کیا کھویا، کیا پایا (سال نو پیغامات)

(Maryam Arif, Karachi)

علی احمد ساگر
سال کے اختتام پر یہی کہنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ سال ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو دے کر جارہا ہے۔ چند دن بعد 2018 ماضی کا حصہ بن جائے گا لیکن ہمیشہ انسان گزرے ہوئے وقت سے آنے والے دنوں کے لیے ہی سیکھتا ہے۔ ہمیں بھی سیکھنا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
فریحہ سہاگ
میراپچھلاسال اچھارہا۔ سال کھویا کچھ نہیں ہے ۔ پایابہت ہے جیسے کے رائٹر زکلب کی ممبر ہوں اس سال لکھنے کا عزم ہے اور یہی میری کوشش ہے۔
دیا خان بلوچ
امید ہے نیا سال بہت سی خوشیاں اور کامیابیاں لے کر آئے گا۔ وہ تمام کام جو اس گزرے برس میں ادھورے رہ گئے ہیں ان کو مکمل کرنا ہے، ان شاء اﷲ۔ نئے سال میں بہت سارا لکھنا ہے، قلم سے ٹوٹے رشتے کو دوبارہ سے جوڑنا ہے۔
راحیلہ بنت مہر علی شاہ
زندگی کے قیمتی اوراق میں سے ایک اور ورق پلٹا جائے گا اور ابھی جیسے کچھ بھی نہیں پایا۔
زیست اس سال کچھ اور بھی آزماؤں تجھے۔
زہرا تنویر
سب کے لیے نیا سال مبارک ثابت ہو میرا نئے سال کے حوالے سے یہ عزم اور ارداہ ہے کہ behavioural psychology diplomaکروں۔ گزرا سال اچھا تو نہیں رہا لیکن سیکھنے کو بہت کچھ ملا۔ پیغام یہی ہے کہ اچھا گمان اومثبت سوچ رکھنی چاہیے۔
نور بخاری
اس سال کے حوالے سے بہت تلخ یادیں ساتھ رہیں گی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بہت قریبی عزیزوں کی اصلیت ظاہر ہوئی۔ بہت کچھ کھویا۔ پایا بھی بہت کچھ۔ ہمت، فیصلہ کرنے کی صلاحیت وغیرہ۔ اﷲ سب کے لیے نیا سال آسانیوں سے بھرا ہوا لائے۔ آمین
مفتی عثمان الدین
اﷲ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت زندگی کا ایک اور سال 2018 اختتام پزیر ہے۔ زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے اور اس کے بغیر زندگی لاحاصل ہے، سال نو کی آمد پر ہمیں گزشتہ سال کا احتساب کرنا ضروری ہے کہ ہم نے اس میں اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے کتنی جدوجہد کی ہے اور آئندہ کے لیے یہ نیت اور عزم کرنا ضروری ہے کہ ہم محنت اور جدوجہد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں گے کیونکہ اﷲ تعالی بھی انسان کی محنت اور جدوجہد پر اس کے لیے کامیابی کے راستے کھول دیتا ہے۔
مریم بتول
کیا کھویا کیا پایا۔۔ 2018 زندگی کا ایک اور سال ایسے گزرا کے پتا ہی نہیں چلا۔ وقت کا کام تو گزرنا ہی ہے۔ چاہے اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے اور اپنے ساتھ بہت کچھ سکھا کہ جاتا ہے۔ اس سال کے اندر الحمدﷲ بہت سے ادھور ے خواب مکمل ہوئے۔ اس گزرے ہوئے سال میں اگر کچھ کھویا ہے تو اپنے پیارے ’’ابوجان‘‘ جن کو اﷲ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا۔
عدیلہ اکرم
پرانے سال میں سب سے پہلے ایسے دوستوں کو کھویا جو کبھی بہت عزیز تھے مجھے پھر دادی ماں کو کھو دیا۔ ان دوستوں کو بھی مجھ سے دور لے گیا اور یہ سبق دے گیا یہ جاتا سال کہ اپنا کوئی نہیں ہوتا سوائے خود کے اور ماں باپ سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوتا۔کسی پر اندھا اعتبار آپ کو منہ کے بل گراتا ہے۔
فری ناز خان
ہر سال کی طرح یہ سال بھی اپنے اختتام کے آخری مراحل پر ہے۔ اس سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ بے شک گزرتا سال ہمارے لیے بہت اچھا سال رہا اس سال بہت سے دوست جدا ہوئے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اﷲ تعالیٰ نے خاص کرم فرمایا ہر امتحان میں کامیاب ہوگئے۔
انیلہ افضال
اپنے والدین کو کھویا اور رائٹرز کلب کو پایا اور کیا خوب پایا۔ عالیہ جی نے جو سکھایا تھا رائٹرز کلب نے اسے نکھارا ہے اور عزم یہی ہے کہ مزید سیکھنا ہے مزید لکھنا ہے۔
عائشہ عارف
2018 میں میرے رب نے میرے یقین کو بڑھایا۔ میری مانگی ہر دعا قبول کی۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن اور پھر صالحین کی صحبت خیر کی ترغیب دینے والوں کا ساتھ نصیب کرکے یہ احساس دلایا کہ میں اپنے اﷲ کے لیے کتنی خاص ہوں اور پھر لکھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ آئندہ سال کے لیے عزم مستقل مزاجی سے لکھنے کی کوشش اور 20 جنوری 2019 تک ٹارگٹ کو پورا کرنا۔ ان ہی دو عزائم پر عمل اور استقامت کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ان شاء اﷲ
ندیم قیصر
جو کھو گیا شاید وہ قسمت میں نہ تھا۔ جو ہے اس پہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ جو آگے خدا دے گا یقینا بہتر دے گا۔ 2018 بہت خوب گزرا، خوشی و غم تو جیون کا حصہ ہے۔ نئے سال میں ان شاء اﷲ باقاعدگی سے لکھنے کا عزم کیا ہوا ہے۔
حافظ امیرحمزہ
سال 2018ء بہت ہی اچھا گزرا وہ اس طرح کہ اسی سال کالم نگاری کا آغاز کیا اور وہ بہت ہی کامیابی سے جاری و ساری ہے۔ اس سال تجربہ سے یہ بھی پتا چلا کہ جو کوئی بھی کسی کام کے لیے پختہ ارادہ کرے اور اس میں اپنی وسعت کے مطابق پوری کوشش کرے اﷲ تعالیٰ اس کی کوشش کو بیکار نہیں کرتے بلکہ ایسا کرنے والا اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہو جاتا ہے۔
مہناز طاہر
زندگی میں دکھوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ دکھ ہمیں کچھ سکھانے کے لیے آتے ہیں۔ ہمیں مضبوط اور بہادر بناتے ہیں۔ یہ اﷲ کی خوشنودی کا راستہ بنتے ہیں اور اس خوشی سے بہتر ہوتے ہیں جو ہمیں اﷲ سے دور کردے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اﷲ کی رضا میں راضی رہے یا شکوہ کرتا رہے۔
قدسیہ مدثر
زندگی میں خوشی اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے ان مواقع میں ہم اپنے رب کے کتنا قریب ہوتے ہیں۔ خوشی کے موقع پر شکر اور غم کے موقع پر کتنا صبر کرتے ہیں۔ آزمائشیں کامیاب زندگی سے مشروط ہیں۔
فائزہ شیخ
وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا اور ہر وقت آپ کو کچھ نہ کچھ سکھا کر جاتا ہے۔ دنیا میں کوئی آپ کا اپنا نہیں سوائے آپ کی اپنی ذات کے۔ کامیابی کا کوئی راز نہیں سوائے محنت اور سخت محنت کے۔ جب تک آپ ناکام نہیں ہوتے آپ تجربہ کا لطف نہیں اٹھا پاتے۔ مستقل کامیابی غرور کا باعث بن جاتی ہے کامیاب ہونے کے بعد اسے سنبھالنا بھی ایک فن ہے۔
علینہ فاطمہ
ہر سال کی طرح یہ سال بھی جانے کو ہے۔ لمحے کب دِنوں اور دِن کب مہینوں میں تبدیل ہوگئے پتا ہی نہیں چلا۔ زندگی چلتی رہتی ہے سالوں کو گزرنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔ دِنوں کے گزرنے پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا، ہمارے بس میں ہوتا ہے تو صرف اتنا کہ ہم اپنے شب و روز کس طرح گزارتے ہیں۔ اس سال کے اختتام پر آج جب یہ سوچا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی کیا کھویا اور کیا پایا تو ذہن میں صرف اتنا آیا جو کھویا وہ میری اپنی نادانی تھی اور جو میرے پاس ہے وہ میرے اﷲ پاک کی رحمت ہے اور نئے سال کے لیے میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ اس سال میں میں کوشش کروں گی کہ ہر وہ غلطی جو میں نے اس سال کی وہ دوبارہ نہ کروں۔
مریم صدیقی
یہ سا ل بھی آخر بیت گیا۔۔۔ سال 2018ء بھی اپنے اختتام کو پہنچا اور صفحہ زیست پر کئی یادیں ثبت کرگیا۔ خوشی و غم ، کامیابی و ناکامی اور امیدوں سے مزین یہ سال بھی بالآخر جدا ہورہا ہے لیکن ایک نئے سال کی امید دے کر۔ 2018ء مجموعی طور پر ایک بہترین سال رہا۔ رائٹرز کلب میں نہ صرف شمولیت اختیار کی بلکہ بحیثیت رائٹر زندگی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ کئی کامیابیاں ملیں۔ باقاعدہ لکھنے کا آغاز اسی سال سے کیا اور الحمد ﷲ کئی تحاریر اخبارات کی زینت بنیں۔2019ء میں مزید آگے بڑھنے کا عزم ہے۔ لکھنے کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہے گا۔
کرن خان
ہر سال کی طرح کھونا پانا، نشیب و فراز زندگی میں بہت آئے مگر الحمد ﷲ زندگی کی تلخیوں کے آگے کمزور نہیں پڑی۔ ہر بار ایک مثبت سوچ اور رویے نے مضبوط بنایا۔ 2018ء میں جو چیز باعث ِخوشی رہی وہی عوام میں شعور کی بیداری اور پاک وطن میں آنے والی مثبت تبدیلی تھی۔
عالیہ ذوالقرنین
کچھ خوشیاں کچھ غم دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا
2018 بھی اختتام پزیر ہوا۔ بلاشبہ گزرتا ہوا ہر سال یہ پیغام دیتا ہوا رخصت ہوتا ہے کہ میں گزر ضرور گیا ہوں مگر تم نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ کل وہی سورج پھر سے نئے جذبوں اور امیدوں کے ساتھ طلوع ہوگا تم نے بھی اپنے جذبے اور ہمت جواں رکھنی ہے۔ یہ سال اس حوالے سے میرے لیے خوش قسمت رہا کہ اس سال اس سال الحمدﷲ ہمارے چوتھے بیٹے نے بھی اپنا حفظ ِ قرآن مکمل کیا اور جو ہم نے اپنے سب بیٹوں کو حافظ ِ قرآن بنانے کی نیت کی تھی وہ اﷲ کریم نے اپنے فضل سے پوری فرمادی۔کھونے کی مد میں، اس سال میری بہت شفیق پھوپھو جو میری ساس بھی تھیں، کا انتقال ہے۔ اﷲ کریم انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے آمین۔
آمنہ وزیر
بہت اچھے لکھنے والوں سے ایک خوبصورت تعلق جڑا یقیناً ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا اس سال تمام امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا ہے کہ اﷲ کریم ہر مسلمان کو خوش رکھے، شاد رکھے، آباد رکھے۔ آمین گذشتہ سال میں اﷲ کا خاص کرم رہا۔ لکھائی کے سفر کا باقاعدہ آغاز رائٹرز کلب کے تحت کیا اور آنے والے سال میں بھی اﷲ سے یہی دعا ہے کہ اﷲ زندگی کے ہر میدان میں میری اور سب کی جائز اور نیک خواہشات پوری فرمائے۔ آمین
مدیحہ مدثر
سال نو کا آغاز ہماری زندگی کا ایک سال اور کم کر گیا لیکن گزرے ہوئے سال میں ہم نے جو نیک عمل کیے وہ ہماری آخرت کی زندگی میں یقیناً بہترین اضافہ کرگئے۔
اﷲ آنے والا سال میرے اور میرے پیارے وطن پاکستان کے لیے بہترین سال ثابت ہو آمین۔
شیبا اعجاز
گزرا سال ہر سال کی طرح تیزی سے گزر گیا۔ وقت کو جیسے پر لگے ہوئے تھے جس کا احساس گزرتے وقت کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور الحمد ﷲ اچھا وقت ہی تیزی سے گزرتا ہے کھویا کم، پایا زیادہ شکر کی توفیق ہوئی۔ ہاں اس دوران اپنی شخصیت کا گوہر نایاب ڈھونڈ لیا، لکھنے کی صلاحیت اﷲ نے دی اور قدرت نے اچھے لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کو نکھارنے میں خوب مدد کی، اب نئے سال کا عزم ہے کہ اس کام کو دلجمعی سے کروں۔
عائزہ ظہیر
اس سال نے مجھے نانی اور دادی جیسے انمول رشتوں سے محروم کردیا۔ میرا انمول، بے لوث رشتہ، میری دْعاؤں کا خزینہ، میری امی جی کو مجھ سے جدا کر گیا۔ جہاں یہ سال غم کا باعث رہا وہیں بہت سی خوشیاں بھی لایا۔ رائٹرز کلب سے منسلک ہوگئی الفاظ کو اظہار کا ذریعہ مل گیا۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ بہت عرصے بعد نصاب سے ہٹ کر اپنے دل کی مان کر کچھ کیا۔ جو چاہا وہ پالیا، میڈیکل میں ایڈمیشن ہو گیا۔ کچھ پچھتاوے ضرور ہیں جو یقیناً ہر ایک کے ساتھ ہوتے ہیں۔ نئے سال کے لیے یہ عزم ہے کہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں پر بھی توجہ دینی ہے۔
سیدہ حمیرا فاطمہ
نئے سال کی آمد، بظاہر گنتی میں اضافہ مگر ہماری زندگی سے وقت کی کمی۔ اپنے سب سے چھوٹے ماموں اچانک کھودیا، اﷲ پاک ان کی مغفرت فرمائے آمین۔ جانے والے سال نے ایک بات اچھی طرح ذہین نشین کرائی کہ آپ جتنا مرضی کسی بھی انسان کو خوش رکھنے کی کوشش کرلو اگر اس کے دل ودماغ میں آپ کے لیے نفرت یا اعتبار نہیں تو وہ آپ کی ہر بات کو غلط رنگ ہی دے گا۔
صدف نایاب
گزشتہ سال بہت کچھ سکھا گیا۔ مشکل وقت دے کر بہت کچھ سمجھا گیا۔ دنیا کو اپنی سوچ سے بہت مختلف پایا مگر الحمدﷲ بہت ساری خوشیاں پائیں۔ جن میں سے ایک رائٹرز کلب میں شمولیت بھی ہے۔ اﷲ کرے آنے والا سال ہمارے ملک پاکستان کے لیے بھی نوید سحر لے کر طلوع ہو۔ جو تلخیاں، مزاجوں کی تیزی اور گرمی اس سال جس جس صورت میں سہنی پڑیں اﷲ تعالی آنے والے نئے سال میں ہمارے دل بالکل صاف کر دے۔ دنیا بھر کے تمام مظلوم مسلمانوں کے لیے یہ سال باعث سکون اور راحت ثابت ہو۔آمین
عائشہ یاسین
زندگی وقت کے ساتھ آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے۔ آگے بڑھتے جانا ہے اور ماضی کے تجربات سے مستقبل کے کینوس کو بہتر رنگوں سے سجانا ہے۔ ماضی کی تلخیوں اور اور غلطیوں کو تراش خراش کرکے نئے عزم اور نئی امید کے ساتھ زندگی کے سفر میں آگے بڑھنا ہے۔
مولانا تنویر اعوان
عمر عزیز برف کی مانند پگھل رہی ہے۔ زندگی کے ماہ و سال کی گردش ناپائیداری سے پائیداری کی طرف سفر کا وسیلہ ہیں۔ گھڑیال کی ٹک ٹک کی طرح ہر آنے والا نیا دن، ہفتہ، مہینہ اور سال ہمیں بیدار کر رہا ہوتا ہے کہ ماضی کا محاسبہ کرتے ہوئے حال کے امر کو پہچان کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرکے متاع حیات کو قیمتی بنالو تاکہ جہاں تم انسانیت کے لیے آسانیاں اور راحتیں مہیا کرنے کا ذریعہ بنو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519142 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jan, 2019 Views: 324

Comments

آپ کی رائے