یقین کی کمی

(Asma Tariq, Gujrat)

جب انسان کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے ضرور کسی کی طرف سے کوئی بندش ہے ۔دن بدن انسان کا یقین ڈگمگانے لگتا ہے اور اسی سوچ کی طرف مائل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ تعویذ دھاگوں کا سہارا لینے لگ پڑتا ہے اور اسی طرح کالے جادو تک بات پہنچ جاتی ہے اور انسان اپنا کام سیدھا کرنے کے لیے ہر الٹا سیدھا کام کرتا ہے اور وہ فقیر بابا مائی ایسے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے سارے کام ان کی مرضی کے مطابق کر دیں گے اور انسان ان کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے اور ایسا پھنس جاتا ہے کہ پھر مکمل طور پر تباہ و برباد ہونے پر ہی سمجھ آتی ہے کہ وہ کیا کرتا رہا کچھ کو تو تب بھی نہیں آتی ۔

جادو ٹونا ہمارے معاشرے میں عام ہوتا جا رہا ہے جو بہت خطرناک صورتحال کا پیش خیمہ ہے ۔اس کے چکر میں کئی گھر اجڑ جاتے ہیں ، خاندان کے خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی ۔۔۔خدا ہی اس لعنت سے بچائے ۔ لوگ کبھی اپنے مسائل کے حل کیلئے ،کبھی اپنوں کے لیے ،کبھی اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایسے لوگوں کے در پر جا کر بھیگ مانگتے ہیں ،پیسے بھی تباہ کرتے ہیں اور خود کا بھی کوئی حال نہیں چھوڑتے مگر ملتا کچھ نہیں ہے ۔۔ ہماری عورتیں خاص طور پر اس لعنت کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ کمزور یقین ہے اگر ہم اپنے کام جادو ٹونے کی بجائے اللہ پر بھروسہ رکھ کر خود کرنے کی کوشش کریں تو شاید بہتری آ بھی جائے ۔نہ جانے ہم خود کیوں اللہ سے نہیں مانگتے ایسے لوگوں کا سہارا کیوں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ وہ تو ہر پل کہتا ہے مجھ سے مانگو ۔۔ اس کے در پر وقت تو لگ سکتا ہے مگر مایوسی کبھی نہیں ملتی ۔ انسان جادو ٹونے کے ذریعے تو ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا مگر خود کوشش کم ہی کرے گا اور میں پڑ کر وہ سب کچھ کہیں بھول ہی جاتا ہے شاید کچھ چیزیں کبھی اس کے حق میں ہو بھی جائیں ،اس کالے جادو کے حصار میں آ کر بدل بھی جائیں مگر یہ سب عارضی ہوتا ہے ایسی چیزیں کبھی دائمی اثر نہیں رکھتیں ۔ ان کی ایک مدت ہوتی ہے مدت ختم اثر ختم اور پھر اس جال میں پھنسنے والے کا انجام شروع ہو جاتا ہے اور وہ انتہائی اذیت ناک ہوتا ہے ۔ برائی کسی بھی شکل میں کیوں نہ ہو اس سے کچھ بھلا نہیں ہو سکتا وہ آخر میں انسان کو تباہ و برباد کر ہی دیتی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asma Tariq

Read More Articles by Asma Tariq: 85 Articles with 35189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Dec, 2018 Views: 430

Comments

آپ کی رائے