انسانیت

(AtaUllah, CHINIOT)
اسلام کا فروغ ہی انسانیت کا فروغ ہے

دور حاضر میں لگ بھگ پوری دنیا انسانیت کے فروغ کو ترجیح دے رہی ہے۔ وہ انسانیت جو رنگ و نسل اور ہر فرقہ و مزہب سے پاک ہووہ انسانیت جودکھ درد ، خوشی و غمی اور اچھے و برے حالات میں پے در پے کھڑے ہو نے والے لوگوں پر مشتمل ہو۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے۔۔۔؟ جبکہ پوری دنیا میں بہت سے عقیدے رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ جب عقیدوں میں اختلاف ہو گا تو آپس میں یکسا رہنا نا ممکن ہے ۔ تو پھر انسانیت کو فروغ کیسے دیا جاوے۔ اسکا واحد حل وا حد مزہب کے فروغ میں ہی ہے لیکن وہ مزہب کونسا ہونا چا ہیے۔ یقنن وہ ایسا مزہب ہونا چاہیے جو مکمل ضابطہ حیات پر مشتمل جو ہمارے خالق (اللہ گاڈ بھگوان یا اور کسی نام سے لوگ پکارتے ہیں) کا عطا کردہ ہو ویسے اگر ہم اپنے کم ظرف عقل کو ترتد دیں تو یہ کہے گی کہ تمام مزاہب ہی خالق کے عطا کردہ ہیں لیکن ایسا ہرگز نہں ہے۔ خالق کا عطا کردہ مزہب ایک ہی ہے۔ جو ہمارے آخری نبی محمد ﷺ کے ذریعے ہم تک پہنچایا گیا جو قرآن اور صیح احادیث کی صورت میں موجود ہے۔ محمد مصطفیٰﷺ سے پہلے بھی ہمارے خالق نے ہی نبی بھیجے تھے لیکن انسان اپنی ناقص عقل کی وجہ سے ان کے پیغام کو سمجھ نا سکا اور اس پیغام کو اپنی ناقص عقل کے مطابق ڈھال لیا جسکی درستگی کے لیے خالق نے بار بار نبیوں کو بھیجا اور اسکا سیلسلہ محمدﷺ پر تمام کیا اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے دین اسلام کو نافظ کردیا۔ دین اسلام ہی سچا اور ہمارے خالق کا عطا کردہ ہے اسکے بہت سے علمی اور عقلی دلیلیں دی جا سکتی ہیں لیکن ایک یہی دلیل سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے قرآن آج بھی اسی حالت میں موجود ہے حرف با حرف محفوظ ہے اس میں آج تک زبر زیر کی بھی تبدیلی رونماں نہ ہو سکی جبکہ بہت سے اسلام مخالفین نے کو ششیں کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ ہمارے خالق نے قیامت تک انسانوں کے لیے اسے محفوظ رکھنا ہے۔ میری اس تمام گفتگو کا مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ دین اسلام کے عقیدہ کا فروغ ہی درحقیقت انسانیت کا فروغ ہے۔ آج پوری دنیاں میں موجود قتل و غارت ،نفرت انگیزی، دھوکا بازی اور بےشمار برا یؑوں کا خاتمے اور محبت و آمن کی فیضا نافض کرنے کا واحد حل انسانیت کا فروغ میں ہے اور انسانیت کا فروغ دین اسلام کے فروغ میں ہی ممکن ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AtaUllah
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2018 Views: 419

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ