اسلام میں پرندوں اور جانوروں کے حقوق

(Azeem Hasilpuri, )

20مارچ کو پاکستان اوردنیا بھر میں پرندوں کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جس میں پرندوں کے حقوق کی آگاہی اور ان کی نسلوں کی بقاپر بات کی جاتی ہے ۔اور ان تمام چیزوں پر بحث ہوتی ہے جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں مثلا بڑھتی ہوئی آلودگی، درختوں کی کمی، موبائل فونز کے ٹاورز سے نکلتی زہریلی لہریں، کچے گھروں کی بجائے پکے گھروں کی کثرت اور فصلوں پر چھڑکی جانے والی زہریلی ادویات وغیرہ شامل ہیں۔
پرندے کائنات کا حسن ہیں ان کی چہکار ماحول کووشنما بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اسلام پرندوں کے حقوق کے حوالہ سے ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے آج ہم بات کریں گے۔
اسلام میں پرندوں اور دوسرے جانوروں کےبہت سے حقوق ہیں۔جن کی پاسداری ہمارے ایمان کا حصہ ہےاور اگر ان کا خیال رکھا جائے تو یقینا بہت سی ختم ہونے والی نسلیں محفوظ رہ سکتی ہیں۔پرندوں کے چند ایک حقوق:
پرندوں کو بے جا پریشان نہ کیا جائے۔۔!
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہؐے ساتھ تھے۔ آپ قضائے حاجت کے لیے ایک طرف گئے ہم نے ایک چڑیا دیکھی اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے۔ ہم نے اس کے بچے اٹھا لیے وہ چڑیا اپنے بچوں کے قریب ہو کر پھڑپھڑانے لگی نبی رحمت تشریف لائے تو فرمایا:
’’کس نے اس کے بچے اٹھا کر اس کو مضطرب کیا ہے اس کے بچے اس کے پاس واپس رکھ آؤ۔‘‘
پھر آپ نے چیونٹیوں کا ایک بل دیکھا جسے ہم نے آگ لگا دی تھی آپ نے فرمایا: اسے کس نے آگ لگائی ہے؟ ہم نے کہا : ہم نے، توآپ نے فرمایا:
’’یہ درست نہیں ہے کہ آگ کے ذریعے آگ کے رب کے سوا کوئی اور عذاب دے ۔‘‘أبوداود : ۵۲۸۶، صحیح
مسند احمد( ۳۸۳۵) میں انڈوں کا ذکر ہے ۔ رسول اللہؐنے سوال کیا کہ اسے کس نے تکلیف پہنچائی ہے تو ایک شخص نے کہا:’’میں نے اس کے انڈے اٹھائے ہیں۔‘‘
تو رسول اللہؐنے فرمایا: واپس رکھ دے۔
جانوروں اور پرندوں پر رحم کرو۔۔!
صرف انسانوں ہی پر نہیں بلکہ اﷲ کی دیگر مخلوقات، جیسے جانوروں اور پرندوں پر بھی رحم کرنے کی احادیث میں تاکید کی گئی ہے۔قرہ بن معاویہ ؓکا بیان ہے کہ ایک آدمی نبیؐسے عرض کرنے لگا کہ میں بکری ذبح کروں گا اور (ذبح کرتے وقت) میں اس پر رحم کروں گا۔ آپؐ نے فرمایا:
’’اگر تو بکری پر رحم کرے گا تو اﷲ تجھ پر رحم کرے گا۔‘‘
(مسند احمد:۵؍۳۴)
پرندوں پر شفقت کرو۔۔!
ابو امامہؓکی بیان کردہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲؐ نے فرمایا: ’’جو رحم کرتا ہے اگرچہ پرندے کے ذبیحے پر ہی کرے، اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائیں گے۔‘‘ (سلسلۃ احادیث الصحیحۃ(۲۷)
بغیر ضرورت چڑیا کو قتل نہ کیا جائے۔!
بعض لوگ زہریلی ادویات کے ذریعے ان کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ شکار کے لیے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں کہ جن سے بہت سے پرندے مارے تو جاتے ہیں لیکن وہ کسی کام نہیں آسکتے۔ رسول اللہ ؐارشاد فرماتے ہیں: ’’جوشخص چڑیا یا اس سے چھو ٹے جانور کو ناحق قتل کرے تو اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔‘‘پوچھا گیا اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا : اسے ذبح کر کے کھائے اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے ۔(النسائی: ۴۳۵۴،حسن)
ذبح کرتے وقت چھری تیز کر لینا چاہئے۔!
ذبح کرتے وقت کوئی تیز دھار آلہ استعمال کیا جائے تاکہ مذبوح کو تکلیف کم ہو حضرت شداد بن اوس ؓہتے ہیں:
میں نے دو چیزیں رسول اللہؐے حفظ کی ہیںآپؐنے فرمایا:اللہ نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (یعنی فورا قتل کردو تڑپاؤ نہیں) اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو ،اس کے لیے اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔‘‘ٍ(صحیح مسلم :۱۹۵۵)
باندھ کر نشانہ بازی نہ کی جائے۔۔!
اسلام نے جانوروں کے حقوق رکھے ہیں ان کو حق آزادی دیا ہے اگر کسی کو نشانہ لگانا ہے آزاد کو لگاؤ تاکہ اسے جان بچانے کا موقع میسر ہو اس کے لیے ممکن ہو تو اڑ جائے یابھاگ جائے۔حضرت ہشام بن زید کہتے ہیں میں حضرت انس بن مالک ؓکے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا، دیکھا کہ کچھ لڑکے مرغی باندھ کر تیر مار رہے ہیں حضرت انس ؓفرمانے لگے:’’نبیؐ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ (البخاری: ۵۵۱۳)
جانور کا مثلہ نہ کیا جائے۔۔!
حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐکو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’ا للہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جس نے جانور کا مثلہ کیا۔‘‘(نسائی : ۴۴۴۲
جانوروں کے چہرے کو نہ داغا جائے۔!
حضرت جابرؓکہتے ہیں کہ رسول اللہؐایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا تو رسول اللہؐنے فرمایا:’’اللہ اس پر لعنت فرمائے جس نے اس کو داغا ہے۔‘‘(مسلم: ۲۱۱۷)
ابوداود میں چہرے پر مارنے کی ممانعت بھی موجود ہے۔ آپؐفرماتے ہیں:’’تمھیں معلوم نہیں کہ میں اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانور کے چہرے کو داغے یا اس کے چہرے پر مارے۔‘‘(أبوداود: ۲۵۶۴، صحیح)
دوران سفر جانور کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے۔!
دوران سفر جانور کی ضروریات کا اور اس کی تھکاوٹ کا بھی احساس کرنا چاہیے حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐنے فرمایا:’’جب تم ہریالی میں سفر کرو تو اونٹ کو اس کا حق دو(یعنی اسے اچھا چارہ دو) اور جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو جلدی جلدی سفر طے کر لو(تاکہ بھوک سے لاغر نہ ہوجائے) ۔‘‘ (أبوداود: ۲۵۶۹، صحیح)
پرندوں اورجانوروں سے حسن سلوک پر اجر۔۔!
کچھ جانور پالتو ہوتے ہیں ان کا خیال تو انسان رکھتا ہے اور اگر غیر پالتو جانوروں سے شفقت کی جائے تو اللہ تعالیٰ بندے کے عمل ضائع نہیں کرتے ہیں۔ اگر جانور موذی ہیں تو ان کو مارڈالنے کا حکم ہے اس لیے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے جہاں نقصان کا اندیشہ نہیں وہاں جانوروں سے اچھا سلوک کیا جائے تو یقینا اللہ تعالیٰ اس پر اجروثواب عطا فرمائیں گے۔
سیدناابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو دوران سفر بہت پیاس لگی اسے ایک کنواں نظر آیا وہ اس میں اترا پانی پیا اور پھر باہر نکل آیا ۔ باہر دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی چاٹ رہا ہے اس نے سوچا کہ پیاس کی شدت سے اس کا بھی وہی حال ہے جو میرا تھا وہ کنویں میں اترا پنے موزے میں لیا منہ سے پکڑا اور باہر آکر کتے کو پانی پلایا۔’’اللہ تعالی نے اس کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔‘‘صحابہ کرام ؓنے سوال کیا کیا جانوروں سے حسن سلوک میں بھی ہمیںاجر ملے گا؟ تو رسول اللہؐنے فرمایا: ’’ ہر زندہ چیز میں (حسن سلوک کی وجہ سے ) اجر ہے۔‘‘ صحیح مسلم:(۲۲۴۴)
روتے اونٹ کے آنسو تھم گئے۔۔!
حضرت عبداللہ بن جعفرؓکہتے ہیں کہ رسول اللہؐنے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا ایک انصاری کے باغ میں گئے۔ ایک اونٹ نے نبی کریمؐ کو دیکھا تو رونے لگ گیا۔ نبی ؐاس کے پاس تشریف لے گئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا وہ خاموش ہو گیا۔آپ نے پوچھا اس کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری جوان حاضر ہوا اور عرض کی اے اللہ کے رسول ؐ یہ اونٹ میرا ہے تو آپ ؐ نے فرمایا:
’’اس جانور کے معاملے میں تواللہ سے ڈرتا نہیں کہ اللہ نے تجھے اس کا مالک بنایا ہے اس اونٹ نے تیری مجھے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے اور کام زیادہ لیتا ہے۔‘‘ (أبوداود: ۲۵۴۹، صحیح)
جانوروں کے حقوق ادا کرو۔!
حضرت ابوہریرہؓکے پاس سے قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص گزرا۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت یہ اپنے قبیلہ میں سب سے بڑا مال دار ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور فرمایا‘ کیا واقعی تم سب سے زیادہ مال دار ہو؟ اس نے کہا‘ ہاں میرے پاس رنگ برنگ کے سینکڑوں اونٹ‘ قسم قسم کے غلام‘ اعلیٰ اعلیٰ درجے کے گھوڑے وغیرہ ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا‘ دیکھو خبردار ایسا نہ ہو کہ یہ جانور اپنے پائوں سے تمہیں روندیں اور اپنے سینگوں سے تمہیں ماریں‘ بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ عامری کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور اس نے کہا حضرت یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا سنو! میں نے رسول اللہؐسے سنا ہے کہ جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے گا ان کی سختی میں اور ان کی آسانی میں تو اسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک چٹیل لمبے چوڑے صاف میدان میں چت لٹائے گا اور ان تمام جانوروں کو موٹا تازہ کر کے حکم دے گا کہ اسے روندتے ہوئے چلو۔ چنانچہ ایک ایک کر کے اسے کچلتے ہوئے گزریں گے جب آخر والا گزر جائے گا تو اوّل والا لوٹ کر آ جائے گا۔ یہی عذاب اسے ہوتا رہے گا۔ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ پھر وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا۔ اسی طرح گائے‘ گھوڑے‘ بکری وغیرہ بھی سینگدار جانور اپنے سینگوں سے بھی اسے مارتے جائیں گے‘ کوئی ان میں بے سینگ کا یا ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہو گا۔ عامری نے پوچھا اے ابو ہریرہ! فرمایئے‘ اونٹوں میں اللہ تعالیٰ کا حق کیا ہے؟ فرمایا مسکینوں کو سواری کے لئے تحفتہً دینا‘ غربا کے ساتھ سلوک کرنا‘ دودھ پینے کے لئے جانور دینا‘ ان کے نروں کی ضرورت جنہیں مادہ کے لئے ہو انہیں مانگا ہوا بے قیمت دینا۔‘‘ (ابوداود:۱۶۶۰ وسندہ حسن؛ نسائی،۲۴۴۴۔)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 543 Print Article Print
About the Author: Azeem Hasilpuri

Read More Articles by Azeem Hasilpuri: 29 Articles with 17763 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ