میں دہشتگرد نہیں ہوں

(Shahid Mehmood, bhara kahu islamabad)
سابقہ حکمران جیسے بھی تھے وہ ماضی کا حصہ بن گئے لیکن موجودہ حکومت کو بھی پانچ ماہ سے زائد عرصہ بیت گیا ہے ۔ کیا کسی نے پنجاب پولیس میں اصلاحات کی کوششیں بھی شروع کیں؟ کیا پولیس کے محکمے کو سدھارنے کے لیے کوئی ایک قدم بھی اٹھایا؟ مانا کہ اس مختصر عرصے میں اصلاحات نہیں لائی جا سکتیں تھیں لیکن کیا اس کا آغاز بھی نہیں کیا جاسکتا تھا؟

گزشتہ دنوں ساہیوال میں پیش آنے والے واقعے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا،عوام کا پولیس پر جتنا اعتبار پہلے تھا وہ تو سب کو اچھی طرح پتا ہے ،لیکن اس واقعے کے بعد لوگ مزید سہم گئے ، ہر شہری کو اپنی جان و مال کی فکر پڑھ گئی ہے، بچے اپنے والدین کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں تو والدین بھی بچوں کے مستقبل سے خوفزدہ ہو گئے۔ لوگ پولیس چیک پوسٹوں کے پاس سے گزرتے ہوئے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، کچھ لوگ تو ڈر کے مارے ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں پولیس چیک پوسٹیں کم سے کم آئیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ تازہ واقعہ ہے پچھلے واقعات کو ہم بھول گئے تھے لیکن جوں ہی دوبارہ کسی کا گھر اجڑتا ہے تو پرانے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور دماغ میں گزشتہ واقعات کی ایک فلم چلنا شروع ہو جاتی ہے اور اس فلم کا اختتام کوئی نہیں ہوتا کیونکہ فلم کے آخری سین میں ’’جاری ہے‘‘ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

اس سارے واقعے کی ذمہ داری صرف پولیس پر نہیں ڈالی جا سکتی اس میں سابقہ حکمران جماعتیں ،موجودہ حکمران اور ناقص عدالتی نظام برابر کے ذمہ دار ہیں ۔ پولیس کے جوان ہم جیسے انسان ہی ہیں ان کے سینے میں بھی دل دھڑک رہے ہیں ان کے بھی بیوی بچے ہیں، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ان میں اتنی درندگی کہاں سے آگئی ؟ محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت نے اس محکمے کو شتر بے مہار بنا دیا ہے ، پولیس اہلکار اپنے افسران کے حکم پر ایسی کاروائیاں کرتے ہیں، اور افسر ان بغیر کسی اخلاقی ٹریننگ اور بغیر کسی محنت کے سفارش سے بھرتی ہوتے ہیں تو ان کو عوام کے جان ومال کی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اس نیت سے محکمے میں بھرتی ہوتے ہیں،بلکہ ان کا دو ہی مقاصد ہوتے ہیں ’’مال بناؤ‘‘ اور ’’اپنے افسران اور سیاسی لیڈر‘‘ کو خوش رکھو۔

چند سال پہلے ہم نے وہ واقعہ بھی دیکھا تھا جب کراچی کی ایک شاہراہ پر چار،پانچ رینجرز اہلکار ایک نہتے نوجوان کو پاس کھڑے ہو کر گولیاں مارتے رہے نوجوان معافی مانگتا رہا دم توڑنے کے بعدبھی اہلکاروں نے کئی گولیاں اس کے جسم میں اتار دیں ۔ ہمیں تو وہ واقعہ بھی اچھی طرح یاد ہے جب خروٹ آباد میں دو مردوں اور تین خواتین جن میں سے ایک حاملہ تھی ان کو ایف سی کے جوانوں نے بے دردی سے موت کا گھاٹ اتار دیا ، پولیس کے مطابق پانچوں شہری غیر ملکی تھے اور ان کے پاس ہینڈ گرنیڈ تھے لیکن عینی شاہدین کے مطابق سب شہری نہتے تھے اور ایک عورت ہاتھ اٹھا کر اپنی بے گناہی کا رونا روتی رہی لیکن سیکیورٹی فورسز نے بغیر کسی تصدیق کے ان پر درجنوں گولیاں چلائیں ، عینی شاہدین نہ بھی بتائیں تو کیا ہم لوگوں کے دماغ اتنے کمزور ہیں جو یہ نہیں سوچ سکتے کہ انہوں نے ہینڈ گرنیڈ نمائش کے لیے ساتھ لائے تھے ؟ وہ ان کو استعمال کیوں نہیں کر سکے؟

میرے ذہن میں تو ابھی تک ماڈل ٹاؤن والا واقعہ بھی اسی طرح تازہ ہے جب پولیس نے مسئلے کے پر امن حل کے بجائے خواتین اور مردوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں، راؤ انوار والا واقعہ بھی بھلا کوئی بھلا سکتا ہے یہ تو جیسے ابھی کل کی بات ہے جب ایک پولیس افسر نے دو معصوم کلیوں کے باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جو مزدوری کی غرض سے روشنیوں کے شہر کراچی آیا تھا اس کی بچیوں کو کیا معلوم تھا کہ ہمارا باپ وہاں سے ہماری زندگی میں روشنیاں تو نہیں لا سکے گا اندھیرا ضرور لائے گا۔

یہ وہ واقعات ہیں جو دن دیہاڑے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیے ہیں ورنہ ان گنت واقعات ہمارے علم میں ہی نہیں آتے اور کئی خاندانوں کے سہارے ان کے والدین سے چھین لیے جاتے ہیں کتنی عورتوں کو بیوہ کر دیا جاتا ہے ۔ لیکن مذکورہ بالا واقعات میں کون سے مقتول دہشتگرد ثابت ہو سکے؟ اور قاتلوں کو آج تک کیا سزا ملی؟ سابقہ حکمران جیسے بھی تھے وہ ماضی کا حصہ بن گئے لیکن موجودہ حکومت کو بھی پانچ ماہ سے زائد عرصہ بیت گیا ہے ۔ کیا کسی نے پنجاب پولیس میں اصلاحات کی کوششیں بھی شروع کیں؟ کیا پولیس کے محکمے کو سدھارنے کے لیے کوئی ایک قدم بھی اٹھایا؟ مانا کہ اس مختصر عرصے میں اصلاحات نہیں لائی جا سکتیں تھیں لیکن کیا اس کا آغاز بھی نہیں کیا جاسکتا تھا؟آجب تک محکمہ پولیس میں اصلاحات نہیں ہوتیں آپ بھی اور ہم سب بھی اپنی گاڑی کے پچھلے شیشے پر یہ سٹیکر چسپاں کرنے پر مجبور ہیں کہ ’’میرے ساتھ گاڑی میں فیملی ہے اگر آپ چاہیں تو ہماری گاڑی کی تلاشی لے سکتے ہیں کیوں کہ میں دہشتگرد نہیں ہوں‘‘-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
About the Author: Shahid Mehmood

Read More Articles by Shahid Mehmood: 22 Articles with 7576 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: