میری مادر علمی ۔قائد اعظم یونیورسٹی

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ایک پرانی کہادت ہے کہ آپ اگر اونٹ چرا لیں تو دنیا کی نظر سے کیسے بچ سکتے ہیں۔کہادت چونکہ پرانی ہے اس لئے یہ بات بھی پرانی ہو چکی۔پرانے وقتوں میں لوگوں میں شرم ہوتی تھی، حیا ہوتی تھی، احساس ہوتا تھا کہ اونٹ بڑا جانور ہے اونچا لمبا ۔اسے چھپایا بھی نہیں جا سکتا، لوگ دیکھ لیں گے تو یقیناً چور کہیں گے اور کیا عزت رہ جائے گی۔اب جدید دور ہے ۔شرم اور حیا پرانی نہیں ، پھٹی پرانی چیزیں قرار پا چکی۔لوگوں کے معیار بدل گئے ہیں۔ چوروں کے گروہ بہت با اثر ہو چکے۔ ان با اثروں نے ایک اونٹ ہی نہیں اونٹوں کے پورے پورے ریوڑ چرا لئے ہیں اور پوری طرح دندناتے پھر رہے ہیں ۔چونکہ چور اکثریت میں آتے جا رہے ہیں اس لئے اکثریت کا شرمانا کیسا۔ اب تو ان کے کالے کرتوت بھی جمہویت کا حسن قرار پا رہے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ اونٹ چور اب اشرافیہ میں شمار ہوتے ہیں اوراشرافیہ ہر قانون سے بالا ہوتی ہے ۔ قانون ان کے حضور فقط اک موم کاسراپا ہوتا ہے۔

اسلام آبادیونیورسٹی جو آج قائد اعظم یونیورسٹی کہلاتی ہے میری مادر علمی ہے۔اس ماں کی حالت پر آ ج میرے سمیت اس کے بیٹے پریشان ہیں۔ کیا کریں کچھ بس نہیں چلتا۔میں نے 1971 سے1974 تک تین سال اپنی زندگی کا خوبصورت تریں دور جسے جوانی کہتے ہیں اس مادر علمی میں گزارہ ہے۔1971 میں جب میں نے اس یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس وقت یونیورسٹی 6th روڈ راولپنڈی کی چند کوٹھیوں میں تھی۔ اسی سال کچھ عرصے بعد ہم موجودہ کیمپس میں شفٹ ہو گئے۔1971 کی جنگ کے دوران میں اور میرے ساتھی ہوسٹل نمبر ایک میں مقیم تھے اور پوری جنگ کے دوران یہیں رہے۔وسیع کیمپس تھا۔ ہم کبھی پیدل چلتے بری امام اور کبھی بارہ کوہ تک مری روڈ چلے جاتے اور کبھی اوپر پہاڑیوں پر چوٹی جہاں ’’ہزارہ ڈسٹرکٹ شروع ہے‘‘ لکھا تھاپہنچ جاتے۔ یونیورسٹی کا رقبہ اس قدر وسیع تھا کہ لگتا تھا خدا کی زمیں دور دور تک ہماری مادر علمی کا ہی حصہ ہے۔ چاروں طرف کھلی زمیں اور ویرانہ۔ درمیان میں چھوٹی سی جگہ چار عمارتیں، ایڈمن ،کیمسٹری ، فزکس اور میتھ بلاکس۔ اکنامکس میتھ بلاک ہی میں تھا۔ اسی بلاک میں کمپیوٹر، پھر پاکستان سٹیڈیز اور پھر ہسٹری آئے۔ ہوسٹل نمبر ایک لڑکوں کا، نمبر دو لڑکیوں کا اور نمبر تین زیر تعمیر تھا۔پھر ہوسٹل اور اکیڈمک بلاکس کے درمیان ایک کھوکھا بنا ، یہ پہلی کینٹین تھی۔ وہیں جگہ ہموار کرکے ایک مسجد کی بنیاد ڈالی گئی۔ یہ میری مکمل یونیورسٹی تھی،اسلام آباد یونیورسٹی۔ اس یونیورسٹی میں سادگی تھی، امن تھا، بھائی چارہ تھا۔کسی چور ،ڈاکو اور قبضہ گروپ کا دور دور تک کوئی نشان نہ تھا۔ پتھر اور سانپ بہت عام تھے۔

مجھے یونیورسٹی چھوڑے پنتالیس(45) سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا۔ اس اثنا میں پورے ملک کا کلچر ہی بدل گیا ہے۔اب اس ملک میں پتھر دل سیاستدان جنم لے چکے جو اپنے مطلب کو بہت ہوشیار ہیں مگر قومی ،سماجی اور عوامی معاملات میں پتھر کی طرح بے حس۔ خلق کے مسئلے میں ان کا دل پتھر، دماغ پتھر، شرم پتھر ، حیا پتھر، احساس پتھر، سوچ پتھر۔ زیادہ ترسیاسی لیڈر سانپ اور بھیڑیے سے بھی بدتر۔ اصلی سانپ تو نظر آتا ہے کہ دشمن ہے۔ یہ وہ سانپ ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہونے دیتے۔ ہم دودھ پلا کر انہیں پالتے اورخود کو ڈسنے کے لئے انہیں کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔سوچتا ہوں کیا کیا بدل گیا ہے۔ میری یونیورسٹی کا نام بدل گیا ہے اب یہ قائد اعظم یونیورسٹی ہے۔ نام کی حد تک تو خوشی کی بات تھی کہ ایک اچھی پہچان مل گئی ۔ مگر یہاں کا ماحول بھی بدل گیا تھا۔ امن اور بھائی چارے کی جگہ تعصب اور لڑائی جھگڑا تھا۔یونیورسٹی کے گرد چوروں، ڈاکوؤں اور قبضہ گروپوں کے ڈیرے تھے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورت حال کو مادر علمی کے بیٹوں چاہے وہ موجودہ طالب علم ہوں یا سابق، یونیورسٹی کے ملازمین اور یونیوسٹی کے اساتذہ نے محسوس کیا اور اور یونیورسٹی کی فلاح کے لئے یک جان ہو کر ان چوروں ڈاکوؤں اور قبضہ گروپوں کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ جب میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھاتو یہاں پتھر اور سانپ عام تھے۔افسوس یہ آج بھی بہت عام ہیں۔ پتھر آج بھی اسی طرح ہیں ہاں مگر سانپوں کی شکل بدل گئی ہے۔اب یہ یونیورسٹی کے گرد و نواح انسانی شکل میں چوروں، ڈاکوؤں اور قبضہ مافیا کی شکل میں موجود ہیں۔

میری اسلام آباد یونیورسٹی کا کل رقبہ 1709 ایکڑ،4 کنال 12 مرلے تھا، جس کی مکمل ادائیگی CDAکو بحوالہ خط نمبر CDA/PLD-15(12)66/516 کر دی گئی تھی۔ اس ادائیگی کا اقرار CDA حکام نے سپریم کورٹ میں بھی کیا ہے۔آج قائداعظم یونیورسٹی کی زمین گھٹ کر 1259 ایکڑ رہ گئی ہے۔450 ایکڑ کی یہ کمی کچھ توCDA حکام کی نا اہلی کے باعث ہے اور کچھ قبضہ مافیا کا کمال ہے۔کل 450 ایکڑ میں سے 152 ایکڑ کا حساب تو CDA حکام ہی دے سکتے ہیں کہ ان کی لاپرواہی کے سبب یہ رقبہ کس کے پاس جا چکا ہے جب کی بقیہ 298 ایکڑ قبضہ مافیا سے واپس لینا موجودہ حکومت کا کام ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم سے کچھ پیش رفت ہوئی تھی مگر یہ اپریشن منتخب نمائندوں کی مداخلت پر روک دیا گیا۔اسلئے کہ قبضہ مافیا کے کچھ لوگ ہمارے پیارے منتخب سانپ ہیں اور کچھ ان سانپوں کے حصار میں پوری طرح محصور اور محفوظ ہیں۔ وزیر اعظم کے حکم سے ہونے والے اپریشن کے خلاف منتخب نمائندوں کا خلاف قانون واویلا افسوسناک ہی نہیں باعث شرم بھی تھا۔مگر ہمارے مہذب معاشرے میں یہ ہوا اور میں حیران ہوں کہ ہمارے منتخب لوگوں نے ایسے ڈاکے ڈالنے یا ڈاکوؤں کا مدد گار ہونے میں کوئی شرم یا عار بھی محسوس نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کو تحفظ دیتے رہیاور آج نتیجہ یہ ہے کہ اپریشن روک دیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ حکومت جو تعلیم کی ترویج کی خواہاں اور دعویدار ہے کچھ ہمت کرے گی اور میری مادر علمی کو لٹنے سے بچانے اور اس کی زمین کو واگزار کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم جو اپنے ہر عزم میں مستحکم ہیں اپنے احکامات کو روکنے والے اہلکاروں کو اپریشن جاری رکھنے کا حکم بھی دیں گے اور امید ہے میری مادر علمی کو قبضہ مافیا سے نجات اور اس کام کے بارے اپنے احکامات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 135 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 394 Articles with 180141 views »
Teaching for the last 45 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: