او پروآ سرکل زین اﷲ خان نے بھرپور کوشش کی ہے اور انتہائی نیک نیتی سے معلم کو آفیسر کے قریب کرنے کی کوشش کی ہے اب جبکہ زین اﷲ خان جاچکے ہیں لیکن یہ بیڑا موجودہ ایس ڈی ای او ملک خالد نعیم نے اٹھایا ہے اور اے ایس ڈی ای او الفت علی شاہ بھی ان کے شانہ شانہ اس ـ’’ ھو‘‘ کے عالم کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں ۔ اسی کوشش اور سعی کے سلسلہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول جھوک کھلڑ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سابقہ ایس ڈی ای او زین اﷲ خان ،موجودہ ایس ڈی ای او ملک خالد نعیم ،اے ایس ڈی او درابن خورد الفت علی شاہ ،کلرکس ایسوسی ایشن کی طر ف سے ملک محمد اسماعیل ،حاجی ملک عرفان کے علاوہ عزیز اﷲ بھٹی نے معاون کے طور پر شرکت کی ۔

اس موقع پر زین اﷲ خان نے کہا کہ اساتذہ کے سامنے آفیسرز کو بلا کے طور پر آج تک پیش کیا جاتارہا ہے کہ اساتذہ ان سے ڈرے اور سہمے رہتے تھے ہم نے اُس کلچر کو ختم کرنا ہے معلم ایک معزز پیشے کا فرد ہے اور اسکی انتہائی تکریم کی جائے اسکو اتنی عزت دی جائے جس کا وہ مستحق ہے ۔ایس ڈی او پروآ خالد نعیم نے کہا کہ انشاء اﷲ ہم اس فاصلے کو مٹائیں گے ہم اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر تعلیمی ماحول کو بہتر بنائیں گے اور ورق کریں گے ۔

اس موقع پر اے ایس ڈی او الفت شاہ نے کہا کہ آفیسر چیکر نہیں بلکہ ایک فیسیلیٹر ہے اساتذہ کو کھل کر بات کرنی چاہیے اور اپنے مسائل سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ ہم ملک و قوم کی بہتر طریقے سے خدمت کرسکیں ۔ اس موقع پر کلرکس ایسوسی ایشن کے اسماعیل خان نے بھی یقین دلایا کہ ہم ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے کہ اساتذہ کے مسائل کو اُن کی منشاکے مطابق حل کرسکیں ۔عزیز اﷲ بھٹی نے کہا کہ آج دنیا اتنی تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن ہمارا معاشرہ آج بھی استاد کو شاگرد کے سامنے اور آفیسرز کو معلم کے سامنے ’’جلاد‘‘ بناکر بٹھایا ہے مل جل کر کام کرنا وقت کی انتہائی ضرورت ہے جس سے ہم دوسری دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ اس موقع پر ملک تنویر دھپ اور ملک نومیر عادل کی بہترین کاوشوں کو سراہا گیا ۔
 
ایسے اقدامات کا ہونا مثبت پہلو ضرور ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی طور پر یہ فاصلے کم ہونے چاہیئں تاکہ معلم کو چور ثابت کرنے کے بجائے اسکو سہولیات باہم پہنچائی جائیں اورضروریات کے مطابق ان سے بہترین استفادہ حاصل کیا جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Zeeshan Baloch

Read More Articles by M Zeeshan Baloch: 3 Articles with 3881 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 342

Comments

آپ کی رائے