اعمال کے بناؤ اور بگاڑ کا دارومدار نیت پر ہے

(Muhammad Akram Awan, )

ہرشخص کے لئے وہی ہے،جس کی اس نے نیت کی ہو۔اﷲ بچائے نفس کی مکاری سے،کیونکہ شیطان کے مکر اورنفس کے فریب میں آنے سے حقیقت دُنیا سے اُٹھ جاتی ہے اورپریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں سے کتنے ہیں جوحقیقت میں قوم کادردوغم دل میں رکھتے ہیں۔اس کا اندازہ اُن کے عملی اقدامات سے کیا جاسکتاہے۔اعمال کے بناؤاوربگاڑکامدارنیت پرہے۔جیسی نیت ہوگی ،اُس کے موافق نتیجہ ہوگا۔

سرگودہا کی باہمت خاتون گزشتہ کئی دہائیوں سے گھرکانظام چلانے کے لئے اوربچوں کاپیٹ پالنے کے لئے مردوں کے شانہ بشانہ محنت و مزدوری کررہی ہے۔وہ عظیم عورت بھیک مانگنے یا کسی کے سامنے پاتھ پھیلانے اورمددکی فریاد کرنے کی بجائے محنت میں عظمت اور محنت سے کمائے گئے رزق حلال میں اﷲ کی مددونصرت پریقین رکھتی ہے ۔

بے شک ایسے ہی لوگ ہیں جن کواﷲ جل شانہ اپنا دوست فرماتا ہے۔حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اﷲﷺنے ارشادفرمایااﷲ تعالیٰ اس بات کوپسندفرماتا ہے کہ اپنے بندے کوحلال رزق کی تلاش میں محنت کرتا اورتکلیف اُٹھاتا دیکھے۔( الد یلمی ، ترمذی )

سرگودہا شہرکی یہ غریب اوربے کس عورت سردیوں کے موسم میں خشک میوہ جات ،مونگ پھلی اور ریوڑیاں وغیرہ بیچ کر رزق حلال کماتی ہے۔ جب کہ گرمیوں میں گنے کا رس بنا کر فروخت کرتی ہے۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشادفرمایاجوچیزتم کھاتے ہو اس میں سب سے بہتروہ ہے جوتم اپنے ہاتھ سے کما کرکھاؤ اورتمہاری اولاد کی کمائی بھی جائز ہے۔(ترمذی،نسائی ابن ماجہ،مشکوٰۃ)

مہنگائی کے اس دوراور مردوں کے اس معاشرہ میں یہ باہمت عورت روزی کمانے کے لئے گھرسے نکلتی ہے اوردن بھر کی محنت مشقت کے بعداپنے گھروالوں اور بچوں کے لئے دووقت کی روٹی کا بندوبست کرتی ہے ۔ بے شک یہ ایک دُکھ بھری کہانی ہے کہ وہ عمر کے اس حصہ میں کام کرنے پر مجبور ہے اورسارا دن اُسے کن مشکلات،طعنوں اورلوگوں کی نظروں کاسامنا کرنا پڑتا ہے مگر اپنے بچوں کی کفالت اوررزق ِ حلال کے لئے تگ ودوکرنے والی یہ عظیم عورت ہمارے اور ہمارے حکمرانوں کے لئے ایک مثال ہے ۔
 
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایاجوآدمی اپنے بوڑھے والدین کے لئے روزی کماتا اوردوڑدھوپ میں رہتا ہے وہ خدا کے راستہ میں ہے اورجوآدمی اپنی ذات کے لئے محنت کرتاہے تاکہ لوگوں سے سوال نہ کرنا پڑے وہ بھی خدا کے راستہ میں ہے۔(بخاری ومسلم)

یہ غریب مگرباہمت عورت گزشتہ کئی سالوں سے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لئے اﷲ کے غیر(یعنی اﷲ کی مخلوق) کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنی ہمت اور محنت پر انحصارکرتی ہے ۔ اس طرح وہ اﷲ پر توکل،اپنی محنت اور خود انحصاری کی بدولت مشکل سے مشکل حالات میں اپنے بچوں کی کفالت میں کامیاب رہی ہے۔یہ توصرف ایک مثال تھی ورنہ اس گئے گزرے دور میں بھی ایسے بے شمار باعفت و حمیت خود داری،ایمانداری اورمحنت میں عظمت پر یقین اور عمل کرنے والے کثیرتعدادمیں موجودہیں،جن کی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے،بھیک مانگنے کے بجائے خودداری اورمحنت ومشقت کے ذریعہ رزق حلال کمانے کی ان گنت مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔کتنوں کوپیٹ بھر کے کھانا نصیب ہوتا ہے،کتنے ایسے ہیں جن کے پاس سردی سے حفاظت کے لئے کپڑے نہیں،کتنے ایسے ہیں جو لوگوں کے سامنے مانگنا تودورکی بات، قبول کرتے شرماتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف ہمارے حکمران جو اﷲ رب العزت کی طرف سے عطاء کی ہوئی طاقت اورمملکت پاکستان میں موجود بے پناہ قدرتی ذخائراور وسائل بروئے کار لانے کی بجائے ملک چلانے کے لئے اﷲ کے غیر(امریکہ ،سعودی عرب، چین،دیگر دوست ممالک اور آئی۔ایم ۔ایف)کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے باوجود ملک کانظام چلانے میں ہمیشہ ناکام اور نامراد رہے ۔

اب نیا پاکستان، تبدیلی، ملک کی تقدیراور غریب عوام کا مقدر بدلنے کے عہدوپیماں اور ترقی کے سہانے خواب دکھانے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے۔امید کی جارہی تھی شاید یہ لوگ محروم طبقہ کااحساس کریں گے،انہیں غربت اورذلت کی زندگی کے بجائے،ان کا معیارزندگی قدرے بہترکریں گے۔ لیکن نہ تو غریب عوام کے حالات بدلے اور نہ پاکستان کے حالات میں بہتری آئی ہر دن بلکہ ہر لمحہ گزشتہ لمحہ سے بدترہوتا جارہاہے۔ اپنے سابقین کی طرح پاکستان تحرین انصاف کی حکومت نے بھی عوام کو سب سے پہلے ملک مقروض ہونے اورخزانہ خالی ہونے کی حال دُہائی شروع کردی ۔بجائے اس کے کہ قوم کی لوٹی دولت واپس لاتے اورمفلوک الحال عوام کوریلیف دیتے،اُلٹا مہنگائی ،نئے ٹیکس، بجلی،تیل ،گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کئے جانے سے غریب عوام کی کمرتوڑنے کی رہی سہی کسربھی پوری کردی۔
سابقہ ادوار کے حکمران ،وزراء سمیت جس کسی نے قومی خزانہ لوٹا،یا کسی طرح بھی قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا۔ ہر ایک سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے کیونکہ اگر ان کے خزانوں میں پڑی لوٹی ہوئی دولت کا کچھ حصہ غریب اور مفلوک الحال عوام تک پہنچ جائے تو اس ملک کے غریب عوام کو راحت کاسانس لینے کا موقع مل سکتا ہے۔ بہرحال اس سب کے باوجود،پاکستان کے عوام کی موجودہ حکمرانوں سے وابستہ توقعات اوراُمیدیں ابھی قائم ہیں ، وہ سمجھتے ہیں،کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا،حالات بہترہوجائیں گے، ان سے کیے گئے و عدے پورے ہوں گے ،انہیں کچھ ریلیف ملے گا،مگرکیسے ؟موجودہ حالات کودیکھا جائے توفی الحال اورمستقبل قریب میں توایسی کوئی بات نظرنہیں آتی۔

حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ خوشخبری ہے اخلاص والوں کے لئے،کہ یہ حضرات ہدایت کے چراغ ہیں جن کی وجہ سے ہرسیاہ فتنہ ہٹ جاتا ہے۔(ترغیب)

حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھ کوآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یمن کا حاکم بنا کر بھیجاتومیں نے عرض کیایارسول اﷲ ،صلی اﷲ علیہ وسلم مجھ کوکچھ نصیحت فرمادیجئے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایااپنے دین میں اخلاص رکھوتم کوتھوڑاعمل بھی کافی رہے گا۔(ترغیب عن الحاکم)

ہرشخص کے لئے وہی ہے،جس کی اس نے نیت کی ہو۔اﷲ بچائے نفس کی مکاری سے،کیونکہ شیطان کے مکر اورنفس کے فریب میں آنے سے حقیقت دُنیا سے اُٹھ جاتی ہے اورپریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں سے کتنے ہیں جوحقیقت میں قوم کادردوغم دل میں رکھتے ہیں۔اس کا اندازہ اُن کے عملی اقدامات سے کیا جاسکتاہے۔اعمال کے بناؤاوربگاڑکامدارنیت پرہے۔جیسی نیت ہوگی ،اُس کے موافق نتیجہ ہوگا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 273 Print Article Print
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 90 Articles with 30612 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: