شادیوں کے ضروری ،غیرضروری اخراجات

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

شادی آسان کروتحریک چلانے کاسب سے بڑامقصدیہی ہے کہ شادی بیاہ کے موقعوں پردولہااوردلہن دونوں طرف سے اخراجات کوکم سے کم کیا جائے ۔ غیرضروری اخراجات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ لوگوں کویہ آگاہی دی جائے کہ بہت سے ایسے اخراجات جنہیں وہ انتہائی ضروری سمجھتے ہیں وہ انتہائی غیرضروری ہیں۔ جن اخراجات کے بارے میں لوگ اکثریہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیرشادی نہیں ہوسکتی وہ اخراجات نہ بھی کیے جائیں توشادی ہوسکتی ہے۔ بیٹے یابیٹی کی شادی کرتے وقت اکثرلوگ اس خوف میں مبتلاہوجاتے ہیں کہ یہ نہ کیاتولوگ کیاکہیں گے وہ نہ کیاتولوگوں کوکیامنہ دکھائیں گے۔یہ نہ کیاتومعاشرے میں ہماری ساکھ خراب ہوجائے گی۔ وہ نہ کیاتولوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔ ہمیں لوگوں کاخوف اورلوگوں کی فکرہی کیوں لگی رہتی ہے۔ کبھی ہم نے یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ یہ جوکچھ ہم کرنے جارہے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی بھی شامل ہے یانہیں۔ کبھی ہم اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے کہ ہم جوکچھ کررہے ہیں اس سے اللہ اوراس کاپیارامحبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش ہوں گے یاناراض۔ ہمیں اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کاتوکوئی احساس نہیں ہوتا مگرلوگوں کاخوف ہے کہ ہماری جان ہی نہیں چھوڑتا۔ لوگ کیاکہیں گے، ہماری کیاساکھ رہ جائے گی، کہیں ہماری ناک ہی نہ کٹ جائے، ہماری کیاعزت رہ جائے گی، ہم کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اسی طرح کے ایسے کئی ہزاروں خوف ہوتے ہیں جوہمیں شادیوں پرزیادہ سے زیادہ اخراجات کرنے پرمجبورکرتے ہیں۔ اس کے لیے چاہے ہمیں زمین ،مکان یامال مویشی فروخت کرنے پڑیں ، چاہیں بھاری بھرکم سودپرقرض ہی کیوں نہ لیناپڑے۔لوگوں کے خوف کی وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ شادی کے اخراجات میں سے کوئی ضروری غیرضروری اخراجات رہ نہ جائیں۔ ہم اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ چاہے گھرمیں ایک تنکابھی نہ رہے برادری میں بس ہماری عزت ہی رہ جائے۔یہ جوہم شادیوں پرطرح طرح کے اخراجات کرتے ہیں کیایہ ضروری بھی ہیںیانہیں۔ کیاشادیاں اخراجات کے بغیربھی ہوسکتی ہیںیانہیں ۔اس تحریر میں قارئین کویہی بات سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ شادی کے اخراجات میں سب سے زیادہ ضروری حق مہرکی ادائیگی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مبارک عورت وہ ہے جس سے منگنی کرناآسان ہو، جس کا(حق) مہردیناآسان ہواورجس کے ساتھ حسن سلوک کرناآسان ہو۔حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سنو!عورتوں کا(حق) مہرزیادہ نہ رکھو۔اگرزیادہ (حق ) مہررکھنادنیامیں کسی عزت کے لائق یاخداکے نزدیک تقویٰ کے قابل ہوتاتورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اس کے حق دارہوتے ۔میں نہیں جانتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپناکسی عورت سے نکاح کیاہویااپنی کسی بیٹی کا نکاح کرایاہواوربارہ اوقیہ سے زیادہ مہرمقررفرمایاہو۔شادی کرتے وقت سب سے زیادہ اہم اورسب سے زیادہ ضروری خرچہ حق مہرکی ادائیگی ہے۔ اس میں بھی زیادہ اخراجات کوپسندنہیں کیاگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کومبارک فرمایا جس کاحق مہردیناآسان ہو۔وہی حق مہردیناہی آسان ہوتا ہے جوکم مقررکیاگیاہو۔جب زیادہ حق مہرکی ادائیگی کوہی پسندنہیں کیاگیا توہم یہ جورسموں اورعزت بچانے کے نام پرطرح طرح کی فضول خرچیاں کرتے ہیں ان فضول خرچیوں پراللہ تعالیٰ اراس کارسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوں گے یاناراض ۔ ہمیں یہ اچھی طرح سوچ لیناچاہیے۔ ہم یہ جوشادیوں پراخراجات کرتے ہیں ان کے بغیرشادیاں ہوسکتی ہیںیانہیں یہ سمجھانے کے لیے ہم ایک شادی کااحوال لکھ رہے ہیں ۔ایک عورت نے بارگاہ نبوت میں حاضرہوکرعرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے نفس کااختیارحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودینے( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نکاح(شادی) کرنے) آئی ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظرمبارک اٹھاکراسے دیکھا اورسرمبارک جھکالیا۔عورت دیرتک کھڑی رہی۔ تب ایک صحابی نے کھڑے ہوکرعرض کیایارسول اللہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواس کی ضرورت نہیں ہے تومیرانکاح اس سے کرادیجئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرے پاس (حق ) مہرکے طو ر پر کوئی چیزبھی ہے؟ اس نے عرض کیامیرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔بس یہی ایک تہمدہے۔اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گھرجاکردیکھ شایدلوہے کی کوئی انگوٹھی ہی مل جائے۔نبی کریم کے حکم پرعمل کرتے ہوئے وہ شخص اپنے گھرگیا مگراس کولوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا تجھ کوقرآن بھی آتاہے ۔اس نے تفصیل سے بتایا کہ فلاں فلاں سورتیںآتی ہیں فرمایا،اچھاتوجامیں نے تیرانکاح اس سے کردیا ہے کہ تواس کو جتنا قرآن تجھے یادہے اس کی تعلیم دے۔آیئے ایک اورشادی کااحوال بھی پڑھ لیں ۔حضرت عبداللہ بن ابووداعہ فرماتے ہیں کہ میں سعیدبن مسیّب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہاکرتاتھا ۔اتفاق سے کچھ روزحاضرخدمت نہ ہوسکا۔آپ نے میری غیرحاضری کے بارے میں لوگوں سے سوال کیا۔جب میں حاضرہواتوآپ نے پوچھاتم کہاں تھے ۔میں نے عرض کیامیری اہلیہ کاانتقال ہوگیاتھا اس کی تجہیزوتکفین میں لگاہواتھا ۔آپ نے فرمایاتم نے مجھے کیوں نہیں بتایامیں بھی شریک ہوجاتا ،راوی کہتے ہیں کہ پھرمیں نے اٹھناچاہا ۔آپ نے فرمایا پھرتم نے کوئی اورلڑکی دیکھی ؟ میں نے عرض کیا اللہ آپ کابھلاکرے ۔بھلامجھ سے کون نکاح کرائے گا۔میرے پاس شایددویاتین درہم ہوں گے ۔آپ نے فرمایامیں اپنی بیٹی سے تمہارانکاح کراتاہوں ۔میں نے کہا آپ نکاح کرائیں گے۔ چنانچہ اسی وقت آپ نے خطبہ پڑھا۔خداکی حمدوثناء بیان فرمائی درودشریف پڑھا اوردویاتین درہم پرمیرانکاح کرادیا۔میں آپ کی مجلس سے اٹھاتومارے خوشی کے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ میں کیاکروں۔ پھرمیں نے گھرکی راہ لی اورراستہ میں سوچنے لگا کہ کس سے کچھ قرض لوں کس سے کوئی رقم ادھارلوں ۔پھرمیں نے مغرب کی نمازاداکی اوراپنے گھرلوٹا۔ گھرپہنچ کرمیں نے چراغ جلایا ۔میراروزہ تھا اس لیے افطارکے لیے کھاناسامنے رکھا میراکھاناکیاتھا روٹی اورزیتون کاتیل تھا ۔ اچانک مجھے محسوس ہواکہ کوئی دروازہ کھٹکھٹارہاہے۔میں نے کہا کون ہے؟ آوازآئی میں سعیدہوں راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعیدنامی ایک ایک آدمی کا تصور کیا کہ یہ کون سعیدہوسکتاہے لیکن سعیدبن مسیّب کی طرف میراذہن بھی نہیں گیا۔ کیونکہ چالیس سال کاعرصہ ان پرایساگزراکہ وہ گھرسے مسجدکے علاوہ کہیں نہیں نکلے نہ کہیں گئے۔میں لپک کردروازہ پرپہنچادیکھاتوحضرت سعیدبن مسیّب تشریف فرماہیں ۔مجھے وہم ہواکہ شایدآپ کاارادہ بدل گیا ہے ۔میں نے عرض کیااگرآپ اطلاع کردیتے تومیں خودآجاتا ۔آپ نے فرمایانہیں تم اس کے زیادہ مستحق تھے کہ تمہارے پاس آیاجائے۔میں نے عرض کیافرمائیے کیاحکم ہے۔ فرمایا تم غیر شادی شدہ تھے اب تمہاری شادی ہوگئی ہے اس لیے مجھے اچھامعلوم نہیں ہواکہ تم رات تنہاگزارو۔یہ تمہاری بیوی حاضرہے ۔میں نے دیکھا کہ آپ کی صاحبزادی یعنی میری اہلیہ آپ کے ٹھیک پیچھے کھڑی ہیں۔ آپ نے صاحب زادی کودروازے سے اندرداخل کیااورخود واپس تشریف لے گئے۔مندرجہ بالاحدیث مبارکہ اوردونوں شادیوں کے احوال کتاب تحفۃ العروس میں لکھے ہوئے ہیں۔ ان شادیوں کے احوال سے ہمیں سمجھ جاناچاہیے کہ شادیوں کے اخراجات کی کیاحیثیت ہے۔ ایک بات لکھناضروری ہے کہ اب نہ تودویاتین درہم حق مہردیاجاسکتا ہے اورنہ ہی قرآن کی تعلیم دیناحق مہرمقررہوسکتاہے۔ شادی کے سب سے زیادہ ضروری اخراجات میں حق مہرکوفوقیت حاصل ہے۔ حق مہرکی ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔ پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ زیادہ حق مہرکوبھی پسندنہیں کیاگیا ۔ حق مہرکے حوالے سے ایک اوربات بھی یہ سمجھانے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ شادیوں کے زیادہ اخراجات کوکتناناپسندکیاگیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کے دورمیں تجارت یالین دین درہم اوردینارمیں ہواکرتاتھا۔ اس وقت یہی کرنسی رائج تھی۔ شادیوں کاحق مہردرہم میں مقررکیاگیا ہے دینارمیں نہیں۔ کم سے کم اخراجات کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سمجھناہوگا کہ درہم اوردینارمیں کیافرق ہے۔ درہم چاندی کاسکہ ہوتا تھا اوردینارسونے کا۔ سونا مہنگی دھات ہے اورچاندی سستی۔ حق مہردرہم میں مقررکیا گیا ہے کہ چاندی سستی ہے دینارمیں مقررنہیں کیاگیا کہ سونامہنگا ہے۔ چاندی کے مطابق حق مہرہرکوئی ادا کر سکتا ہے سونے کے مطابق حق مہرہرکوئی ادانہیں کرسکتا۔ کم سے کم حق مہردس درہم ہے اس سے کم حق مہرنہیں دیاجاسکتا۔ دس درہم دوتولہ سات ماشہ اورتین رتی چاندی کے برابرہے۔ حق مہرمیں اتنی چاندی دے دی جائے یااس کی رائج والوقت قیمت اداکردی جائے۔ اگرشادیوں میں زیادہ اخراجات پسندیدہ ہوتے توحق مہردینارمیں مقررکیاجاتا مگرایسانہیں ہوا۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھ جاناچاہیے اورمان لیناچاہیے کہ شادیوں پرزیادہ اخراجات نہیں کرنے چاہییں۔شادی کے ضروری اخراجات میں حق مہراوردعوت ولیمہ ہیں۔حق مہرکے بارے میں آپ پڑھ آئے ہیں اوردعوت ولیمہ کے بارے میں بھی زیادہ اخراجات ضروری نہیں ہیں۔ حق مہر ، دعوت ولیمہ اور نکاح کے چھوہاروں کے علاوہ شادی کے لیے ہم جوبھی اخراجات کرتے ہیں وہ فضول خرچی میں آتے ہیں۔ علماء کرام کہتے ہیں کہ وضوکرتے وقت اگرآدھاچلوپانی ضرورت ہوتوپوراچلوپانی فضول خرچی ہے۔ قرآن پاک میں فضول خرچ کوشیطان کابھائی قراردیاگیا ہے۔ اب خود سمجھ جائیں کہ فضول خرچی سے ہماری کیاحیثیت رہ جاتی ہے۔ فضول خرچ شیطان کابھائی ہے اورہم شادیوں پرکتنی فضول خرچیاں کرتے ہیں ۔ہم نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ یہ فضول خرچیاں نہ صرف شادیوں والے کرتے ہیں بلکہ شادیوں میں آنے والے مہمان بھی کرتے ہیں۔ شادیوں میں سب سے زیادہ فضول خرچی جہیزکی صورت میں ہوتی ہے۔ چاہے اس کامطالبہ دولہاوالوں کی طرف سے کیاجائے یانہ کیاجائے۔ لاکھوں روپے اس جہیزمیں فضول خرچ کردیے جاتے ہیں جس کی شادی میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مہندی ، مایوں، میل، ڈانس، مجرے، رقص ،آتش بازی ، نہ جانے کتنی غیرضروری بلکہ اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کاسبب بننے والی رسموں پراتنی فضول خرچی کرتے ہیں کہ اس کاکوئی حساب ہی نہیں ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ کئی برادریوں میں دولہایادلہن والے دوسرے فریق کے تمام گھروالوں کے کپڑے تک سلواکے دیتے ہیں۔ شادیوں میںآنے والے بھی نیالباس پہننا ضروری سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اگرایک ہفتہ پہلے ایک لباس کسی شادی میں پہن لیاہوتوایک ہفتہ بعدکسی اورشادی میں اسی لباس کوپہننااپنی توہین سمجھاجاتاہے۔ لباس صاف نیانہ بھی ہو اورصاف ستھراہوتو شادیوں پرپہناجاسکتاہے۔شادیوں کے لیے لباس مخصوص بھی کیاجاسکتاہے کہ اس لباس کوعام حالات میں نہیں صرف شادیوں کے موقع پرہی پہناجائے۔شادیوں پرایک دوسرے سے بڑھ کرخرچ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شادی آسان کروتحریک کاپیغام ہے کہ شادیاں کم سے کم اورضروری اخراجات میں کی جائیں۔ شادیوں کے اخراجات اس طرح کیے جائیں کہ اس کے لیے قرض بھی نہ لیناپڑے اورکسی کادل بھی نہ ٹوٹے۔ شادی آسان کروتحریک کامشن ہے کہ روزانہ تین سوروپے کمانے والے کوبھی بیٹے یابیٹی کی شادی کرنے کے لیے قرض نہ لیناپڑے۔جن کے پاس سرمایہ ہے وہ شادیوں پرکم سے کم اخراجات کریں اس سے ان لوگوں کی مشکلات میں آسانی ہوجائے گی جن کے پاس سرمایہ نہیں ہے۔ شادیوں پرفضول خرچیوں کوختم کرنے کے لیے امیروں کوآگے آناچاہیے۔ سعودی عالم شیخ عبداللہ المنیع نے شادیوں کے ہوشربااخراجات کودنیاکی بربادی کااصل سبب قراردے دیاہے۔ شادیوں کے اخراجات کے حوالے اسلامی تعلیمات میں دلہن والوں پرکوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ حق مہر، دعوت ولیمہ سمیت شادیوں کے تمام ضروری اخراجات کی ذمہ داری دولہاوالوں پرعائدہوتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 335 Articles with 150088 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2019 Views: 459

Comments

آپ کی رائے