جعلی سرٹیفکیٹ اور اسکول

(Anum Abdullah, Karachi)
سکولوں کے نظام تعلیم جو خامیاں اور غلطیاں ہیں

آج کے سکولوں کے نظام تعلیم جو خامیاں اور غلطیاں ہیں ان میں سے ایک یہ خرابی بھی ہے کہ عمر کا تعین اس طرح لازم کر دیا گیا کہ بچوں کے والدین کو جعلی سرٹیفکیٹ بنوانا پڑتے ہیں۔ اور زندگی بھر اپنی عمر کے متعلق جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ تمام کاغذات ، اسناد میں یہی غلط عمر اندراج ہوتی ہے اور مرنے کے بعد بھی یہ کذب بیانی جاری رہتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کی عمر دراصل بہتر(72) سال تھی مگر شروع میں دو سال کم لکھوائی گئی تھی۔ اس لئے یوں لکھا جاتا ہے کہ فلاں صاحب ستر(70) کی عمر گذار کر وفا ت پا گئے۔ پھر اگر وہ کوئی شخصیت بن گئے ہوں تو ان کی سوانح حیات میں بھی یہی حقیقت سے منافی عمر لکھی جائے گی۔ غرض سکول انتظامیہ کا یہ اصول مقرر کرنا ہی غلط ہے اور پھر جس مقصد کےلئے یہ اصول مقرر کیا گیا ہے وہ حقیقتاً پورا بھی نہیںہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے ہر کلاس میں ایک ہی سطح کے جسمانی و دماغی اوصاف کے بچے ہوں اب اگر کچھ بچے چار سال کی عمر والے کچھ پانچ سال والے اور کچھ چھ سال کی عمر کے بچے ہوں تو یقیناً وہ ذہن اور جسم کے اعتبار سے متفاوت ہونگے اور رجسٹروں میں ایک ہی عمر لکھ دینا کوئی مفید کام نہ ہوا۔ جو فرق و عدم یکسانیت بچوں میں فطرۃً عمر کی کمی زیادتی کی بنا پر ہے وہ سرٹیفکیٹ بھی غلط عمر لکھوانے سے ختم نہیں ہوسکتا۔ بہر حال یہ قاعدہ ہی غلط ہے او راس کے ذمہ دار وہ منتظمین ہیں جو اس کذب بیانی کا ارتکاب کراتے ہیں اور اس کی بنا پر ریٹائر منٹ کے وقت جو فرق آئےگااس کا باعث بھی یہی سکول کی کذب بیانی پر مبنی رول ہیں۔ اس لئےاولاً بچوں کو مطلوبہ عمر میں درج کرایا جائےاور اگر ایسا نہ ہوا یا تو سکول انتظامیہ کو کہا جائے کہ یہ قاعدہ بدل دیا جائے اس لئے کہ یہ کوئی آسمان سے نازل شدہ قانون نہیں جس میں تغیر و تبدیل نہ ہوسکے۔

رہی ریٹائر منٹ پر ہونے والی وہ بے اعتدالی جس کا تذکرہ سوال میں کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ تنخواہ دراصل کام کرنے کا معاوضہ ہے اس لئے حقیقی عمر کے اعتبار سے ایک شخص Over Ageہوچکا مگر عمر کے غلط اندراج کی وجہ سے وہ مزید چند سال ملازمت کرے گا تو ان مزید سالوں کی تنخواہ حرام نہ ہوگی، اسلئے کہ تنخواہ کام کرنے پر ملنے والی اُجرت ہے اور اس نے کام کیا ہے۔ تو تنخواہ حلال ہوگی مگر کذب بیانی اور حق تلفی کبھی حلال نہ ہوگی۔
..............
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anum Abdullah

Read More Articles by Anum Abdullah: 6 Articles with 2689 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2018 Views: 298

Comments

آپ کی رائے