جب انگلینڈ نے پاکستان سے معافی مانگی

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)

انگلینڈ دنیا کی قدیم اور مستحکم سپر پاورز میں سے ایک ہے۔ نوآبادیاتی دور میں انگلینڈ نے کئی ممالک پر قبضہ کر کے ان کو اپنی کالونی بنالیا تھا اور اس کی مملکت کی سرحدیں مغرب تا مشرق پھیلی ہوئی تھیں۔

اس دور میں یہ مقولہ مشہور ہوا تھا کہ ’’سلطنتِ برطانیہ میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔‘‘لیکن پھر دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے بتدریج ایسے تمام ممالک کو آزادی دینا شروع کی اور پھر سکڑ سمٹ کر انگلینڈ تک محدود ہوگیا۔
 


بتانے کا مقصد یہ ہے کہ انگلینڈ ایک بہت بڑا اور طاقتور ملک ہے لیکن اپنے اصولی مؤقف پر پاکستان نے انگلینڈ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا اور انگلینڈ نے پاکستان سے باقاعدہ معافی مانگی۔ لیکن یہ معاملہ سیاسی نہیں تھا بلکہ یہ کرکٹ کے میدانوں کا معاملہ تھا۔

یہ واقعہ دسمبر 1987 میں پیش آیا تھا۔ واقعہ بیان کرنے سے پہلے ہم کرکٹ کا ایک اصول آپ کو بتا دیں تاکہ پورا واقعہ سمجھ میں آجائے۔ کرکٹ کے اصولوں کے مطابق میچ کے دوران فیلڈنگ میں تبدیلی اس وقت تک کی جاسکتی ہے جب تک بالر، بال کرانے کے لیے دوڑ نہ چکا ہو یعنی وہ اسٹارٹ نہ لے چکا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیٹس مین کھلاڑیوں کی ترتیب کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اپنے اگلے شاٹ کی منصوبہ بندی کرتا ہے، اب اس کی توجہ بالر کی جانب ہوتی ہے۔ اب اگر فیلڈنگ کوئی میں تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ خلافِ قانون ہوتی ہے۔

اب ہم واقعے کی طرف آتے ہیں۔ 1987 میں انگلینڈ کی ٹیم مائیک گیٹنگ کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کررہی تھی۔فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں دورے کا دوسرا ٹیسٹ میچ جاری تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے کے قریب تھا۔انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 292 رنز بنا کر آؤٹ ہوچکی تھی اور پاکستان کی اننگز جاری تھی، سلیم ملک کریز پر موجود تھے۔
 


اچانک امپائر شکور رانا نے محسوس کیا کہ انگلش کپتان مائیک گیٹنگ ٹھیک اس وقت فیلڈنگ میں تبدیلی کرتے ہیں جب بالر اسٹارٹ لے چکا ہو اور سلیم ملک کی مکمل توجہ اس جانب ہوتی تھی، مائیک گیٹنگ اپنے ایک کھلاڑی ڈیوڈ کیپل کی جگہ تبدیل کررہے تھے۔ شکور رانا نے مائیک گیٹنگ کو کہا کہ یہ چیز غلط ہے اور اس طرح فیلڈنگ میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس پر اپنی غلطی ماننے کی بجائے مائیک گیٹنگ بپھر گئے اور انہوں نے نہ صرف یہ کہ امپائر شکور رانا کو دھوکے باز، بے ایمان کہا بلکہ ان کو مغلظات بھی بکی۔ ( شاید مائیک گیٹنگ ذہنی طور پر ابھی تک نو آبادیاتی دور میں جی رہے تھے۔)

اس کے جواب میں امپائر شکور رانا نے بھی ان کے لیے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا اور انہیں کھری کھری سنا دیں۔ اس کے ساتھ ہی امپائر نے کھیل ختم کرنے کا اعلان کردیا جب کہ ابھی کچھ وقت باقی تھا۔اب یہ تنازع بڑھ گیا۔ اگلے دن امپائر نے کھیل شروع کرنے سے انکار کردیا اور مطالبہ کیا کہ مائیک گیٹنگ ان سے معافی مانگیں۔
 


دوسری جانب مائیک گیٹنگ نے بھی یہی مؤقف اپنایا۔ دونوں فریقین اپنے مؤقف پر جم گئے۔ انگلینڈ کی ٹیم اور مینجر نے دورہ ختم کرنے کی دھمکی دیدی۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے صدر جنرل صفدر بٹ نے انگلینڈ کی ٹیم کے مینجر سے ملنے سے بھی انکار کردیا۔اس طرح تیسرے دن کا کھیل نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ محسوس کیا کہ پاکستانی امپائر کا مؤقف بالکل درست ہے اور وہ حق پر ہیں جب کہ مائیک گیٹنگ کا عمل غلط ہے تو کرکٹ بورڈ نے لندن سے یہ احکامات جاری کیے کہ مائیک گیٹنگ اپنی غلطی تسلیم کریں اور معافی مانگیں۔بورڈ کے احکامات کے بعد مائیک گیٹنگ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اور انہوں نے پاکستانی امپائر شکور رانا سے معافی مانگی۔ ان کی معافی کے بعد ٹیسٹ میچ دوبار ہ شروع ہوا۔ اس طرح پاکستان نے ایک اصولی مؤقف کی بنیاد پر انگلینڈ کو معافی مانگنے پر مجبور کردیا تھا۔ یہ میچ بے نتیجہ رہا اور پاکستان تین میچوں کی یہ سیریز 1-0سے جیت گیا تھا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2656 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language:    
Mike Gatting and Shakoor Rana got involved in one of the ugliest altercations in the history of the game that threatened the diplomatic ties between England and Pakistan.