بڑا آدمی بننے کا گُر

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: امان اﷲ باجوڑی
اس دنیا میں اربوں لوگ رہتے ہیں ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑا آدمی بن جائے، بڑے بڑے کام کرے، اسی کا شوق رہتا ہے اور ا سی کی جستجو رہتی ہے لیکن ان سب کے باوجود وہ آدمی ایسا کر نہیں پاتا۔ خواہشیں ہزار صحیح لیکن ان کو عملی جامہ پہنانا اس کے لیے پارس کے پتھر کو چھونے کے مترادف ہوتا ہے۔

اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جس کام کا وہ سوچتا ہے وہ اس کے بس کا روگ نہیں ہوتا اور جو کچھ اس کے بس میں ہوتا ہے اور جس کا کرنا اس کے لیے آسان ہوتا ہے تووہاں وہ یہ کہہ کر پیچھے ہٹتا ہے کہ یہ تو بہت معمولی ہے، یہ تو میرے مناسب نہیں ہے اور یوں وہ زندگی کے اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوت اور صلاحیت کو اصلاح و خدمت میں صرف کریں اپنا نام روشن کریں تو آپ انہیں کاموں سے آغاز کریں جن کو معاشرے نے ہلکا کہہ کر ٹکرا دیا ہے اور ان کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

آپ آغاز کریں اگر آپ کوئی نام آور ادارہ نہیں بنا سکتے تو کیا ہوا، آپ ایک بچے کا تعلیمی خرچ تو اٹھا سکتے ہیں، آپ ہسپتال نہیں بنا سکتے تو کیا ہوا آپ ہسپتالوں میں پڑے لاکھوں غریب بیماروں میں سے چند کا یا صرف ایک کا ہی دوائی وغیرہ کا خرچہ تو اپنے ذمہ لے سکتے ہیں، یہ بھی نہیں کرسکتے تو کسی ایک بیمار کے لیے پھل فرو ٹ لاکر اس کی دل جوئی تو کرسکتے ہیں۔

آپ روزہ داروں کو روزہ افطار کرانا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کی وسعت سے باہر ہوتا ہے تو پریشانی کی بات نہیں ایک ایک کھجور سے افطار کرانا کونسا مشکل کام ہے، آپ مسلمانوں کی حالت ِ زار سے پریشان ہیں آپ سب مسلمانوں کی کشتی کو حالات کی موجوں سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کی قدرت سے باہر ہوتا ہے، تو خیر کوئی بات نہیں آپ کسی ضعیف آدمی کا ہاتھ پکڑ کراسے روڈ تو پار کراسکتے ہیں، آپ ایک بڑی مسجد نہیں بنا سکتے لیکن ایک اینٹ کے بقدرتعاون تو کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو ایک مسکراہٹ ہی کا تحفہ دے دیں۔

بظاہر چھوٹے اور معمولی نظر آنے والے ان اعمال سے آپ کو بے حد خوشی محسوس ہوگی، لوگوں میں آپ کا چرچا ہوگا، اصلاحی کاموں کے لیے راستے کھلتے جائیں گے، لوگ آپ سے محبت کرنے لگیں گے، کیوں کہ ایک غریب کسان کو سلام کرکے آپ نے اس کا دل جیت لیا، آپ نے دوست کی عیادت کی اس کے حال احوال اور دوائی کا پوچھا تو دوست آپ کی دوستی پر فخر کرنے لگ گیا، عید کے موقع پر آپ نے ایک غبارہ خرید کر کسی لوہار کے بچے کو دیا، بے التفاتی کے عالم میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دی، بس والے کو دس روپے کرایہ دینے میں دوست سے چھیڑ کی اور آپ کو کسی سے کوئی تکلیف پہنچی تو آپ نے کہا، ’’خیر ہے بھائی کوئی بات نہیں‘‘۔ تو یقینا آپ نے چھوٹے نہیں بلکہ بڑے کام کیے۔

جب آپ یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کمائیں گے تو پھر بڑے کام کرنے کے دروازے کھلتے جائیں گے، کیوں کہ آپ فی الحال زمینی منزل پر ہیں، آپ ان چھوٹے چھوٹے اعمال کے زینوں کے ذریعے پہلی دوسری اور تیسری منزل پر چھڑ جاتے ہیں، جہاں آپ کا ظرف، حس اور جذبہ پروان چڑھتا ہے اور بہت کچھ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

آپ فی الحال رن وے پر ہیں جس سے رگڑ کھا ئے بغیر فضاوں میں سفر نہیں ہوتا لیکن جب آپ ان معمولی نظر آنے والے اعمال کے رن وے کی رگڑ کھا کر اٹھتے ہیں تو فضاء کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہوتا ہے اور آپ کی بڑی اور لمبی پرواز تب تک جاری رہتی ہے جب تک آپ کے پاس چھوٹے اعمال کا ایندھن موجود ہوگا۔

لہذا آپ کبھی یہ مت سوچیں کہ ’’میں بڑا آدمی کیوں نہیں ہوں؟ میں بڑے لوگوں کی طرح بڑے کام کیوں نہیں کر پاتا‘‘؟ بلکہ آپ ان لوگون کی زندگیوں کو مد نظر رکھیں جس نے آپ کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کیا ہے، یقینا یہ لوگ بھی اچانک تحت الثری سے فوق الثری پر نہیں پہنچے بلکہ ان لوگوں نے بھی تختی لکھنے سے شروع کیا، پھر قلم پکڑنا سیکھا اور پھر سیکھتے سیکھتے اس مقام پر آگئے جہاں آپ یک دم پہنچنا چاہتے ہیں، آپ اپنی چادر کے بقدر پاوں پھلائیں، اچھے کام کو چھوٹا سمجھ کر مت چھوڑیں اور بڑے کاموں کا سوچ سوچ کر مت بیٹھیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 501878 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jan, 2019 Views: 735

Comments

آپ کی رائے
Nice
By: Gada Hussain Laghari, Karachi on Jan, 14 2019
Reply Reply
0 Like