خلیفہ بلافصل سید نا ابوبکر صدیق ؓ کی سیرت کے درخشاں پہلو

(Atiq UR rehman, Islamabad)

کون صدیق اکبرؓ:انبیا کرام ؑکے بعد انسانوں میں سب سے افضل شخصیت اور جنہیں رسول اﷲؐ اپنا خلیل بنانا چاہتے تھے۔ جن کو قرآن میں اﷲ نے سچائی کی تائید کرنے والا اور حق و سچ کا پیکر و پرتاؤ قرار دیا ۔ جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب و جوا اور ہمہ جہتی منکرات سے اجتناب کیا ۔جن کے بارے میں خلیفہ عادل حضرت عمرفاروقؓ نے فرمایا کہ میں ان کے مقام و مرتبہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ آپؐ نے جنہیں مسلمانوں کی امامت تفویض کی۔جنہیں جنت کے سبھی دروازے داخل ہونے کی دعوت دینگے۔ وہ جس نے اسلام اور پیغمبر ااسلام پر اس قدر احسان کیے کہ خود رسول اﷲؐ کو ارشاد فرمانا پڑا کہ ان کے احسانات کا بدلہ خود اﷲ تعالیٰ چکائیں گے۔وہ جو صرف عشرہ مبشرہ میں ہی شامل نہیں بلکہ رسول اﷲؐ نے فرمایا کہ تم میرے حوض کوثر پر بھی رفیق ہوگے جیسے سفر ہجرت میں میرے ساتھ تھے۔وہ جس کو وحی کے بعد رسول اﷲؐ کی گھبراہٹ کو زائل کرنے کے لیے ام المومنین حضرت خدیجہؓ نے جو آپؐ کی صفات بیان کی تھیں کہ اﷲ تعالیٰ آپؐ کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دیگا کیونکہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق بات پر لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں،صلہ رحمی کو اختیار کرتے ہیں کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں بعینہ انہی صفات سے آپؓ کو ابن دغنہ نے متصف کرکے فرمایا کہ مکہ والوں کی اذیت سے ہجرت نہ کریں میں آپ کو امان دیتاہوں۔

نام و لقب :خلیفہ بلافصل ،رسول اﷲؐ کے جانشین ،حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ عنہ آپؓ کا نام عبداﷲ بن عثمان بن عمر بن عمر القرشی التیمی تھا اورآپ کی کنیت ابوبکر تھی۔آپؓ ابوقحافہ کے گھر میں عام الفیل کے دوسال چھ ماہ بعد ۵۷۳ء کو پیدا ہوئے۔آپؓ کے لقب صدیق اور عتیق قرار پائے ۔آپؓ نے رسول اﷲؐ کی ہرلمحہ اور ہرگھڑی تائید و نصرت کی۔آپؐ کے اعلان نبوت اور سفر معراج پر سب سے پہلے تصدیق وگواہی آپؓ نے دی جس پر آپؐ نے حق و سچ کی تائید کرنے کا لقب (صدیق)عنایت کیا ۔حضرت ابوبکرؓ خوبصور ت چہرے والے اور کشادہ پیشانی کے حامل تھی۔ ایک روایت کے مطابق آپ ؓ کی والدہ کی اولاد زندہ نہ رہتی تھی تو انہوں نے اﷲ سے دعا مانگی کہ اس بچہ کو زندگی دراز ملے ان وجوہات کی وجہ سے لقب عتیق پڑگیا۔آپ وہؓ واحد صحابی ہیں مہاجرین میں سے جن کے والدین نے اسلام قبول کیا اور جن کی چار نسلوں نے رسول اﷲؐ کی زیارت ہی نہیں کی بلکہ سبھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

قبول اسلام :یہ وہ موقعہ ہے کہ جب اسلام کی صدائے حق کو قبول کرکے آنحضرتؐکا ساتھ دینا اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالنے کے مترادف تھاکیونکہ اعلان نبوت کے بعدمشرکین مکہ آپ ؐ کے بھرپور مخالف ہوچکے تھے۔آپؐ کی صدائے حق وصداقت اس حد تک ناقابل برداشت ہوچکی تھی کہ مشرکین مکہ آپ ؐکو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہوچکے تھے۔آپؐکے اعلان نبوت کے بعد تجارتی سفر سے واپسی پرجونہی سیدناصدیق اکبرؓ کو خبر ملی کہ آپ کے قریبی ساتھی و دوست محمدؐبن عبداﷲ نے اعلان نبوت کیاہے تو آپؓفورانبی اکرمؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھاکہ کیا آپ نے اعلان نبوت کیاہے؟آنحضرتؐکی جانب سے اثبات میں جواب ملتے ہی آپؓنے بغیر کوئی دلیل مانگے مشرف اسلام ہوگئے۔ایسے موقع پر اسلام کی قبولیت جبکہ خود آپؐ کے سگے چچا و مکہ کے سردار آپؐ کے دشمن ہوچکے تھے اور آپؐ کی وزجہ محترمہ حضرت خدیجہؓ ،بچوں میں حضرت علی المرتضیٰؓ اور بچوں میں حضرت زیدبن حارثہؓ کے علاوہ کسی بھی جوان و بڑی عمر کے آزاد فرد نے آپؐکی دعوت کو قبول نہیں کیاتھااپنی جان موت کے حوالے کرنے کے مترادف تھا۔گویاآپؓنے اسلام قبول کر کے آپؐپر آنیوالی ہرآزمائش کے لیے اپنے آپ کو پیش کردیا۔

پیغمبر اسلام پر فدائیت:اسی زمانے کامشہورواقعہ ہے کہ نبی اکرمؐ خانہ کعبہ میں تشریف لاکرکفار کو دین متین کی دعوت دینے لگے توکفارنے جواباًگردن مبارک میں کپڑاڈال کر آپؐ پر تشددکرناشروع کردیااسی دوران آپؓکو معلوم ہواتوآپؓ آئے اور کفار سے مخاطب ہوکر گویاہوئے کہ کیاتم ایسے فرد پرظلم وستم ڈھارہے ہو جوتمہیں اﷲ کے علاوہ باقی معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کرتاہے اور صرف ایک اﷲ کی عبادت کی طرف بلاتاہے……!یہ کہنا تھا کہ کفارمکہ نبی اکرمؐکوچھوڑکر آپؓپر حملہ آورہوگئے۔کفارنے آپؓکواتناماراکہ آپؓبے ہوش ہوگئے۔آپؓ کو اس حالت میں گھر لایاگیا۔گھر پہنچ کر جب آپؓ کو ہوش آیاتوسب سے پہلا سوال آنحضرتؐکی خیریت دریافت کرنے سے متعلق تھا۔ والدہ دودھ کا پیالہ لے کر سرہانے کھڑے تھیں کہ آپؓ دودھ نوش فرمائیں مگر آپؓ نے آپؐ سے متعلق بارہا استفسار کیا تو والدہ نے ام جمیل کو طلب کیا باوجود ام جمیل کی جانب سے مطلع کرنے کے کہ آپ بخیر و عافیت ہیں آپؓ کی تسلی نہ ہوئی تو اسی حالت میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔وہاں پہنچ کر نبی اکرمؐ کی جانب سے حوصلہ ملنے پر آپ سی اولوالعزم شخصیت نے اپنے دکھ دردو تکلیف کو بھلا کر اسلام اور پیغمبر اسلام سے اپنی بھرپور وابستگی کا اظہارکرتے ہوئے آپؐسے درخواست کی کہ دعاکریں میری والدہ اسلام قبول کر لے۔آپؐنے اس مطالبہ پر ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کے حضور دعامانگی جس کے نتیجہ میں آپؓ کی والدہ محترمہ مشرف بااسلام ہوئیں۔

شانِ صدیق بزبانِ قرآن: قرآن میں سیدنا صدیق اکبر ؓ کا تذکرہ سورت آل عمران،سورت اللیل،سورت التوبہ سورت الزمراور سورت الفتح میں صراحت کے ساتھ مناقب بیان ہوئے ہیں کہ سفر ہجرت کے موقع پر آپؓ نے غارثور کے دہانے پر پہنچنے کی وجہ سے حزین و غمگین ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر دشمن نے اپنے قدموں کو دیکھ لیا تو پہچان لیں گے تو آپؐ نے فرمایا ان دوکے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اﷲ ہے ۔امتیازی بات یہ ہے کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ لاتحزن ان اﷲ معنا کا ارشاد ہوا مطلب یہ کہ صدیق اکبرؓ کو اپنا خوف اور اپنی فکر نہیں تھی بلکہ پریشان تھے تو رسول اﷲؐ سے متعلق محزن ہوئے کہ کہیں دشمن آپؐ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اسی طرح کفار کی جانب سے اﷲ تعالیٰ کا تمسخر اڑایا گیا تو اس معاملہ کا تصفیہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں آیت کریمہ نازل کرکے کیا۔آپؓ کی جانب سے راہ خدا میں صدقہ و خیرات کی گواہی سورہ اللیل میں دی گئی۔سورت الزمر میں آپؓ کے پیکر صداقت ہونے کو بیان کیا گیا۔سورت الفتح میں آپؐ کی معیت و صحبت کا تذکرہ ہوا۔

مقام ِصدیق بزبان نبیؐ:رسول اﷲؐ پر سب سے پہلے مردوں میں سے ابوبکرصدیقؓ ایمان لائے ۔سیدنا صدیق اکبرؓ نے قبول اسلام سے تادم زیست خود کو اوراپنے اہل خانہ کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا جس کا نتیجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں عظمت صدیقی کے تذکرے ملتے ہیں وہیں پر رسول اﷲؐ کی احادیث میں آپ کے فضائل و مناقب بیان ہوئے کہ رسول اﷲؐ ایک مرتبہ احد پہاڑ پر سیدنا صدیق اکبرؓ ، سیدنا عمرفاروقؓ اور سیدنا عثمانؓ کے ہمراہ موجود تھے پہاڑ لرزنے لگا تو آپؐ نے فرمایا تھم جا تجھ پر نبی و صدیق اور دوشہید موجود ہیں۔رسول اﷲؐ نے سیدنا صدیق اکبرؓ کے مقام امتیازی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ صدیق ؓ سے محبت مومن کرے گا جبکہ نفرت منافق رکھے گا۔نبی اکرمؐ یہ بھی فرمایا کہ میں نے دنیامیں تمام محسنوں کے احسانات کا بدلہ اتار دیا جبکہ صدیق اکبرؓ کے احسانات کا بدلہ اﷲ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔رسول معظمؐ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ سیدناابوبکرصدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ جنت کے تمام بڑی عمر کے لوگوں کے سردار ہونگے ماسوائے انبیاء کے۔احادیث میں یہ بھی واردہوا ہے کہ آپؓ کی موجودگی میں کسی بھی شخص کے لیے روا نہیں کہ وہ مصلیٰ امامت پر کھڑا ہوا۔نبی مکرمؐ کے مرض الوفات میں 17نمازوں کی امامت سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کی اوریہی وجہ ہے کہ رسول معظمؐ کی لخت جگر سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اﷲ علیھا کا نماز جنازہ حضرت علی کرم اﷲ وجہ نے خودپڑھانے کی بجائے سیدنا ابوبکرؓ کے سپرد مصلیٰ امامت کیا۔نبی اکرمؐ سے ایک بار ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے استفسار کیا کہ آسمان کے ستاروں کے بقدر کسی کی نیکیاں ہیں تو آپؐ نے فرمایا کہ ہاں سیدنا عمر فاروقؓ کی ۔ ام المومنین خاموش ہوگئیں تو آپؐ نے پوچھا کہ آپ کے سوال کا کیا مطلب تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا یہ خیال تھا کہ اس قدر نیکیاں میرے والد ماجدحضرت ابوبکرؓ کی ہوگئیں تو آپؐ نے فرمایا غمگین کیوں ہوتی ہو اتنی نیکیاں آپ کے والد ماجد کی تو صرف سفر ہجرت کی تین راتوں کی ہیں ۔

روشن خدمات :سیدنا صدیق اکبرؓ کے قبول اسلام کے بعدکے حالات کا اگر جائزہ لیاجائے توغیرت وحمیت اورشجاعت جیسے عالی اوصاف سے آپؓ کا دامن بھراہوانظرآتاہے۔آپؓ نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپؓ کی دعوت پر حضرت عثمانؓ، حضرت ابوعبیدہ ،حضرت عبدالرحمن بن عوف جیسے جلیل القدر صحابہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔آپؓ نے قبول اسلام کے بعد جان و مال سب کچھ اسلام پر قربان کردیا کہ دشمنان اسلام کے چنگل میں پھنسے مظلوم مسلمان مؤذن رسول ؐ بلال بن ابی رباحؓ ،زنیرہ ،عامر بن فہیرہ،ام عبیس وغیرہ مسلم غلاموں کو مشرکین کی قید سے نجات دلانے کے لیے فدیہ اداکیا۔آپؓ نے اپنے سارے گھرانے کو خدمت اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے وقف کردیا۔رسول اﷲؐ کے عقد میں اپنی لخت جگرام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پیش کی ۔اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورہ نور کی 18آیات سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی لخت جگرکی فضیلت کو بیان کیا۔سفر ہجرت میں آپؓ نے دل جمعی کے ساتھ آپؐ کی خدمت کی۔جب بھی آپؐ نے اشاعت اسلام کی خاطر مسلمانوں سے صدقہ دینے کی التجا کی تو آپؓ نے سب سے زیادہ مال پیش کیا۔

ہجرت مدینہ میں ایثار صدیقی:جب کفار مکہ کی جانب سے نبی اکرمؐاور آپؐکے ساتھیوں کو ظلم وستم کا مسلسل نشانہ بنایاجانے لگاتواﷲ تعالیٰ کی جانب سے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا۔اس عالم میں بہت سے صحابہ کرام مدینہ کو ہجرت کرچکے تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے آپؐ استفسار کیا کہ میں بھی مدینہ روانہ ہوجاؤں تو آپؐ نے منع کردیا تو آپؓ نے جاننے کی کوشش کی کہ کیا مجھے آپؐ کی معیت کا شرف حاصل ہوگا تو آپؐ نے اثبات میں جواب دیا۔جب خالق ارض و سماء نے آپؐ کو ہجرت کا حکم دیا توایک جانب آپؐ نے ہجرت کا ارادہ باندھاتو دوسری جانب کفارمکہ دارالندوۃمیں جمع ہوکر آپؐکو(نعوذباﷲ)کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا نے لگے، اسی بناء پر مشرکین نے نبی اکرمؐ کے گھر کامحاصرہ کر لیا۔اس موقعہ پر آپؐ نے مکہ کے لوگوں کی سب امانتیں سیدناعلی المرتضیٰؓکے حوالہ کیں اور کفار کامحاصرہ توڑ کر صدیق اکبرؓ کے گھر پہنچے اور اپنی ہمراہ سفر ہجرت پرچلنے کو کہا۔باوجود تمام حالات کا علم ہونے کہ آپؓ توپہلے سے نبی اکرمؐکے ساتھ چلنے کے لیے بے تاب تھے۔ایسے موقعہ پر جب کسی کام کے کرنے پر موت سامنے نظر آرہی ہوتو وہ کام کرگزرنامحض فطری شجاعت وبہادری اور تائیدازدی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔اس پر خطر موقع پرآپؓ نے ناصرف اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر نبی اکرمؐکے ساتھ سفر ہجرت کیا بلکہ اپنے پورے خاندان کوبھی آپؐ خدمت پر مامور کرکے آپؓ نے بھرپورجرأت کا مظاہرہ کیا۔ایسا بھی نہیں کہ یہ سفر پرامن گزر گیا ہو،بلکہ کفارمکہ نے برابر آپؐ کا تعاقب جاری رکھا۔سفر کے دوران نبی اکرمؐنے جب غارثور میں قیام فرمایاتودشمن تعاقب کرتے ہوئے غارکے دہانے تک پہنچ گیا۔اس وقت سیدناصدیق اکبرؓنے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی بلکہ نبی اکرمؐکو نقصان پہنچنے کے ڈرسے اپنی پریشانی کا اظہار کیا جس پربذریعہ وحی آپ ؓکو نبی ؐنے تسلّی دی اور فرمایا’’لاتحزن ان اﷲ معنا‘‘یعنی تومیرے بارے میں غم نہ کر بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔ہجرت کے اس پر خطرسفر میں بے باکی کے ساتھ نبی مکرمؐ کے ساتھ سفر کرنااس بے مثال فطری شجاعت کاعملی مظاہرہ ہے جوسیدناصدیق اکبرؓ کی ذات میں اﷲ پاک نے ودیعت کررکھی تھی۔غارثور کی چڑھائی چڑھتے وقت آپؓ نے آپؐ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ،غارکی صفائی کے دوران خطرناک سانپ آپؓ کی ایڑی پر ڈسا تو آپؓ کو یہ بھی شرف ملا کہ آپؐ نے اپنا لعاب دہن ان کی ایڑی پر لگایا۔سفر ہجرت میں دشمن کے حملہ کے خوف سے دوران سفرآپؐ کی چہار جانب سے حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔

نبی اکرمؐ کی وفات اور استقامت صدیقی:آنحضرتؐکی وصال کے بعد تمام صحابہ کرامؓاس قدر رنجیدہ ہوئے کہ اپنے ہوش وہواس کھو بیٹھے ۔یہاں تک کہ سیدنا عمرفاروقؓجیسے مضبوط قوت و جسم کے مالک اور بہادر بھی اس اعلان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ہاتھ میں بے نیام تلوار لے کر یہ کہنے لگے کہ جس شخص کو میں نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ آپؐ وفات پاگئے ہیں تو میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔اس موقع پر بھی سیدناصدیق اکبرؓ نے اپنی فطری بصیرتاور اصابت رائے کاعملی مظاہرہ کرتے ہوئے تمام صحابہ کرامؓ کو جمع کر کے خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا ’’لوگوسنو!جولوگ تم میں سے آپؐ کی عبادت کیا کرتے تھے توآپؐوفات پاگئے ہیں اورجولوگ اﷲ پاک کی عبادت کرتے تھے تو یاد رکھو اﷲ زندہ ہے اور اﷲ کی ذات کو کبھی موت نہیں آئے گی‘‘اس کے بعد قرآن پاک کی آیات تلاوت فرما کر اپنی بات کو مزید مؤثر کردیا۔یہ خطبہ اور اس میں تلاوت کی گئی آیات سنتے ہی صحابہ کرامؓکو اتنا حوصلہ ملا کہ اکثر صحابہؓ فرمانے لگے’’ یوں معلوم ہوتاہے کہ قرآن پاک کی یہ آیت ابھی نازل ہورہی ہے‘‘نبی مکرمؐکی وفات کے اتنے جان لیواحادثے کے بعد بھی اتنے بلند حوصلے اور عزائم کا اعادہ کوئی حلیم طبع اور صابر انسان ہی کر سکتاہے جو امت کی رسول اﷲؐ کے بعد قیادت سنبھالنے کا حقدار ہے۔

سخاوت و عجزصدیقی:سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنا تن من دھن اسلام پر قربان کردیا یہاں تک غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اﷲؐ نے جب مسلمانوں سے چندہ طلب کیا تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے گھر کا سارا سامان پیش کردیا یہاں تک کہ اپنا ذاتی لباس بھی حضورؐ کی خدمت میں پیش کیا۔جبکہ خود ٹاٹ کا لباس زیب تن کرکے آپؐ کے پاس تشریف لائے۔اسی موقع پرملک مقرب جبرائیلؑ امین آپؐ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے بھی ٹاٹ کا لباس زیب تن کیا ہواتھا اور رسول اﷲؐ کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کو سیدنا صدیق اکبرؓ کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ تمام فرشتوں کو اﷲ تعالیٰ نے یہ لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔سیدنا صدیق اکبرؓ کا یہ طرز عمل بعد از خلافت بھی جاری و ساری رہا ہے کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات روزگانہ کی خاطر سامان تجارت لیکر بازار جانے لگے تو سیدنا عمر فاروقؓ کے استفسار پر بتایا کہ آپ کہا ں جارہے ہیں تو جواب میں خلیفہ رسولؐ نے فرمایا کہ سامان بیچنے کے لیے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ اگر آپؓ اگر تجارت کرینگے تو امر خلافت کون نبھائے گا تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے پوچھا کہ کیا میں اہل خانہ کے نان و نفقہ کا انتظا م نہ کروں اس پر سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا کہ آپ مسلمانوں کے بیت المال سے وظیفہ حاصل کرلیں جس پر آپؓ نے رضامندی اس شرط پر ظاہرکی کہ خلافت کے ایک عام فرد کے برابر وظیفہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔سیدنا عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہواکہ مدینہ میں ایک نابینا بڑھیا مقیم ہے اور اس کی نگہداشت کی ضرورت ہے تو وہ اس بڑھیا کہ ہاں حاضر ہوئے تو بڑھیا نے کہا کہ کوئی بندہ روزانہ آتاہے اور میرے گھر کے سارے امور سرانجام دیکر لوٹ جاتاہے ۔ سیدعمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ متعدد بار جستجو کے بعد میں نے ایک نقاب پوش کو طلوع آفتاب سے بیشتر دیکھا کہ منہ پر کپڑا اوڑھے اس بڑھیا کہ گھر پہنچتاہے اور وہاں سے جب وہ واپس نکلتاہے تو میں نے اس کو آدبوچا اور چہرہ سے کپڑا اتارا تو کیا دیکھتا ہوں وہ کوئی اور نہیں بلکہ وقت کے خلیفہ امیرالمومنین سیدنا ابوبکر ؓ تھے۔خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد آپؓ نے خطبہ میں ارشاد فرمادیا تھا کہ تم میں سے کمزور میرے لیے طاقتور ہے اور طاقتور کمزور ہے کہ اگر کوئی ظلماً کسی کا حق غصب کرے گا تو میں ضروربالضرور وہ حاصل کرکے مظلوم کی نصرت کرونگا۔اورجب تک میں قرآن و سنت کے مطابق حکومت کروں تم پر میری اطاعت لازم ہے اگر میں شریعت سے انحراف برتوں تو تم پر واجب نہیں کہ میری اطاعت کرو۔

تعمیل حکم نبویؐ:آپؐ کی حیات میں رومیوں نے جب دھوکہ دہی سے مسلمانوں کے خلاف صف آرائی کی تو آپؐ بھاربھر کم لشکر لے کر وہاں پہنچے تو وہ پسپاہوگئے مگر آپؐ کی واپسی کے بعد قبائل عرب کو ساتھ ملاکر رومی پھر صف آراہوئے اور آپؐ نے لشکر حضرت زیدبن حارثہ کی قیادت میں لشکر بھیجا جس میں حضرت زیدبن حارثہؓ اور حضرت جعفرطیارؓ سمیت متعدد جلیل القدرصحابہ جام شہادت نوش کرگئے۔ اس جنگ کے بعد نبی اکرمؐ نے مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر تشکیل دیا جس میں سیدنا صدیق اکبرؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت صھابہ بھی موجود تھے اس لشکر کی قیادت حضرت زید کے نوخیز بیٹے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو قیادت و امارت عنایت کی۔جیش اسامہ کی روانگی سے بیشتر رسول اﷲؐ دنیا سے پردہ فرماگئے۔آپؐ کے جنازہ و تدفین اور سقیفہ بن ساعدہ میں مسئلہ خلافت میں صحابہ کرام کی مصروفیت کے بعد جب اتفاق رائے سے حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپؓ نے فوراً لشکر اسامہ کو روانگی کا حکم دیا بڑے بڑے عظیم المرتبت صحابہ کرام کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاتارہاکہ آپ ابھی اس لشکر کو روانہ نہ کریں کیوں کہ مدینہ کے اطراف سے بغاوت اور یورش کا خطرہ ہے ۔مگر آپؓ نے فرمایا آپؐ کے کیے گئے فیصلہ سے کسی طرح رجوع نہیں کیا جاسکتا۔جیش اسامہ جب کامرانی و کامیابی اور مال غنیمت کے ہمراہ واپس آیا تو پورے عرب پر مسلمانوں کی دھاگ بیٹھ گئی۔

فتنہ ارتداد و منکرین زکوٰۃ کی سرکوبی: وفات نبویؐ کے بعد جب آپؓ کوخلیفہ منتخب کر لیا گیا تو بہت سارے خطرناک فتنوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔کہیں فتنہ ارتداد پیداہوگیا تو کہیں منکرین زکوٰۃ نے اسلام کے بنیادی فریضے زکوٰۃکی ادائیگی سے انکار کر دیا۔اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت (مسیلمہ،طلیحہ اسدی اور سجاح )کی قوت بھی مضبوط ہونے لگی۔اس پر بھی معاملہ ختم نہیں ہوابلکہ مرتدین ،منکرین زکوٰۃاور مدعیان نبوت جیسے داخلی فتنوں کی یکساں سر کوبی کے لیے آپؓ نے گیارہ لشکر تشکیل دئیے۔اس موقع پر صحابہؓ نے نرمی کی درخواست کی تو آپؓ نے یہ سن کر ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’اینقض الدین وانا حی‘‘یعنی دین میں کمی آجائے اور میں زندہ رہوں،پھر فرمایا کہ اگر میرے ساتھ کوئی تعاون کرناچاہے توخوب اور اگر آپ ؓسب میراساتھ چھوڑدیں تو بھی میں تنِ تنہااسلام کے ان دشمنوں کامقابلہ کروں گا،سنو!مجھے یہ بات منظور ہے کہ اس مقابلہ میں دشمن مجھے مارڈالیں اور میرے لاشے کو پرندے نوچ نوچ کر کھاجائیں لیکن یہ بات منظور نہیں کہ اسلام کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے۔اس پامردی و استقامت فیصلہ کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فوجی لشکر بشمول جیش اسامہؓ کے منکرین زکوٰۃ و مداعیان نبوت اور دشمنان اسلام کی ناصرف سرکوبی کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ بڑی تعداد میں غنائم اور اسلحہ جمع کرنے میں بھی کامیاب ہوئے اور اسی کا ثمرہ ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد میں ہی فتح فرس و روم کی طرح پڑگئی جس کی بشارت نبی آخرالزمانؐ نے غزوہ خندق کے موقع پر سنائی تھی۔

حفاظت قرآن کا اہتمام:نبی آخر الزمان ؐ کے جوار رحمت باری میں منتقل ہوجانے کے بعد جو فتنے ظہور پذیر ہوئے تو ان کی بیخ کنی کی خاطر آپؓ نے جو 11لشکر روانہ کیے تو اس کے نتیجہ میں فتنوں کا خاتمہ تو ہوہی گیا تاہم مسلمانوں کو اس میں ہوشربا نقصان پہنچا جس میں خاص طورپر صحابہ کرام کی بڑی تعداد جو قرآن کے حافظ تھے شہادت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپؓ کو سیدنا عمر فاروقؓ نے مشورہ دیا کہ قرآن کریم کو فی الفور جمع کرنے کی ضرورت ہے مباداایسانہ ہوکہ قرآن کریم سے مسلمان محروم ہوجائیں تو آپؓ نے فرمایا جو کام آپؐ نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں۔سید ناعمرؓ نے فرمایا کہ اس میں مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی ہے۔بالآخرخلیفہ رسولؐ کے دل میں شرح صدر ہوگیا۔اور ایر المؤمنین نے حضرت زید بن ثابتؓ کو حکم دیا کہ صحابہ کرام سے دو گواہوں کی موجودگی میں قرآن کریم کے جزکو مکمل کرنے کا اہتمام کریں ۔خلفیہ رسول اﷲؐ سیدنا صدیق اکبرؓ اور حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت زیدبن ثابتؓ کی انتھک محنت سے قرآن کریم کو یکجا جمع کرلیا گیا۔یہ ایسا احسان عظیم ہے کہ دشمنان اسلام سرتوڑ کوشش و جستجو کرنے کے باوجود چودہ سوسال بعد بھی قرآن کریم سے ملت اسلامیہ کے اعتماد کو گزند پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

وفات : رسول اﷲؐ کے دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعد سیدنا صدیق اکبر ؓ دو برس چندماہ منصب خلافت پر فائز رہنے کے بعد بیمار ہوئے اور پیر کے روز ۲۲ جمادی الاول ۱۳ھجری میں انتقال کرگئے اورامورخلافت چلانے کی خاطر جو راہنما اصول انہوں نے اختیار کررکھا تھا اسی کی روشنی میں کبار صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے بعد آپؓ اپنے بعد خلافت کے لیے اپنا جانشین مراد پیغمبراور خسر رسولؐ سیدنا عمر فاروقؓ کو نامزد کرگئے تھے۔

سیرت صدیقی پر عمل کی ضرورت:سیدناصدیق اکبرؓکی زندگی اور ان کا دور خلافت پر خطر حالات میں تنہا جس بے باکی ،شجاعت وبہادری اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا تاریخ میں اس کی مثال ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتی۔یقینایہ جانشین رسولؐکی فطری شجاعت تھی جس کے نتیجے میں دین مصطفوی ؐکو وہ عروج ملا جس کا اعلان نبی اکرمؐاپنی زبان مبارک سے کر گئے تھے۔آج جبکہ امت مسلمہ ہمہ جہتی سازشوں کاشکار ہو کر کفارکے سامنے مغلوبیت کی حالت میں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ کے حکمران،علماء اور عوام ان سخت حالات کا مقابلہ سیرت صدیقیؓ کی روشنی میں اسی ایمانی بصیرت و شجاعت کے ساتھ کریں،جیسے سیدنا صدیق اکبرؓنے اپنی مکمل زندگی میں بالعموم اور جیش اسامہ کی روانگی، منکرین زکوٰۃ و مدعیان نبوت کی سرکوبی جیسے اہم امور کو بالخصوص حرز جان بنایااور تمام نام نہاد اسلام دشمن طاقتوں کو مغلوب کر کے محمدیؐپرچم کو سر بلند کردیا۔اﷲ تعالی ہمیں سیرت سیدنا صدیق اکبرؓ سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں پر عزم ہو کر اسلام کی سر بلندی کے لیے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 364 Print Article Print
About the Author: atiq ur rehman

Read More Articles by atiq ur rehman: 116 Articles with 55255 views »
BA HONOUR ISLAMIC STUDIES FROM INTERNATIONAL ISLAMIC UNIVERSITY ISLAMABAD,
WRITING ARTICLES IN NEWSPAPERS SOCIAL,EDUCATIONAL,CULTURAL IN THE LIGHT O
.. View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ