ٹیکنالوجی کے اثرات

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: آمنہ زینب
گلوبل ولیج ایک ایسا نام ہے جس کے بارے میں آج کی دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جولاعلم ہو۔آج کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے معاشرے کو کیا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیکر گلوبل ولیج کی دنیا میں تبدیل کردیا ہے۔ ہمارے ماضی کی مشکلات کو حل کیا ہے۔ وہاں ساتھ ہی ساتھ آج کی ٹیکنالوجی نے انسان کی انسانیت، آپس کی محبت، انسانی، شرافت، ایمانداری اور خونی رشتے کو بھی جدا کر دیا ہے۔

آج کے دور میں لوگ ساتھ ہوتے ہوئے بھی جدا نظر آتے ہیں۔ یہ سارا ٹیکنالوجی کا ہی اثر ہے جس نے انسان کی انسانیت کو ختم کر کہ ایک مشین کا روپ اختیار کرلیا ہے پہلے زمانے میں انسانوں کی مشقت سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی نے ہماری اس گلوبل ولیج کی دنیا میں مشینی انسان جو نہ کوئی احساس و جذبہ رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی ذہنی صلاحیت۔ یہ حقیقت کہ مشینی روبوٹ آج کامیاب فیکٹریوں میں بہترین طریقہ سے انسانی ورکرز کی جگہ کام سرانجام دے رہے ہیں۔

مشین نے مختلف طریقوں سے انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کر دی ہے ، پل پل کی خبر پہنچتی ہے۔موبائیل اور نیٹ نے بھی انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے۔ جہاں فاصلے کم ہوئے، وہاں کئی برائیوں نے بھی جنم لیا۔ نوجوانوں میں بے راہ روی بڑھ گئی۔ انٹرنیٹ کی دنیا کا غلط استعمال تہذیب و ثقافت اور ملکوں وقوم کو تباہ کر گیا اور اب وہیں ہماری تہذیب کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔

وسائل کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھتے چلے گئے۔ اگر کچھ دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو جہاں نہ یہ آسانیاں تھیں وہیں کئی دیگر مسائل بھی نہ تھے۔ اب وہ بھی ان کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے لوگوں میں بھائی چارہ عام پایا جاتا تھا لیکن آج کل تو ایک معاشرے میں رہے کہ بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ والا کس حا ل میں ہے اور وہ کیا کر رہا ہے۔ تجرباتی طور پر ایک معاشرتی زندگی مکمل طور پر ختم ہوکر رہے گئی۔ گلوبل ولیج کی دنیا میں انسان کی جگہ مادیت پرستی نے لے لی۔ محبت نے مطلب اختیار کر لیا۔ اچھائی اور اخلاقیات کی جگہ فحاشی و بے حیائی نے بڑی دھوم سے لے لی۔
 
ایسی بے شمار برائیاں ہیں جنہیں ہم اگر شمار کرنے بیٹھ جائیں تو شاید نہ کرپائیں۔ ایسے میں ہمارے پاس ایک ہی راہ بچتی ہے اور وہ ہے اس سب سے حد الامکان بچنا ہے۔ اس کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ پل کو بیٹھ کر اپنے آس پاس کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ ہم کس کس جگہ اس ٹیکنالوجی کو غیر ضروری طور پر استعمال کررہے ہیں کہ جس کو اگر نہ کیاجائے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔ اس بیماری کی تشخیص کیجیے اور جب اس کا پتا مل جائے تو اس کو وہاں وہاں سے کم از کم ختم کیا جاسکتا ہے۔ اپنے بچوں پر ضروری اور ممکنہ طور پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں، یاد رکھیں یہ بچے آپ کے ہیں اور ان کی مکمل تربیت کی ذمے داری بھی آپ پر عاید ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری جگہوں پر روک ٹوک کرنے سے ہرگز خود کو نہ روکیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1120 Articles with 349514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: