بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت

(Naik Bano, Rawalpindi/Gilgit)
بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت
مختلف ماہر نفسیات کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت اس لئے ضروری ہے کیونکہ یہ ان کی ترقیاتی سالوں کے دوران ٹھوس تعلیمی بنیاد قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد بچوں کی سیکھنے کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے اس لئے اس دوران جو معلومات اور رویے بچوں میں منتقل کی جاتی ہے وہ ان کی آنے والی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

خدا وند کریم کا ارشاد ہے کہ مال اور اولاد زندگی کی زینت ہیں(الکہف)
جب بھی ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں ہمیں بہت سے ایسے بچے ملتے ہیں جوبھکاری ہیں، فسادی ہیں، چور ہیں اور یہاں تک کہ معصوم بچے قاتل بھی بن چکے ہیں۔جہاں تک میری نا قص سوچ ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ سب ماں کی تربیت کا نتیجہ ہے جو ابتدائی عمر سے بچوں کو دی گئی ہے۔گھر میں والدین اپنے بچوں کی بنیادی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ میں یہ کہونگی کہ والدین کے علاوہ دیگر، خاندان کے افراد بھی بچوں کی اخلاقی اقدار میں اور صلاحیتیں نکھارنے میں اہم کردار ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
رسول کریمؐ کا فرمان ہے کہ ہر بچہ پیدائشی معصوم ہوتا ہے پھر اس کے والدین اس کو یہودی ،نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بچے پیدایشی طور پر پاکیزہ اور نازک ہوتے ہیں اگر ان کی تربیت میں کوتاہی نہ کی جائے تو وہ خیر کی راہ پر چل پڑتے ہیں اور زندگی میں کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے ماں کی آغوش بچے کی پہلی درسگاہ ہے اس لئے کہا گیاہے کہ وہ اگر اچھی طرح اپنے بچوں کی تربیت کریں تو سو اساتذہ پر فوقیت لے جاتی ہیں۔
کسی بھی ملک اور قوم کا مستقبل ا اُس ملک کے بچوں پر منحصر ہوتا ہے بچوں کو نظر انداز کر کے کوئی بھی قوم کامیابی حاصل نہیں کر سکتی ملک کی تعمیر و ترقی میں بچوں کا اہم کردار ہوتا ہے آج کے بچے کل ملک کے لئے خیر خواہ لیڈر بن کے ابھر سکتے ہیں۔
بچے والدین کے پاس ملک وقوم کی اما نت ہیں اوریقیناً روز آخرت بھی ان کے حوالے سے پوچھا جائے گا کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے کہ اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ
اس آیت پر اگر غور کیا جائے تو ماں اپنی جگہ ذمہ دار ہے اور والد اپنی جگہ ذمہ دار ہے۔
حضور اکرأ کا ارشاد ہے کہ : یعنی باپ کا اپنی اولاد کے لئے اچھے ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں:
بچوں کی تعلیم و تربیت ایک فن ہے اور ضروری ہے کہ والدین اس فن میں مہارت حاصل کریں کیونکہ آپ کی تربیت بچے کو اخلاق کے اعلی درجے پر پہنچا سکتی ہے اور ساتھ خود اعتمادی کے اعلی پیکر بن کر ابھر سکتے ہیں اور برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں
بچوں کی اخلاقی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ والدبچوں کے سامنے ایک مثالی کردار بنے بچوں کے لئے وقت نکالے بار بار نصیحت سے احتراز کریں کیونکہ بچے اس سے ضدی اور اکڑ جاتے ہیں
ابتدائی عمر سے ہی والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اندر موجود صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اور پروان چڑھانے میں ان کی مدد کریں بچوں کی صلاحیتوں سے زیادہ ان پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہےئے اس سے بچوں کے اندر جو فطری صلاحیتیں ہیں وہ نقصان کا شکار ہوجاتے ہیں۔
بچوں کی تربیت پر اثر انداز ہونے والے جو دوسرے عوامل ہیں ان میں ان کے اساتذہ ،اسکول اورمعاشرہ قابل ذکر ہیں اس لئے سب ان کی تربیت کے ذمہ دار ہیں بچوں میں تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے جو ہمارے مذہب نے سکھایا ہے ان اصولوں کو تربیت کا حصہ بنا دیا جائے، روز مرہ زندگی میں اسے عام کیا جائے مثلاً مجلس کے اداب وغیرہ مذہب کے اخلاقی اصولوں کے ساتھ انہیں مذہبی تعلیم سے روشناس کروانا بھی ضروری ہے
والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اخلاقی، معاشرتی،ذہنی، جذباتی اور جنسی تربیت کو احسن طریقے سے انجام دیں۔
مشتاق یوسفی
ٹی وی خراب ہوجائے تو کہتے ہیں بچوں نے خراب کردیا
اگر بچے خراب ہو جائیں تو کہتے ہیں ٹی وی نے خراب کر دئیے
والدین اپنے بچوں کے لئے پہلے معلم کی حیثیت رکھتے ہیں ابتدائی عمر کی اخلاقی تربیت ا ایک نوجوان شخص کی زندگی میں اہم ترقی کی مدت ہے یہ عمر کسی بھی شخص کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔
بچوں کی( ہو لسٹک ڈیلوپمنٹ ) ہمہ گیر نشوونما کا طریقہ 1960 اور1970 کے دہائی میں ہوا اور ان میں جو سب سے اہم اور معتبر جو طریقہ سمجھا جاتا ہے وہ ماریہ مونٹیسوری کا طریقہ اور تربیت ہے۔ وہ کہتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کے عمل میں ان کی حوصلہ افزائی کر نا ضروری ہے ۔ساتھ بچوں کو قدرتی ماحول سے بھی رابطے میں رہنے کی ترغیب بھی دینی چا ہئے۔اور ساتھ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں کی اخلاقی۔مذہبی۔،معاشرتی۔اور زہنی نشوونما ضروری ہے کیونکہ یہیں سے بچے کی شخصیت بن جاتی ہے۔
ابتدائی بچپن کی عمر نہایت اہم عمر ہوتی ہے بچے کا جو دماغ ہوتا ہے وہ ۸ سال کی عمر میں %۸۰ بن چکا ہوتاہے۔ باقی زندگی میں صرف % ۲۰ کی نشوونما ہوتی رہتی ہے۔اس وجہ سے یہ عمر بہت اہم ہوتی ہے بچے کی جو جذباتی نشوو نما ہوتی ہے وہ ۳ سے ۶ ماہ کی عمر میں زیادہ ہوتی ہے اس عمر میں بچے کی طرف توجہ نہ دینا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے
بچے ۲ سال کی عمر سے سیکھنا شروع کرتے ہیں مثلاً دوسروں کی چہرے کی تاثرات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ،ارد گرد کا مشاہدہ کرکے سیکھتے ہیں اسی سال میں وہ مختلف الفاظ سیکھتے ہیں،اسلئے بچوں کی اس عمر کو ضائع نہیں کرنا چاہےئے کیونکہ بچوں کی جذباتی نشوونما دوسروں سے سیکھ کر ہوتی ہے۔
ان کی اخلاقی نشوونما ہوتی ہے، ،ذہنی نشوونما ہوتی ہے، زبان سیکھتے ہیں ان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بچوں کی شخصیت کے چھ ،سات پہلو ہیں ان میں بچوں کی جسمانی نشوونما ہے،،سماجی اور اخلاقی نشوونما ہے ،ذہنی نشوونما ہے صحت اور حفظان صحت کے حوالے سے ان کو شعور ملتا ہے زباندانی کے حوالے سے مہارتیں سیکھتے ہیں ریاضی کے حوالے سے بنیادی تصورات سیکھتے ہیں ارد گرد کے ماحول کے حوالے سے سیکھتے ہیں اور اسی طرح وہ تخلیقی آرٹ کے حوالے سے سیکھتے ہیں
ابتدائی عمر میں سیکھنے کا عمل زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے اور بچے کی شخصیت ابتدائی تین سالوں میں بن جاتی ہے بعد میں اس کی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے چائلڈ سا ئیکالوجسٹ یہ کہتے ہیں کہ ابتدائی عمر میں ہی بچے کی شخصیت بن جاتی ہے اس حوالے سے والدین کو دیکھنا ہوگا کہ اس اہمیت کے پیش نظر کیا کرنا چاہےئے؟
وہ بچے جو ابتدائی عمر میں سیکھ جاتے ہیں وہ جب پرائمری سکول میں جاتے ہے ان بچوں سے کارکردگی کئی گناّ بہتر ہو تی ہے جو ابتدائی عمر کی تعلیم اور تربیت حاصل نہیں کرتے
وہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
تحقیق یہ بتاتی ہیں کہ وہ بچے جو ابتدائی تعلیم وتربیت حاصل کر چکے ہیں وہ زندگی کے معاشی،معاشرتی ،سماجی ہر فیلڈ میں حاوی ہوتے ہیں اس حوالے سے والدین کو یہ دیکھنا ہے کہ اس اہمیت کے پیش نظر ان کی شخصیت کی نشو و نما کے لئے والدین کو کیا کرنا چاہئیے۔
والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسی سرگرمیاں ترتیب دینا چاہےئے کہ جس سے بچے کی ہمہ گیر نشو ونما ہو سکے۔
جسمانی لحاظ سے ان کی نشوونما کے لئے گھر میں ان کے گراس موٹر سکلز بڑے اعضاء(بازو،ہاتھ،پیر) جو نشوونما پا رہے ہوتے ہیں ان کے لئے مختلف کھیل کود، بھاگ دوڑ کا انتظام کرنا چاہئیے تا کہ ان کے اعضاء کی نشوونما ہو۔ان میں توازن آجائے۔
فائن موٹر سکلز جو ان کے باریک چھوٹے اعضاء ہیں ان کی نشو ونما کے لئے مختلف سرگرمیاں کرنی چاہےئے مثلاً چھوٹے بچوں کو فائن موٹر سکلز کی ڈیلوپمنٹ کے لئے مختلف شکلیں مثلاً کاغذ پہ ان کو مثلث ،مستطیل،مربع اس قسم کی شکلیں بنا کر قینچی سے کر ان سے کہنا کہ ان کو کاٹیں ،رنگ بھریں،سوئی میں دھاگا ڈالیں،گلاس اٹھانا،ٹرے،پکڑنا ،دستر خان بچھاناوغیرہ
اب ان کی ذہنی نشوونما کے حوالے سے جو بہت اہم پہلو ہے وہ بتانا چاہونگی ،بچے کی ذہنی نشوونما سے مراد اس کی اخلاقی،سماجی،جذباتی اور معاشرتی نشوونما بہت اہم ہے اس حوالے سے والدین بہت کوتاہی کرتے ہیں بچوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔والدین بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو ان کو نہیں کرنا چاہےئے گالی گلوچ کرتے ہیں ،برے ناموں سے پکارتے ہیں یہ ساری چیزیں بچوں پہ منفی اثرات ڈالتی ہیں ۔ماحول ایسا صحت مندانہ ہونا چاہےئے کہ لڑائی جھگڑا ،گالی گلوچ سے بچوں کو بچانا چاہےئے یہ بڑوں کو جاننے کی ضرورت ہے وہ بچے اس وجہ سے غصیلے ہوتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کی طرف جاتے ہیں ۔
اس لئے ضروری ہے کہ بچے کی اخلاقی ،جذباتی نشو ونما کے لئے گھر کا ماحول پرسکون رکھیں۔ایک اور خاص پہلو جذباتی نشوونما کے حوالے سے یہ ہے کہ بچے کے جو دوست اور احباب ہوتے ہیں ان سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے ان کے حوالے سے بھی والدین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ اچھی صحبت بچوں کو ملے تاکہ بچوں کی اچھی جذباتی،اخلاقی سماجی،معاشرتی نشوونما ہوسکے۔
ایک اور پہلو جسکا تعلق بچے کی زباندانی کے حوالے سے
بچہ مختلف الفاظ سیکھتا ہے وہ دوسرے جو زبان بولتے ہیں اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے والدین کی کوشش ہونی چاہےئے وہ ان کو سکھانے کے لئے ایسے الفاظ کا انتحاب کریں جوبہت مہذب ہوں جس میں تہذیب ہو ،ان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرنا چاہےئے ،مختلف چیزوں کے نام بتا کر دوستوں کے نام، علاقے کی چیزوں کے نام ،مذہبی معلومات اور مختلف ایسی سرگرمیوں کا اہتمام کریں جس سے بچے نئے نئے الفاظ سیکھیں اور ان کی ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہو۔
بچے کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو جس میں بچہ ارد گرد کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور بچوں کو سکھانا بھی ہے اس کے لئے بچوں کے والدین اس کے چھوٹے بہن بھائی سے بر تا و،خاندان کے بارے میں معلومات ،چھوٹوں سے بات کیسے کی جاتی بڑوں سے کس طرح بات کی جاتی ہے اگر کوئی سوال کرے تو جواب کس طرح دیا جاتا ہے کے بارے میں بچوں کو بتانا ضروری ہے۔
بچوں کی تربیت میں گلی محلے کے لوگ بھی اہم ہوتے ہیں اس حوالے سے بھی بچوں کو سکھانا ضروری ہے کیونکہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کے حوالے سے بچوں کو سکھانا ضروری ہے تا کہ بچوں کو ارد گرد کے ماحول سے آگاہی ہو۔بچوں کو ارد گرد کے ماحول سے منقطع رکھنے سے ان کی شخصیت صحیح پروان نہیں چڑھ سکے گی۔اس لئے ارد گرد کے ماحول سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
صحت و صفائی کے حوالے سے بھی بچوں کی تربیت ضروری ہے۔کیونکہ وہ گلی سڑی ہوئی چیزیں کھاتے ہیں اور بیمار پڑ جاتے ہیں ان کی غذا کا خاص خیال نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے
اس لئے ضروری ہے کہ گھر کو صاف ستھرا رکھا جائے کسی قسم کی گند گی نہ ہو تا کہ یہ بچوں کی شخصیت کا حصہ بنے ۔
تخلیقی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں ایسی صلاحیتیں پیدا کریں کہ وہ سوالات کریں اور تب والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کی حوصلہ افزائی کریں اس طرح بچوں کی لرننگ ہوگی۔بچوں کی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے مختلف چیزیں بنوائی جائیں مثلاً پلاسٹک کی چیزوں کو کاٹنا اور کوئی نئی چیز بنانا ، اور مختلف مواد دے کر ان سے چیزیں بنوانا جس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیت میں نکھار آئے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 719 Print Article Print
About the Author: Naik Bano

Read More Articles by Naik Bano: 17 Articles with 7954 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: