قسمت کی حقیقت

(CH Ahtsham Khadim, Pakpattan)

ہر چیز قسمت میں لکھی ہوئی ہے لیکن لکھا ہوا کا مطلب یہ نہیں کہ اک چیز پنسل کے ساتھ لکھ دی گئی ہے اور اس نے انسان کو اپنی زندگی میں مجبور کر دیا ہے۔

اگر لکھنے کا معنیٰ یہ ہو کہ انسان اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ ہی نہ کر سکے تو اس سے سوال و جواب کا حق ہی نہیں رہتا اس سے قبر اور روز قیامت سوال جواب ہی نہ ہو اگر قسمت میں لکھا ہے کہ اس نے برائی ہی کرنی ہے تو سزا کس بات کی؟

قرآن الکریم کا اصول ہے کہ ''کسی انسان کے لئے اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ جس کے لئے وہ خود کوشش کرے۔" (القران)

اللہ نے قسمت میں کیا لکھا ہے؟ ہم اس سے بالکل ناواقف ہیں، لہٰذا قرآن کے مطابق ہمیں وہی ملے گا جس کے لئے ہم کوشش کریں گے۔
علامہ اقبال کے اس شعر پہ غور کیجئے؛
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا تجھ سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

آسانی سے سمجھنے کے لئے اک مثال پہ غور کیجئے، اگر استاد اک شاگرد کی حالت دیکھ کہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ بچہ سال کے آخر میں فیل ہوگا اور اس لکھے کا علم بچے کو نہ ہو تو وہ واقعہ ہی فیل ہو جاتا ہے تو اسکا ذمہ دار کون؟ اسکا ذمہ دار بچہ خود ہے کیونکہ وہ محنت کر کے، کوشش کر کہ اچھے Marks لے سکتا تھا لیکن اس نے محنت نہیں کی اور ناکام ہوگیا۔

چونکہ اللہ کے پاس علم غیب ہے تو اس نے انسان کی قسمت پہلے سے ہی ''لوح محفوظ'' میں لکھ دی ہے
and just Almighty Allah knows before become into existence.
قسمت ہمیں مجبور نہیں کرتی،

ہم نیکی یا بدی کریں تو اسی کے مطابق ہمیں جزا یا سزا ملنی ہے۔

انسان نہ تو بالکل مجبور ہے اور نہ کلی طورپر بااختیار ہے اللہ نےہمیں بتا دیا ہے کہ اگر تو نیکی کرے گا تو اسکا انعام دیا جائے گا اور اگر بدی کرے گا تو Punishment دی جائے گی۔

شادی کے لئے جوڑے اوپر بنتے لیکن اس بات کا صرف اللہ کو پتہ ہے ہمیں نہیں کہ کس کی شادی کس سے ہونی ہے ہمیں تو وہی ملے گا جس کے لیے ہم خود کوشش کریں گے۔ ہم اچھا رشتہ کریں یا بری جگہ تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ ہمارے پاس Authority ہے، اللہ نے ہر مرد و عورت کو مکمل حق اور اختیار دیا ہے کہ وہ شریعت کے اندر رہتے ہوئے اپنی مرضی سے شادی کریں اس مرضی میں والدین کو عمل دخل کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ زندگی اولاد نے گزارنی ہے۔ اور اسلام میں زبردستی کی شادی کی بالکل بالکل اجازت نہیں دی۔

لہذا ایسے Concept کو چھوڑ دیں کہ جو ہوگا دیکھا جائے بلکہ خود کوشش کریں۔

میرے خیال سے آپ جس کام کے لئے کوشش کریں گے یقینا قسمت میں یہ بھی لکھا ہو گا کہ اس نےفلاں کام کے لئے کوشش کرنی ہے اور پھر جو Result نکلےگا اس کے بارے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قسمت میں لکھا تھا، کیونکہ جو کام آنے والے وقت میں ہونا ہے اسکا اللہ کو ہی علم ہے اور ہم اس علم کے نزدیک تک بھی نہیں جا سکتے۔

مزید قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے لئے ڈاکٹر طاہرالقادری کی ان Books کو Study کیجیے؛
¹ "ایمان بالقدر" 📖 یا
² "Freedom of human will and
Pre-determination" 📖

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: CH Ahtsham Khadim
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Dec, 2018 Views: 320

Comments

آپ کی رائے