بچپن میں کتب بینی کی ترتیب اور ضرورت

(Sobia Shaukat, )

کتب بینی ایک نہایت مفید مشغلہ ہے۔ یہ علم میں اضافہ اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے بہت مفید ہے۔ بقول عرب شاعرجاحظ’’' کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامدانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستہ پر ڈالتاہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچاتا ہے۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت کے ذریعہ آپ سے ناجائزفائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتاہے۔‘‘ مطالعہ کرنے والا اوقات کی ضیاع سے محفوظ رہتاہے۔ اس سے علم میں اضافہ، یاداشت میں پختگی، فکر میں وسعت اور معاملہ فہمی میں گہرائی آتی ہے۔ پڑھنے والا دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتاہے۔ اس کی وجہ سے انسان سستی اور کاہلی سے بچتاہے۔ اس سے بے چینی اور پریشانی میں راحت ملتی ہے۔

علم کی فصل قلم وکتابت کی جس زمین پر اگتی ہے اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ سیراب کرتے ہیں۔جس معاشرہ میں مطالعہ کا ذوق اور عادت ختم ہوجائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہوجاتی ہے۔ کسی بھی عادت کی بیج بچپن میں پڑتی ہے اور بلوغت کے ساتھ پختہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ بچہ جب پڑھنے لکھنے لگے تو بغیر کسی انتظار کے اس کو مطالعہ کی عادت ڈالنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ موجودہ زمانہ میں اس کا اہتمام کرنے اور کرانے کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ٹکنالوجی کی ترقی نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ہر ہاتھ میں انتہائی حساس موبائل فون، ٹیب اور س کی طرح کی دیگر اشیاء ہیں۔یہ چیزیں جہاں بچوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں وہیں یہ نقصاندہ بھی ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں اس بات کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

بچوں کی شخصیت سازی میں عملی نمونہ سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز ہے۔ بچے اپنی فطرت کے اعتبار سے زبانی احکامات یا نصائح کے بجائے عملیت پسند ہوتے ہیں۔ وہ وہی کرتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں، اس کے مد نظربہتریہ ہوگا کہ آپ ایک مناسب وقت متعین کریں اور خاص وقت میں پابندی سے مطالعہ کا اہتمام کریں۔

خیال رکھیں کہ آپ ان (بچوں)سے بھی مطالعہ کا مطالبہ کریں۔ اگر بچہ محض کھیل اور تفریح میں بھی ورق گردانی کرے تو اس پر روک ٹوک نہ کریں، اسے کرنے دیں کیونکہ یہ مستقبل کے اعتبار سے کسی بھی طرح فائدے سے خالی نہیں ہے۔ بچوں کو لائبریریوں میں لائیں اور لے جائیں۔ جب بچے کی قوت فہم قدرے ترقی کرجائے تو انہیں اس سے منسلک کریں۔ ان سے مطالبہ کریں کہ وہ وہاں سے کتابیں لاکراستفادہ کریں۔ اس پہ آمادہ کرنے کے لیے ترغیبی طریقوں کا استعمال کریں۔ جب بچہ تھوڑی سمجھ بوجھ والا ہوجائے تو اسے لکھنے پڑھنے کی اہمیت کو بتائیں۔ا سے یہ سمجھانے کی کوشش کریں کہ یہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ پڑھنے لکھنے میں بچے کی پسند اور رجحان کی رعایت ضروری چیز ہے۔ الگ الگ مراحل میں بچے کی پسند مختلف ہوتی ہے۔کسی مرحلہ میں وہ جانوروں اور پرندوں کی زبانی بیان کی گئی کہانیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

کبھی اسے افسانے اچھے لگیں گے تو کبھی شجاعت وبہادری کی داستان۔ بہرحال علم کے اس سفر میں پڑاؤ آتے جائیں گے اور اس کی پسند بدلتی جائے گی۔ خیال صرف اس بات رکھنا ہے کہ اس کے پسند کے موافق اچھی اور مفید کتابوں کا انتخاب کرکے ان کو دیاجائے۔ جبر کا طریقہ بددلی کا سبب بنے گی اور پھر مطالعہ سے بے رغبتی پیداہوگی۔اگر بچہ مطالعہ اور کتب بینی کی طرف مثبت قدم بڑھائے یا پڑھنے میں روانی کا مظاہرہ کرے یاکسی اچھی کتاب کا انتخاب کرے تو آپ کھل کر اس کی تعریف کریں، اس کے کام کو سراہیں اور اس کی ہمت افزائی کریں۔ چونکہ بچے کی فطرت اچھل کود، کھیل اور مسابقہ پسند ہوتی ہے۔ لہذا پڑھنے لکھنے اور عبارت خوانی کو بھی کسی قدر اس رنگ میں ڈھالنا ان کے لیے شوق کا باعث اور رغبت کا سبب بنے گا۔ اس کی نوعیت کا تعیین موقع محل اور حالات کی رعایت کے اعتبار سے ہی زیادہ بہتر ہے۔

باتصویر قصوں اور حکایتوں کوپڑھنے کے لیے کمپیوٹر اور ٹیب وغیرہ کا محدود استعمال بھی مفید ہے۔ چونکہ یہ چیزیں اس کی دور کی ناگزیر اشیاء میں سے ہیں لہذا اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے۔ بال بچوں کے ساتھ اپنی مجلسوں اور نشستوں میں اپنے مطالعہ کی بعض چیزوں کو سنائیں، اس کے متعلق کچھ سوالات کریں اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کریں۔ آپ کی بحث کا انداز بالکل سادہ اور بچوں کے معیار کوچھوتا ہوا ہو۔ اگر ان کی طرف سے کوئی جواب آئے تو اس پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ بچوں سے قصہ کہانیاں سنیں اور اس میں پوری دلچسپی دکھائیں گویاکہ آپ پہلی بار سن رہے ہوں۔ انہیں اس بات پر راغب کریں کہ وہ اچھی اچھی کہانیاں، حکیمانہ باتیں اور چٹکلے پڑھنے کے بعد آپ کو سنائیں۔ جس طرح آپ کپڑے اور دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے بچوں کو اپنے ہمراہ لے جاناپسند کرتے ہیں ویسے ہیں آپ انہیں ان کے پسند کی یا اپنے ضرورت کی کتابیں خریدنے کی غرض سے انہیں اپنے ساتھ بازار لے جائیں۔

جس طرح آپ بچوں کو تفریح کی غرض سے میلوں اور نمائشوں میں لے جاتے ہیں ویسی ہی آپ انہیں کتابی میلوں میں بھی لے جائیں۔ اگر آپ کے شہر میں کتابی میلا لگتاہو تو آپ ضرور انہیں اپنے ہمراہ وہاں لے جائیں اور انہیں ان کے پسند کی کتابیں خریدنے میں مددکریں۔ اگر آپ کسی مقصد سے دوسرے شہر جارہے ہوں، بچے بھی آپ کے ہمراہ ہوں تو آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ اس شہر کے متعلق دلچسپ معلومات ہر مبنی کتاب یا انٹرنیٹ سے جمع کردہ مواد کا پرنٹ آوٹ انہیں دیں۔اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اسے پڑھیں اور معلومات کا تبادلہ کریں۔ اسی طرح رمضان، عیدالاضحی، عاشورہ اور دیگر مواقع پر انہیں اس سے متعلق کتاب یا مواد فراہم کرائیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 230 Print Article Print
About the Author: Sobia Shaukat

Read More Articles by Sobia Shaukat: 5 Articles with 1509 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: