قابل ترس تھا عورتوں کا رویہ

(Babar Alyas, Chichawatni)
اللہ پاک کرم فرماۓ اور اپنی رحمت خاص سے ہدایت کل عطا فرما دیں ان عورتوں کو.

‏‎اگر پاکستان مخالف لوگوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے تو نظریہ پاکستان اور اسلام مخالف لوگوں پر کیوں نہیں لگائی جا سکتی؟؟
‏‎حدیث شریف میں ہے کہ جہاں برائی دیکھو، ہاتھ سے روکو اگر یہ نہیں کرسکتے تو زبان سے منع کرو اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو دل میں اسے برا مانو اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ھے۔‏
اہل علم کے چند. فکر کہتے ہیں کہ گندے بینروںکے ساتھ جلوس نکالنے والیوں کا معاملہ اپنے خالق کے ساتھ ہے۔ انہیں ان کے حال پہ چھوڑ دیں۔ ذہنی طور پہ وہ مغرب کی مخلوق ہیں۔باقی 99 فیصد خواتین مائیں، بہنیں بیٹیاں ہیں۔ تمام حقوق اور تمام احترام کی حق دار لیکن میں کہتا ھوں کیا ایسا کرنا مناسب ھو گا اور کیا یہ حل ہے اس کی بیماری کا ؟
میری کل رات اپنے ایک بیرون ملک مقیم دوست سے بات ہو رہی تھی انکا کہنا تھا کہ بابر بھائی ‏‎ یقین کریں یہ سوچ تو مغرب کی خواتین میں بھی نہیں پائی جاتی۔ مجھے 2 دہائیاں ہونے والی ہیں مغرب میں رہتے ہوئے ایسی ایسی خواتین سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے کہ شوہر کی خدمت میں مشرقی عورتیں بھی مقابلہ نہ کر سکیں۔
پاکستان کے اہل علم ؤ اسلام کی نظر میں ‏‎ان کی آزادی کا سطحی پن قابل افسوس ہے،اور ان مردوں پر بھی جن کے گھر سے یہ بینر آئے ہیں، ان کو بغیر تربیت کے آزادی مل گئ ہے جسکی بدولت ان کی تمثیل جنگل کے حیوان کی سی ھے جو صرف آزاد ہوتا پر خرد سے خالی.
میرے ‏‎محترم اہل وطن کے مسلمانوں ادب کے ساتھ ،آپ کو اس بات سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان دیسی مغرب زدہ شیطانی ایجنڈے پر کام کرنے والی عورتوں کو ان کے حال پر کیوں چھوڑ دیں ؟تاکہ یہ اور مضبوظ ہوں اگلی بار ہم جنس پرستی کے بینرز لے کر آنے کی ہمت کریں ؟ اس غلاظت کا اسی وقت خاتمہ لازمی ہے وزیر اعظم صاحب کو نوٹس لینا ہی ہوگا.‏‎پاکستان میں 26 ایجنسیاں کا کر رہی ہیں بقول چوہدری نثار صاحب کے اگر یہ ایجنسیاں چاہیئں تو 1 گھنٹے میں ان بے حیا عورتوں کو اور جو ان کے پیچھے ہیں ان کو پکڑ کر کرار واقعی سزا دلوا سکتے ہیں ۔میری اہل وطن علم ؤ دانش سے گزارش ہے کہ آپ آنکھیں بند نہ کریں کل آپ نے بھی اللہ کے ہاں جواب دینا ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس قلم کی طاقت ہے۔‏‎مگر دوسری جانب ہاتھ جوڑ کر کہتا ھوں ان کی تصاویر کو ری ٹویٹ کرنے والے اور ان تصاویر کو شئیر کرنے والے اس گندگی کو کریدنے اور پھیلانے میں انکا ساتھ دے رہے ہیں اللہ کا خوف کریں اور ایسا نہ فرماۓ.
" ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﻧﺒﯿﭽﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ! ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻣﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﯾﮟ ! ﺍﭘﻨﯽ ﺯﯾﺐ ﻭ ﺯﯾﻨﺖ ﮨﺎﺭ
ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ) ﮐﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ! ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﮯ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ !
[ﺳﻮﺭۃ ﻧﻮﺭ : 31 ]
ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺮﻡ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ! ﺍﻭﺭ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﺎﮬﻠﯿﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺭ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﻇﺎﮬﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ !
[ﺳﻮﺭۃ ﺍﺣﺰﺍﺏ : 32 - 33 ]
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺯﯾﻮﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺭ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﭘﺎﺗﯽ ﮨﮯ ! ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ (ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ) ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ !
[ﺳﻮﺭۃ ﺯﺧﺮﻑ : 18 ]
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺯﮨﻦ (ﻋﻘﻞ ) ﺩﻭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮬﮯ !
[ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ : 282 ]
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﮐﻢ ﮬﮯ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮬﯿﮟ !
[ﺳﻮﺭۃ ﻧﺴﺎﺀ : 34 ]
ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮐﮭﯿﺘﯽ ﮬﮯ
[ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ : 223 ]
ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﻟﺒﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮬﮯ !
[ﺳﻮﺭۃ ﯾﻮﺳﻒ : 28 ]
بے شک ‏‎جو جس چیز کا حقدار ہوتا ہے اس کو وہی چیز مہیا کی جائے گی اور عدل اسی کو کہتے بھی ہیں لیکن احترام سے کہتا ھوں کہ یہ مغربی میراث کی لونڈیاں ہمارے عزت و ادب و احترام کے معاشرے کی حق دار نہیں ہیں.
میری ناقص راۓ ھے کہ ‏‎‎اگر آج ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو کل کو ان کی تعداد اور زیادہ ہو جائے گئی گندگی پھیلتے دیر نہیں لگتی.
شاید ‏‎اہلِ مغرب بھی اس طرح کی فضولیات و بکواسیات کے پابند نہیں کیونکہ ہر معاشرے میں اسکی معاشرتی و سماجی اقدار کا پابند ہونا ملتا ہے مجھے تو یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا بیہودہ طریقہ محسوس ہوتا ہے یا پھر ایک نئے مادر پدر آزاد معاشرے کی مطالبہ کرتی تحریک ؟
‏‎معذرت چاہتا ہوں کل سے بہت دیکھا, پڑھا, سنا, اور بیرون ملک مقیم حضرات سے پوچھا بھی لیکن
مغرب میں بھی ایسے بد اخلاق بد اعمال بد الفاظ واے بینر نہیں ملتے مظاہروں میں جیسے کل میرے پیارے ملک پاکستان میں نظر آۓ یہ ‏گندے نعروں والے بینر لیے، بے شرمی سے سڑکوں پر مارچ کرنے والی عورتوں کا معاملہ اب واضح ہو گیا ہے کہ یہ این جی اوز کی بے چاریاں ہیں.
امریکہ اور یورپ کی بھکاری ۔ قابل ترس، قابل معافی۔ کم علم ؤ عقل, حیوانی صفت ؤ سوچ کی مالک چند عورتوں کے خلاف کاروائی لازم ہونی چاہیے اور پاکستان میں دوبارہ ایسا کوئی دن منانےکی اجازت نہ دینے کا اعلان کر دیا جاۓ.

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 167 Print Article Print
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 166 Articles with 51984 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Reviews & Comments

Language: