قوموں کی شناخت ان کی زبانوں سے ہوتی ہے‎

(Syed Haseen Abbas Madani, )

قوموں کی شناخت ان کی زبانوں سے ہوتی ہے اور یہ قدرتی عمل ہے۔ مگر دنیا نےاس میں سیاست اور سازش کو داخل کیا ہے ۔ہمیشہ سے انسانی سرشت رہی ہے کہ دوسروں پر قبضہ کر کے غلام بنا لو۔ اور زمانہ قبل از تاریخ سے آج تک ہر کوئی دوسرے پر قبضہ کرنے پر آمادہ ہے۔ کسی کو اپنی زندگی گزارنے کی آزادی نہیں ہے۔ جب یورپ کی اقوام نے ایک ٹیبل پر بیٹھ کر افریقہ اور ایشیاء کے ممالک کی قدرتی حدود کا خیال کیے بغیر اسکلق سے لائن کھینچ کر ممالک کی حدود کا تعین کر دیا۔فرانس، برطانیہ، پرتگال، ڈچ ویلندیزی(ہا لینڈبیلجیم) جرمنی ،اسپین، اٹلی سب نے افریقہ اور ایشیا کو اپنی مرضی سے بانٹ لیا اور اسی ورلڈ آرڈر کے مطابق فوجی لے کر پہنچ گے اور اپنے طے کردہ علاقوں پر قبضہ کر لیا اگر آپ افریقہ کا نقشہ دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ شمالی افریقہ کے ممالک پر فرانس اٹلی کا قبضہ تھا مغربی افریقہ پر عمو ماْْ ٖ فرانس اور جنوب مغربی افریقہ میں انگولا او رجنوب مشرقی افریقہ میں موزنبیق پرتگال کا قبضہ رہا اور وسطی افریقہ پر برطانیہ،فرانس نےقبضہ کیا ہوا تھا۔ جنوبی افریقہ کیپ ٹائون پر برطانیہ۔ بحر ہند کے جزائر پر بھی فرانس کا قبضہ تھا۔ زنجبار،ماریشس اور سیشیل۔ کے جزائر کا سلسلہ بھی فرانس کے قبضے میں تھا اور ہندوستان، سری لنکا پر برطانیہ اور انڈونیشیا پر ولندیزی ڈچ( ہالینڈ اور بیلجئم) قابض رہے ہندوستان میں بھی ایک ساحل کے چھوٹے سے حصے Goa))پر پرتگالی قابض رہے ملایا، پر برطانیہ کا قبضہ تھا سنگاپور ان دنوں ملیشیا میں شامل تھا۔انڈونیشیا کے جزیرہ بورنیو کے آدھے شمال مشرقی حصے پر برطانیہ کا عمل دخل تھا جو آجکل ملیشیا میں شامل ہے۔

آگے بڑھ کر فلپائین پر اسپین کا راج تھا کیونکہ اس پر اسپین کے شہزادہ فلپ نے قبضہ کیا تھا۔ کمبوڈیا ، لائوس، ویتنام۔(انڈو چائنا) فرانسیسی نوآبادی۔ آگے بڑھ کر چین کے ساحلی علاقے ۔ زنگتائو پر جرمن نے قبضہ کر لیا۔ بعض جگہ اسپین نے قبضہ کیا۔ ہانگ کانگ کو برطانیہ نے افیون بیچنے کا ٹھکانہ بنا لیا۔جزیرہ مکائو پر پرتگال نے آجتک اپنا اثر رکھا ہوا ہے۔

بالا ئی سطور میں یورپ کے چمپینز کی افریقہ میں دخل در اندازی کا خاکہ پیش کیا ہے
اسلامی سلطنت کے عروج کے زمانے میں میڈیٹرینین(بحر متوسط) جو جنوبی یورپ اور شمالی افریقہ کے درمیان میں ہے۔ اسکے مراکش اور جبل الطارق کے درمیان کے راستے سے لے کر چین کے زرد پانیوں تک اسلامی امیرالبحر فخر الدین بار بروسہ کی عملداری تھی اور ان تمام ساحلوں پر عربی زبان عام تھی ملیشیا کے سمندروں میں داخل ہوتے ہوئے عربی رسم الخط۔ خط جاوی میں بدل گیا تھا، اوا آج بھی چین کے نوٹ پر چین کا نام خط جاوی میں لکھا ہے۔ مشرق بعید کی اکثر اقوام اپنی زبان کے لئے کانجی (چینی طرز) کو بطور رسم الخط استعمال کرتی تھین۔ تو اسمیں کمال یہ تھا کہ بولنے میں زبان الگ معلوم ہوتی تھی مگر اکثر لکھتے ایک جیسا تھے اس وجہ سے اگر آپس مین بات نہیں کر سکتے تھے۔مگر لکھ کر بات چیت آسان تھی۔ اس طرح جنوب مشرقی ایشیا کے لوگوں میں کسی قدر یکجہتی تھی۔ یورپی اقوام نے جہاں بھی قبضہ کیا پہلا کام یہ کیا کہ علاقائی زبان کا رسم الخط انگریزی حروف سے بدل ڈالا(رومن) اس طرح علاقائی یکجہتی پر ضرب لگائی اور اپنے اصولـ" تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مطابق اپنی حکمرانی کو طول دیا۔ فرانس نے انڈوچائنہ کے ممالک(ویتنام،لائوس ، کمبوڈیا) کی زبان کو رومن میں لکھنے پر مجبور کیا اس طرح وہ اگلے دس بیس سالوں میں اپنا طرز تحریر بھول گئے۔اور انکا تمدنی لیٹریچر بھی انکے کام کا نہ رہا۔ جب کسی قوم کا لیٹریچر اس سے چھین لیا جائے تو قوم یتیم ہو جاتی ہے حد یہ ہے کہ چینی زبان کو بھی انگریزی حروف میں لکھا اور چینی زبان کے مخصوص ٹون اور تلفظ کی وجہ سے اس رومن طرز تحریر کو Pinyin کا نام دیا۔ اسی طرح ملیشیا اور انڈونیشیا کے عربی نما خط جاوی کو بھی رومن اس لئے کیا کہ ان کا اسلامی دنیا سے رابطہ نہ رہے اور ان کی ابھرتی ہوئی نسل اپنے اسلامی لیٹریچر اور قرآن سے نا بلد ہو جائے تہذیب و تمدن پر وار کرنے کا یوروپین کا اپنا مخصوص طریقہ ہے۔ انہوں نے سات سمندر پار سے آکر پر امن اقوام پر قبضہ کر لیا ۔اور دہشت گرد ہم ہیں ۔ کیونکہ انکی عسکری طاقت اور مکر و فریب کا روکنا ہمارے بس میں نہ تھا۔

اللہ ملیشیا کے حکمرانوں کو جزائے خیر دے کہ انہوں نے آزادی ملتے ہی اپنی زبان کی تحریر اور تقریر کو فورٌ زندہ کیا اور اگلے دس برسوں میں لیٹریچر بھی زندہ اور کار آمد ہو گیا اگرچہ اس کےلئے ان کو بڑی محنت کرنی پڑی انکے ہاں بھی انگریز کی غلامی کے پروردہ کم نہ تھے۔ بہر حال آج ملیشیا ترقی کر گیا ۔مہاتر محمد ہمیشہ کہتے ہیں مغرب نہیں مشرق کی طرف دیکھو ۔

مسلمانوں سے مغرب کی ازلی دشمنی ہے۔ انہوں نے عرب دنیا کی زبان اور تہذیب و تمدن کو سلامت نہیں رہنے دیا۔ جہاں ممکن ہوا رسم الخط تبدیل کر دیا۔ ترکی ھمارا لیڈر تھا۔ لہٰذہ اس کو توڑا اور تنہا کرنے کے لئے ترکی کا رسم الخط رومن کر دیا ۔ اس کی وجہ سے ہماری نئی نسل ترکی سے نا واقف ہو گئی۔اگرچہ کہ اردو میں ترکی کے بہت سے الفاظ آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔

اب اردو کو گھیرنے کی سازش ہو رہی ہے۔اردو میں اسلامی لٹریچر کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔اور علم کے ہر شعبہ میں بہت کام ہوا ہے۔ انجینیرنگ،میڈیکل اور سائنس کے دوسرے شعبوں میں بھی بڑا کام ہوا ہے قیام پاکستان سے قبل ہی حیدرآباد دکن کی عثمانیہ یونیورسٹی میں تمام علوم اردو میں پڑھائے۔جاتے تھے۔ کراچی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ میجر آفتاب حسن کی اردو کےلئے بڑی خدمات ہیں ۔الیکٹرانکس ہو یا کمپیوٹر کی دنیا کیلئے شعبہ نشر و اشاعت نے تجارتی وجوہ پر اردو کو چار چاند لگائے۔اردو میں علم کے ہر شعبہ کی معلومات موجود ہے۔چونکہ اردو لشکری زبان ہے اس میں عربی،فارسی،ترکی،سنسکرت، انگریزی اور پر تگا لی( پگار،گودام ، چھٹی، بٹاٹا، بیوہ، چولی، پجامہ، صابن، میز، کرسی، دالچہ، آج، دنیا، مرید،اور بہت سے) کےالفاظ شامل ہیں۔ لہٰذہ اس میں علوم کو سمونے کی بڑی صلاحیت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اردو کے سہارے قرآن آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکتی ہے۔ شاید اسی بنیاد پر ہمارے نام نہاد لبرل اردو کو بھی رومن میں لکھنا چاہتے ہیں۔

ایک مرتبہ ا یوب خان صاحب کے زمانے میں اس فتنے نے زور اٹھایا تھا۔ دوسری سچائی یہ ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار ۔ باوجودیکہ اردو کو نافذ کرنے کا قانون بھی بن گیا ہے اس کا اطلاق نہیں کرتے۔ اور نت نئے طریقوں سے اردو کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ اور انہوں نے انگلش میڈیم۔ اور اردو میڈیم کے طبقے بنا رکھے ہیں تا کہ غریب عوام کی اکثریت ترقی نہ کرپائے۔ اگر خدانخواستہ اردو کو رومن طرز تحریر دینے میں یہ لبرل کامیاب ہو گئے تو قوم لا وارث ہو جائیگی۔ ہندوستان سے اردو کو دیس نکالا دیکر مسلمانوں سے انکی قوت چھین لی اور ہندوستانی مسلمان اسکے آگے مزاحمت نہ کر سکے۔ جبکہ دنیا کے کئی ممالک کی یونیورسٹیوں میں شعبہ اردو قائم ہے۔ چین ،روس،برطانیہ، یوگوسلاویہ کے علاوہ بھی کئی مما لک میں۔

میری ارباب اقتدارسے گذارش ہے کہ جسقدر جلد ہو سکےاردو زبان کونافذ کر دیں دنیا میں بام عروج پر وہی اقوام پہنچی ہیں جنہوں نے اپنی قومی زبان کو زندہ رکھا ہے۔ شاہ ایران نے اس مقصد کیلئے ایک سپاہ دانش بنائی تھی جسمیں پانچ ہزار صاحب علم و ہنر تھے جو دنیا میں چھپنے والی ہر کتاب کا اپنی زبان میں ترجمہ کردیتے تھے۔ اس طرح انکی نئی نسل وقت کے ساتھ قدم بہ قدم چل سکی۔

یہی صورتحال جاپان میں ہے۔ چین کی بےمثال ترقی انکی اپنی زبان میں تعلیم کا نتیجہ ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 192 Print Article Print
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 37 Articles with 12684 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: